اوجی ڈی سی ایل او پی پی ایل کی نجکاری

اوجی ڈی سی ایل او پی پی ایل کی نجکاری
کیا وزیر اعظم عمران خان بھی کرپٹ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

ملک کا وزیر اعظم اس ملک کے سیاہ اور سفید کا مالک ہوتا ہے ، اور انہی کے فیصلوں پر ملک رواں دواں ہوتا ہے وزیر اعظم اپنے تمام فیصلے اپنی کابینہ جو کہ وزیروں ، وزیر مملکت اور مشیروں پر مشتمل ہوتی ہے جو کہ اپنے اپنے شعبوں اور وزارتوں کے ماہرین سے ضلاح اور مشوروں سے وزیر اعظم کو آگاہ کرتے ہیں اور اسی مشوروں کو بنےاد بنا کر وزیر اعظم سے فیصلے کرتے ہیں پھر اسکا نفاذ اور عملدرآمد ممکن ہوتا ہے وزیر اعظم فیصلے کرتے وقت تمام پہلوںپر غور کرکے ہی فیصلے کرتے ہیں اور ان فیصلوں کے اثرات تمام تر ذمہ داری وزیر اعظم اور ان کی کابینہ پر عائد ہوتی ہے ۔
OGDCL اور PPL کی نجکاری کا فیصلہ بھی وزیر اعظم اور ان کی کابینہ اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے ہی کیا ہے، ہر ملک کے ادارے State Enterprisesاس ملک کا ر شائد ہوتے ہیں اور مذکورہ اوادے حجم میں اتنے بڑے ہوتے ہیں اور اسکی پیداواراور پیداواری عمل نجی شعبہ کے حوالے نہیں کیا جاتا اتنی بڑی سرمایہ کاری نجی شعبہ نہیں کر سکتا اسلئے ان اداروں کا حصہ نجی شعبہ کو 5سے10فیصدی حصہ حصص کے ذریعہ نجی شعبہ کو دیا جاتا ہے۔
ان اداروں کو چلانے کی ذمہ داری حکومتی نمائندوں کی ہی ہوتی ہے ۔ حکومت اپنے اداروں کی نجکاری دو صورتوں میں کرتی ہے اول مذکورہ ادارہ نقصان میں چل رہا ہوتا ہے تاکہ ان اداروں کی نجکاری کرتے اپنے نقصان کو کم کرتی ہے اور چونکہ حکومتی ادارے انتظام کے حوالے سے نجی شعبہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
دوسری بڑی وجہ حکومت کو اپنے بجٹ کے نقصان کو پوراکرنے کےلئے ان اداروں کی نجکاری کرتی ہے تاکہ اس نجکاری سے حاصل ہونے والے رقوم سے اپنے اخراجات کو پورا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
OYDCLاورPPLمذکورہ دونوں ادارے نجکاری کی وجوہات پر پوری نہیں اترتی بلکہ دونوں ادارے صرف منافع بخش ہی نہیں بلکہ حکومت کو بجٹ اخراجات میں بھی اپنا حصہ ڈالتی ہیں۔ جب بھی کسی حکومتی ادارے کی نجکاری ہوتی ہے اسکا پیمانہ اسٹاک مارکیٹ میں حصص کے نرخے کے حوالے سے طے کیا جاتا ہے۔ کہ مذکورہ ادارے کے حصص کن داموںپر آسانی سے فروخت ہوجائےنگے۔
حصص مارکیٹ جب کوئی بھی کسی کمپنی کا حصص خریدنا چاہتا ہے چاہے وہ100حصص خریدے ےا 1000خریدے یہ خریدار پر منحصر ہے اس پر کوئی دباﺅ نہیں ہوگا لیکن جب اس طرح کی نجکاری ہوتی ہے جس میں حصص کی تعداد کڑوروں میں ہوتی ہے اس لئے اس طرح کی نجکاری مارکیٹ جو کہ اس وقت ہوتی ہے اس سے10سے15فیصد ی کم نرخ پر فروخت ہوتے ہیں۔
سب سے پہلے آپ یہ سمجھ لیں کہ مذکورہ دونوں کمپنیاں نہ ہی نقصان میں چل رہی ہیں اور نہ ہی ان کمپنیوں کے حصص فروخت ہونے سے جو رقم حاصل ہوگی وہ اتنی نہیں ہے جو کہ کسی مد میں کام میں آجائے بلکہ آگے آپ کو بتاﺅں گا کہ مذکورہ نجکاری سے زےادہ بغیر ان اداروں کی نجکاری سے وصول ہوسکتی ہیں۔
جب کوئی ادارہ نقصان میں نہیں چل رہا ہے اور نہ ہی مذکورہ نجکاری سے وہ رقم حاصل ہو جہ کہ مذکورہ کمپنیاںنہ دے سکیں پھر مذکورہ عمل سے کرپشن کی ہی بو آتی ہے جوکہ اس کی وضاحت آگے آئے گی اور مذکورہ نجکاری میں کرپشن ہی ہے۔اب آپکو OGDCLکا کمپنی Profileبتاتا ہوں تاکہ یہ واضح ہوجائے مذکورہ نجکاری سے کتنی رقم حاصل ہوگی اور اس رقم کی کیا حیثیت ہوگی۔
OGDCLکے کل حصص کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 4ارب30کڑور حصص ہے، مذکورہ حصص کی تعداد میں ایک اندازے کے مطابق حکومتی حصہ

