زلمے باجوہ ملاقات

پاکستان نہ صرف ہمسایہ ملک افغانستان بلکہ پورے خطے میں ہمیشہ سے امن و استحکام کا خواہاں رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ طالبان مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے حالیہ افغان امن معاہدے میں بھی اسلام آباد نے مخلصانہ کوششیں کیں جنہیں عالمی سطح پر تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ سراہا بھی گیا۔ افغانستان میں امن کی اسی دیرینہ خواہش کے پیشِ نظر گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کے مابین ہونے والی ملاقات میں بھی پاکستان کی جانب سے افغان امن کے تناظر میں کی جانے والی امریکی کوششوں کی مکمل حمایت کی گئی جس کا اعتراف امریکی سفارتخانہ سے جاری کردہ بیان میں کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوجی قیادت نے تنازع کے حل کے لیے سیاسی مفاہمت کے اپنے عزم اور امریکی کاوشوں کے لیے اپنی حمایت کو دہرایا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ امریکی نمائندے کا دورہ امریکہ کی جانب سے 29فروری کو طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر عملدرآمد کے لیے کی جانے والے کوششوں کی ہی ایک کڑی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہونے والی ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، افغان مہاجرین کے معاملے اور افغان مفاہمتی عمل سمیت علاقائی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر آرمی چیف نے بجا کہا کہ کورونا وائرس کی صورتحال میں ہمیں افغان امن عمل کے لیے حاصل شدہ کامیابیوں کا راستہ چھوڑنا نہیں چاہیے۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے موجودہ صورتحال میں بین الاقوامی برادری سے ترقی پذیر دنیا کے مسائل دور کرنے میں مدد کی اپیل بھی ملاقات میں زیر گفتگو رہی۔ یہ نہایت خوش آئند امر ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں افغانستان میں امن کیلئے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں امید کی جا سکتی ہے کہ اگر فریقین نے اسی طرح تدبر سے کام لیا تو وہ وقت دور نہیں جب افغان قوم بھی امن کی فضا میں سانس لے سکے گی-Jang-editoria