آٹا بحران انکوائری: ایف آئی اے نے ضمنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کردی

 وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 2018 کے دوسرے نصف حصے میں زائد گندم کی برآمد سے متعلق پاکستان زرعی اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) اور محکمہ خوراک پنجاب و سندھ کے فیصلے کے پیھچے چھپا جواز تلاش کرلیا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم ہاؤس کے دفتر میں جمع کرائی گئی گندم کے بحران سے متعلق انکوائری کمیٹی کی ضمنی رپورٹ کی تیاری میں کمیٹی نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار، قومی فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ سیکریٹری، پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے صوبائی فوڈ سیکریٹریز، پنجاب کے ڈائریکٹر فوڈ سیکریٹریز اور پنجاب کے سابق فوڈ سیکریٹریوں شوکت علی اور ظفر نصراللہ خان سے متعدد ملاقاتیں کیں
رپورٹ کے مطابق ضرورت سے زیادہ ذخیرہ، پرانے اسٹاک میں بیماری اور نقصان کا خدشہ، پبلک اسٹاک سے گندم کی تقسیم، نئی فصلوں کے لیے جگہ کی ضرورت اور بینک قرضوں پر بھاری مارک اپ نے صوبائی حکومتوں اور پاسکو کو برآمدات سے متولق سفارش پر مجبور کیا رپورٹ میں کہا گیا کہ آئندہ خریداری کے لیے جگہ اور مالی وسائل پیدا کرنے، مالی بوجھ کو کم کرنے اور پرانے اسٹاک کو آلودگی سے بچنے کے لیے تمام اداروں پر برآمدات کےلیے زور دیا گیا۔
پاسکو کے ساتھ پنجاب اور سندھ حکومتوں نے 2018 کے دوسرے نصف حصے میں گندم کی برآمد کی سفارش کرنے پر کیوں مجبور ہوئی؟ اس حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ وزارت قومی فوڈ سیکیورٹی، پاسکو اور دونوں صوبوں کے محکمہ فوڈ کے ریکارڈ کے مطابق پاسکو اور صوبائی حکومتوں نے گندم کی کافی مقدار کے سبب خاص طور پر پاسکو، پنجاب اور سندھ نے گندم کی برآمد کی سفارش کی۔
رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ 2018 کے آخر میں برآمد کی گئی گندم کے نتیجے میں کسی خاص شخص یا کمپنی کو فائدہ نہیں ہوا
پولٹری ایسوسی ایشن کو سرکاری شعبے سے زائد گندم کی تقسیم کے لیے منظوری سے متعلق سوال کی تحقیقات کرتے ہوئے ضمنی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاسکو ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام 16 درخواست دہندگان کو ان کے مطالبے کے مطابق متناسب تقسیم کی گئی اور کسی بھی جماعت کو کوئی غیر متناسب گندم فراہم نہیں کی گئی۔
خریداری سیزن کے دوران صرف 2 ماہ کے لیے پنجاب میں سیکریٹری کی تعیناتی اور وسیع پیمانے پر متعلقہ افسران و عملے کے تبادلے و منتقلی سے متعلق ضمنی رپورٹ میں کہا گیا کہ چاروں سیکریٹریوں کی پوسٹنگ کے لیے کوئی بھی سمری ارسال نہیں ہوئی جس میں محکمہ فوڈ کے سیکریٹریز کو ہٹانے سے متعلق کوئی احکامات ہوں۔
مجموعی طورپر خریداری بحران میں 25 لاکھ ٹن کے خسارے سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا کہ صوبہ سندھ کے لیے خریداری کا سیزن مارچ میں شروع ہوتا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ کابینہ نے سمری پر کوئی فیصلہ نہیں لیا اس طرح کوئی خریداری نہیں کی گئی، یہ ایک ناقابل معافی کارروائی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ یہ ان عوامل سے جڑا ہوا نہیں ہے جس نے پاسکو، پنجاب اور خیبر پختونخوا کو متاثر کیا۔ سندھ کی جانب سے گندم کی خریداری نہ کرنے کی وجوہات کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ سندھ کابینہ نے خریداری سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں لیا- رپورٹ کے مطابق محکمہ خوراک سندھ نے جنوری 2019 میں 50 ہزار ٹن گندم کی خریداری کے لیے سمری پیش کی تھی، سمری ایک ماہ بعد کابینہ کے سامنے رکھی گئی تھی لیکن کابینہ نے فوری فیصلہ نہیں لیا۔
رپورٹ کے مطابق ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ محکمہ خوراک سندھ بار بار سمری اور خصوصی نوٹ کے ذریعے درخواستیں دیتا رہا تاکہ 50 ہزار ٹن گندم کی خریداری کے لیے منظوری حاصل ہو، علاوہ ازیں محکمہ خوراک نے حکومت کو واضح طور پر باور کرایا کہ جلد فیصلہ ضروری ہے کیونکہ خریداری کے عمل کو جلد سے جلد شروع کرنے کی ضرورت ہے، محکمہ نے حکومت کو یہ بھی بتایا کہ پنجاب اور پاسکو نے خریداری کا عمل شروع کردیا ہے۔
تاہم سندھ کابینہ نے گندم کی اوپن مارکیٹ قیمت اور اس کے برآمد کے آپشن کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تاکہ اس کے مطابق خریداری سے متعلق فیصلہ لیا جاسکے۔
رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ مکمل طور پر ناقابل وضاحت تھا کہ گندم کی برآمد کی بنیاد پر کابینہ کس طرح خریداری کرسکتی ہے۔
واضح رہے کہ 5 اپریل کو ملک میں آٹے کے بحران اور اس کے نتیجے میں بڑھنے والی قیمتوں کی انکوائری کرنے والی کمیٹی نے کہا تھا کہ خریداری کی خراب صورتحال کے نتیجے میں دسمبر اور جنوری میں بحران شدت اختیار کرگیا تھا۔
کمیٹی نے کہا تھا کہ سرکاری خریداری کے طے شدہ ہدف کے مقابلے میں 35 فیصد (25 لاکھ ٹن) کمی دیکھنے میں آئی۔
رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سندھ میں گندم کی خریداری صفر رہی جبکہ اس کا ہدف 10 لاکھ ٹن تھا اسی طرح پنجاب نے 33 لاکھ 15 ہزار ٹن گندم خریدی جبکہ اس کی ضرورت و ہدف 40 لاکھ ٹن تھا۔