وزیراعظم عمران خان ،بلاول کے خلاف رپورٹنگ کرنے والے صحافی عزیز میمن کے قاتلوں کو کب لٹکائیں گے ؟

عمران خان حکومت میں آنے سے پہلے کہا کرتے تھے کہ ہماری حکومت آئی تو قانون سب کے لئے برابر ہوگا اور پاکستان تحریک انصاف کا بنیادی نعرہ بھی انصاف کی فراہمی تھا ۔
حکومت کے ناقدین وزیراعظم عمران خان سے سوال کر رہے ہیں کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن اور سانحے بارہ میں جیسے بڑے بڑے واقعات تو اپنی جگہ سانحہ ماڈل ٹاؤن اور وکلا کو زندہ جلانے کے واقعات تو درکنار ،سندھ کے سابق گورنر سابق جج سابق ایم ڈی پی ایس او ۔اور اس جیسے دیگر اہم افراد کے قتل کے واقعات الگ رکھ بھی دیے جائیں تب بھی عمران خان کو اپنی حکومت میں ہونے والے واقعات میں تو لوگوں کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے ۔
سوشل میڈیا پر بھی عمران خان کی حکومت سے انصاف کی فراہمی کے حوالے سے سوالات پوچھے جارہے ہیں سندھ کے علاقے محراب پور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی عزیز میمن کے قاتلوں کوکیفرکردار پہنچایا جائے گا یا نہیں ؟عزیز میمن نے بلاول بھٹو زرداری کے ٹرین مارچ کے دوران رپورٹنگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرایہ کے لوگ ہیں بعد میں مقامی سیاستدان اور پولیس کی جانب سے اسے دھمکیاں ملیں اور وہ تحفظ کی خاطر اسلام آباد چلا گیا لیکن اسلام آباد میں بھی شنوائی نہ ہوئی اور واپس آگیا اور پھر ایک دن اس کی لاش ملی سندھ حکومت نے انکوائری آرڈر کردی لیکن ابھی تک قاتلوں کا کچھ پتہ نہیں چل سکا ۔
وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ سال2019 اور سال 2020 کے دوران بلوچستان میں بھی دہشت گردی کے مختلف واقعات ہوچکے ہیں جن میں کافی کی قیمتی جانی نقصان ہوا وزیراعظم ہونے کے ناطے عمران خان کو ان تمام واقعات میں ملوث دہشتگردوں اور ان کے جہاں جہانبانی ملتے ہیں ان سب نیٹ ورک کو بے نقاب کرنا ہے اور بلوچستان کے ان شہیدوں کے گھر والوں کو انصاف دلانا ہے جو امید لگائے بیٹھے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت میں انہیں وہ انصاف ملے گا جو ماضی کی حکومتیں نہیں دے سکی