آفتاب اقبال کا اصل چہرہ بے نقاب، گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھادی، سنسنی خیز انکشافات

پہلے اخبارات میں اپنے کالم اور پھر مختلف ٹی وی چینلز پر اپنے مختلف پروگراموں کے ذریعے شہرت حاصل کرنے والے آفتاب اقبال آج تک دوسروں کی کرپشن پر بات کرتے آئے ہیں لیکن اب گھر کے بھیدی نے لنکا ڈھا تے ہوئے ان کی اپنی اصل کہانی بیان کر دی ہے اور ان کے نیوز چینل آپ نیوز میں کی گئی کرپشن کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے ۔
ان کے سابق ٹی وی چینل میں ملازمت کرنے والے سابق افسر اسد قادر نے ایک تفصیلی انٹرویو دیتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ باقاعدہ ایک پلان کے تحت کمپنی بنائی گئی تھی سام میڈیا ۔یہ کمپنی آفتاب اقبال کے بچوں کے نام سے تھی پرچیزنگ میں ہر چیزنگ پر کمیشن پانچ پرسنٹ سے کمیشن بڑھا کر پہلے دس پرسنٹ اور پھر 25 پرسنٹ کردیا گیا

۔آفتاب اقبال کے بھائی جنید اقبال سارے معاملات دیکھتے تھے ان کے دو خاص آدمی تھے سردار جاوید اور محسن بخاری

۔پرچیزنگ میں آفتاب اقبال کا اپنا بھتیجا سیکنڈ نمبر پر ہوتا تھا ۔الیکٹرونکس کی خریداری سے لے کر بلڈنگ کنسٹرکشن تک اور پھر فرنیچر کی خریداری سے دیکھ کر ڈیزل میں گھپلوں تک ہر جگہ گڑبڑ ہی گڑبڑ تھی ۔لاکھوں روپے مارکیٹ سے ادھار پر سامان لیا اور پھر ادائیگی نہیں کی گئی آج تک لوگ میری طرف دیکھتے ہیں اور میں لوگوں کا مقروض ہوگیا ہوں حشر والے دن آفتاب اقبال ان کے بھائی جنید اقبال سے حساب ضرور لیا جائے گا ۔

عقیل کریم ڈھیڈی امیر آدمی ہیں شروع میں عقیل کریم ڈھیڈی کو پتا نہیں تھا کہ یہاں کیا کچھ ہو رہا ہے دو مہینے بعد انہوں نے ایک بریگیڈیئر غلام مرتضیٰ کو بھیجا تاکہ آڈٹ کرایا جائے آڈٹ شروع ہوا تو جنید اقبال نے اپنے قریبی ساتھی سردار جاوید کو بھگا دیا ۔
چینل کے تمام کاموں کے لیے پیسہ کیش کی صورت میں آتا تھا -پانچ پانچ ہزار کے نوٹ کے پیکٹ آتے تھے بیگ میں ۔کروڑوں روپیہ آیا تھا ۔
اسد قادری نے اپنے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ میرا تعلق جرنلزم سے ہے اور پنجاب میں میرے بھائی شاہد قادر کا پبلک ریلیشن کے حوالے سے بہت نام ہے ۔وہ یاروں کے یار دوستوں کے دوست ہیں خدمتگار انسان ہیں تمام اچھے صحافی اور اینکرز ان کے ساتھ محبت کا رشتہ رکھتے ہیں میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ باتیں منظرعام پر لانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ میرا رب بھی کہتا ہے کہ حق کے لئے آواز اٹھاؤ اس لئے میں آفتاب اقبال اور ان کے بھائی جنید اقبال کے بارے میں سب کچھ بتانا چاہتا ہوں گلبرگ لاہور میں جب آفس بنایا تو میرا انفارمیشن ٹیکنالوجی I.T نیٹ ورکنگ کے بارے میں بھی کچھ تجربہ ہے تو انہوں نے مجھے بلایا میں نے پرچیزنگ کے حوالے سے کچھ اچھی ٹپس دیں تو انہوں نے مجھے ملازمت کی آفر کردی 7 جنوری 2018 کو مجھے ملازمت کی آفر کی 24 جنوری 2018 کو میں آفتاب اقبال کے سی ای او والے کمرے میں ان سے ملا اور ملازمت شروع ہوگی دو مہینے بعد اندازہ ہوا کہ یہاں سامنے کچھ اور ہے اور پیچھے کچھ اور ہو رہا ہے ہر چیز پر یہ لوگ کمیشن کھاتے تھے جنید اقبال کے دو لوگ تھے سردار جاوید اور محسن بخاری جب مجھے ان کے معاملات کا پتہ چلا تو میں نے جنید اقبال کے سامنے ایک دن یہ بات کی کہ سردارجاوید کمیشن کھاتا ہے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کو یہ بات کس نے کی یہ بات باہر مت کیجئے گا میں اس کی کھال کھینچ لوں گا میں ابھی اس سے حساب لیتا ہوں ان لوگوں نے پینٹ والوں سے کام کروایا اس میں بھی کمیشن بنی لائژن کمپنی بنائی پانچ پرسنٹ کمیشن لیتے تھے پھر سیم ایم کمپنی بنائی ٹور ٹریول کے نام پر کمپنی بنائی گاڑیوں کے ڈیزل میں گھپلے کیے ۔

