کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور

حضرتِ علامہؒ نے فرما رکھا ہے کہ

یہ نقطہ میں نے سیکھا بو الحسن سے

کہ جاں مرتی نہیں مرگِ بدن سے

اِس سب کے باوجود سچائی یہ ہے کہ درویش کو موت ہمیشہ ایک بھیانک بلا کی صورت دکھائی دی ہے، شاید پسِ پشت کسی بڑے مقصد کی کار فرمائی ہے کہ اپنا اصل مدعا، اصل مقصد یا زندگی بھر کی فکری ریاضت کے بعد جو بڑی سچائی ہاتھ آئی ہے کم از کم وہ اپنے ہم نفسوں تک پہنچا تو لوں، پھر چلوں۔ ان دنوں کورونا کے باعث سینکڑوں ہزاروں انسان موت کی خوفناک وادی میں جس بےقدری سے دھکیلے جا رہے ہیں، سائیں لوک کا کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ اے موت تو کتنی ظالم ہے، ہنستے بستے گھروں کو اُجاڑ دیتی ہے۔

قدرت سے اپنا یہ شکوہ لےکر درویش ایک دن بابا جی اشفاق احمد کے پاس گیا اور کہا، بچپن سے سنتا چلا آ رہا ہوں کہ مومن موت سے نہیں ڈرتا، بابا جی کہنے کو یہ بات بہت اچھی ہے، ناچیز بھی یہی کہے گا لیکن سچائی یہ ہے موت کا بھیانک اور مکروہ چہرہ خوفزدہ کر دینے والا دِکھتا ہے، اس حوالے سے آپ کے احساسات کیا ہیں؟ بولے توجیہات تو اس پر بہت کی جا سکتی ہیں مگر بات آپ کی درست ہے میںبھی جب اس کا تصور کرتا ہوں تو یہی سوچ ابھرتی ہے کہ یہ نامراد دور ہی رہے۔

افسوس آج دنیا کے کروڑوں انسان اس کے خوف سے گھروں میں دبکے بیٹھے ہیں، ان دنوں چین کے شہر ووہان سے کورونا وائرس نام کی جو بلا اُٹھی ہے، دیکھتے ہی دیکھتے اُس نے کرئہ ارضی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اوروں کے لیے تو اپنوں، بیگانوں کی تمیز ہوگی لیکن ’’انسانوں کے نام‘‘ لکھنے اور بلا تمیز مذہب و ملت، نسل و قوم تمام انسانوں سے محبت کرنے والے کو جو اذیت ان دنوں پہنچ رہی ہے اس کا بیان کن لفظوں سے ہو۔ امریکہ، اٹلی، اسپین، انگلینڈ اور ایران سے جو تفصیلات آ رہی ہیں وہ دل دہلا دینے والی ہیں، قدرت سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے، اس اندھی بلا نے کسی کا مذہب پوچھا ہے نہ شہریت، نہ قومیت۔ مذاہبِ عالم کے وہ عظیم مراکز جہاں اہلِ ایمان اپنی جسمانی و روحانی بیماریوں سے شفا یابی کے لئے گڑگڑاتے ہوئے جاتے تھے آج بلا تمیز سب لاک ڈاؤن ہیں۔ یہود کی دیوارِ گریہ، مسیحیوں کا بیت اللحم، ہندوؤں، بدھوں اور سکھوں کے متبرک ترین مقامات، سعودی عرب اور جمہوریہ مصر جیسے قائدانہ کردار ادا کرنے والے عرب ممالک نے حج ہی نہیں آمدِ رمضان سے قبل ہی نمازِ تراویح کی مساجد میں ادائیگی روکنے کے اعلانات کر دیے ہیں اور پنجگانہ جماعت پر پہلے ہی پابندی ہے۔

اس تمام تر صورتحال کو انسانوں سے محبت کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے اور مذہب کے مقدس نام کو بزنس کے لیے استعمال کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ تمام عقیدے، تمام نظریے انسانی زندگیوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ویسے تو زندگی اور موت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ موت نہ ہوتی تو زندگی کی خوبصورتی، رعنائی بھی نہ ہوتی لیکن قدرت کے لئے کیا مشکل تھا جو ہر آنے والے کو سنبھلنے کی مہلت تو ملتی۔ ہر انسان کے دل میں کچھ ارمان ہوتے ہیں، کچھ مقاصد ہوتے ہیں، اپنے عزیزوں اور پیاروں کے حوالے سے کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، کتنی اچھی اور سکون کی موت ہو جو انسان ان سب سے نبرد آزما ہو کے جائے، مرزا غالب کیا خوب فرما گئے ہیں۔

کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور

مرزا کا یہ شعر تو ہزار اشعار پر بھاری ہے:

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

دنیا بھر میں جس بےدردی سے بےگناہ انسان مر رہے ہیں وہ تو دردناک ہے ہی مگر جب مسیحائی شعبۂ طب سے وابستہ خواتین و حضرات ان دکھی انسانوں کو بچاتے ہوئے بیماری کا شکار ہو کر مرتے ہیں تو غم دوگنا ہو جاتا ہے۔ وطنِ عزیز میں کورونا کا پہلا شکار گلگت بلتستان میں ایک نوجوان ڈاکٹر اسامہ بنا جو دوسروں کو بچانے کی جدوجہد میں خود موت کے منہ میں چلا گیا۔ ایسی فضا میں وہ لوگ کس قدر ظالم ہیں جو اس وبا یا بیماری کو خدا کا عذاب یا مرنے والوں کے گناہوں کی سزا قرار دیتے ہیں، خدا تو محبت کا نام ہے پھر قدرتی آفات زلزلوں، سیلابوں یا بیماریوں کو اس منفی رنگ میں کیوں پیش کیا جاتا ہے؟ قابلِ تحسین ہیں وہ انسان جو ان آفات سے بچاؤ کی تدابیر کرتے ہیں۔ کسی زمانے میں جب سائنس کی اتنی ترقی نہیں ہوئی تھی معمولی بیماریوں سے لاکھوں انسان مرجاتے تھے، ہیضہ، ٹائیفائیڈ یا ٹی بی سے موت ہو جاتی تھی، گائنی کے شعبہ میں جب انسانی شعور نے سی سیکشن کی آگاہی حاصل نہیں کی تھی تو زچہ و بچہ میں سے کوئی ایک یا دونوں ہی مر جاتے تھے۔ ذرا اُس دور کا تقابل آج کے ترقی یافتہ مہذب انسانی سماج سے کیجئے آپ عظمتِ انسانی اور اس کی شعوری جدوجہد کے سامنے جھک جانا چاہیں گے۔ یاد رکھیں کہ اس موذی وائرس کی ویکسین بھی آخر انسانوں نے ہی نکالنی ہے۔ یہ ہے وہ سوچ جو انسانی اموات پر درویش کو مغموم رکھتی ہے، چاہے یہ کسی بیماری کی وجہ سے وقوع پذیر ہو یا انسانیت سے گرے ہوئے کسی ظالم وحشی کی سوچ کا ظلم اس درندگی کا باعث ہو۔ اِن کی تباہ کاریوں سے کسی بھی دلِ درد مند کا دکھی ہو جانا فطری عمل ہے-Afzaal-Rehan-Jang