عقیل کریم ڈھیڈی اور حاجی نورمحمد ان کو مالی طور پر سپورٹ کر رہے تھے اور آفتاب اقبال چیف ایگزیکٹیو افسر بن کر فرنٹ پر ہوتے تھے ۔
میں یاد دلانا چاہتا ہوں کے آفتاب اقبال آپ نے ٹی وی پروگراموں میں ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر ہر ایک کی کرپشن کی بات کیا کرتے تھے سابق وزیراعظم اور ان کے بھائی کا بڑا ذکر کرتے تھے لیکن ان کے اپنے ادارے میں کیا کچھ ہوتا رہا یہ اچھی طرح جانتے ہیں ۔
برگیڈیر غلام مرتضی جب ایڈمن میں آئے میرا ان سے تعارف کرایا گیا بطور سینئر مینیجر ۔میں نے کمپنی کے لیے کافی کام کروائے واپڈا واسا ایل ڈی اے کے کام کرائے اور پروٹوکول کے حوالے سے کافی خدمات دیں ۔
سردار جاوید کو جن لوگوں نے بھاری کمیشن دیا تھا وہ لوگ بتاتے ہیں کہ انہوں نے سردارجاوید کی ویڈیو بھی بنا رکھی ہے بلڈر سے جو کام کرایا ان کی کمیشن لی گئی پھر ایک وقت آیا دو مہینے تک میری تنخواہ نہیں آئی جنید صاحب نے کہا لائزن کمپنی میں جاکر اپنا اپوائنٹمنٹ لیٹر لے آؤ میں نے کہا میں تو یہاں کام کرتا ہوں مجھے کہا گیا ہر چیز میں خریداری میں دس فیصد کمیشن لینا ہے میں نے معذرت کرلی میں نے اورینٹ کمپنی سے ڈیڑھ کروڑ روپے کے A.C خریدنے کے معاملے میں بھاری ڈسکاؤنٹ لے کر دیا میرے کہنے پر کریڈٹ دیا گیا انہوں نے صرف چند لاکھ روپے جنوری 2018 میں دیے باقی پیسے پھنس گئے جنید اقبال کو روز قیامت حساب دینا پڑے گا یہ لوگ صرف اپنا الو سیدھا کرتے رہے ۔
برگیڈیئر مرتضیٰ کو میں نے بتایا کہ کس طرح ڈیزل پر بھی ماہانہ لاکھوں روپے کھائے جاتے ہیں آفتاب اقبال نے اپنے فارم ہاؤس پر اسٹوڈیو بنایا وہاں گاڑیوں کا آنا جانا اور اضافی خرچے کرکے ادارے پر مالی بوجھ ڈالا گیا ایک ارب روپے میں جو پلازہ اور بلڈنگ بننی تھی یہ سارا آفس بننا تھا وہ خرچہ ایک ارب سے بڑھا کر دو ارب روپے تک چلا گیا تو پھر عقیل کریم ڈھیڈی بھی جاگ اٹھے اور انہوں نے آڈٹ شروع کرایا دبئی سے ایک براڈکاسٹ تجربہ کار شخص سہیل صاحب کی اچانک انٹری ہوگی اور انہیں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ بنادیاگیا پرچیزنگ کا ۔پھر آئی ٹی کی مختلف کمپنیوں سے سامان خریدنے کی باری آئی یونیک ون اور پھر معاون کمپنی آئی فرنیچر والے یاسر الیکٹرونک بن بکروغیرہ کی کمپنی آئی ہر کمپنی سے کمیشن لیا جا رہا تھا لالچی ٹھیکیدار تو 25 فیصد کمیشن دینے پر بھی تیار ہو جاتے تھے شیرافگن بھی ان کا خاص آدمی تھا جو لاجسٹک ہیڈ تھا ان کا رشتہ دار تھا ۔اس کے ساتھ بھی بہت سی کہانیاں جڑی ہوئی ہیں ۔
جو لوگ آفتاب اقبال کو ٹی وی پر دیکھتے ہیں وہ انہیں بہت آئیڈیل انسان سمجھتے ہیں لیکن جو لوگوں نے قریب سے جانتے ہیں وہ ان کی اصلیت جان چکے ہیں میرے چودہ لاکھ روپے کے واجبات ہیں ایک سال سے میرے پیسے دبائے ہوئے ہیں کمپنیوں سے ادھار میں نے دلایا اور مارکیٹ میں میں سامنے ہوں مجھے خود آفتاب اقبال اور ان کی بیٹی نے یہ کہا کہ دو دن میں سارے واجبات ادا کردیں گے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا میں آفتاب اقبال صاحب سے مخاطب ہوکر کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو اللہ نے بڑی عزت دی ہے لوگ سمجھتے ہیں آپ بہت بڑے اسکالر ہیں خدا سے ڈریں ۔آپ کو اللہ نے صلاحیت دی ہے بہت اچھا بولتے ہیں بولنا جانتے ہیں لیکن اندر سے منافق ہونے سے ڈریں ۔


میں عقیل کریم ڈھیڈی صاحب سے مخاطب ہوکر کہنا چاہتا ہوں کہ آپ چینل بیچ کر چلے گئے لیکن ملازموں کے تین مہینے کی تنخواہ نہیں دی 30 ہزار روپے والے پریشان ہیں ۔آخر میں کہنا چاہتا ہوں کے آج کل لوگوں کے پیر ہوتے ہیں کسی کا روحانی پیر ہے کسی کا اینکر پیر ہے اور کسی کا ایڈوائزری پیر ہے سچ بولنا -میرے رب کو پسند ہے ….. (جاری ہے)

Salik-Majeed-for-Jeeveypakistan.com