70فیصدی ہے ۔ حکومت اپنے حصص کی تعداد سے 10فیصدی حصص فروخت کرنا چاہتی ہے اور کل تعداد کا 7%فیصدی حصص فروخت کرنا چاہتی ہے۔
اس حساب سے حکومت ایک اندازے کے مطابق 30کڑور حصص فروخت کرنا چاہتی ہے ، موجودہ وقت جبکہ حصص مارکیٹ 40فیصدی سے زےادہ گراوٹ کا
شکار ہے کلOGDCLحصص کی کل قیمت 76روپے کچھ پےسے تھی اگر حصص مارکیٹ کی گراوٹ ختم بھی ہوجائے اس وقت OGDCLکے حصص کی قیمت 100روپے سے100روپے رہے گی۔
جب کہ مذکورہ تعداد فروخت کرنے کےلئے پیش کی جائے گی اس وقت حصص مارکیٹ میں مذکورہ کمپنی کے حصص 10سے15فیصدی کم نرخ پر ہیں آفر کی جائے گی اس طرح اگر30کڑور حصص فروخت (نجکاری) ہوجائے جس سے حاصل ہونے والی رقم صرف 30ارب روپے ہی وصول کی جائے گی جسکا اندازہ ہے۔
PPLکا Profileاگلے ٹائم میں تفصیل سے ذکر کروں گا۔کچھ ہیں بطور بیان کرتا ہوں ، PPLکے 5فیصد ی حصص فروخت کرنے (نجکاری)حکومت جاری ہے جس سے ایک اندازے کے مطابق 120ارب روپے حاصل ہونگے۔
جسکی تمام تفصیل اگلے کالم میں لکھوں گا وےسے دونوں اداروں کی صورتحال ایک طرح کی ہی ہیں۔
اگر یہ سمجھا جائے کہ مذکورہ دنوں اداروں کی نجکاری سے حاصل ہونے والی رقم 50ارب روپے سے زےادہ حاصل نہیں ہوگا جسکا اندازہ ہے مذکورہ رقم ند بجٹ خسارہ کم کرنے میں زےادہ مددگار ثابت نہیں ہوسکتی چونکہ بجٹ خسارہ ہزاروں ارب روپے میں ہے۔
اگر دونوں ادارو ں کی نجکاری نہ بھی کی جائے پھر بھی مذکورہ اداروں سے مذکورہ رقم50ارب سے10(دس)جی ہاں دس گنا رقم بغیر نجکاری ےا بغیر کچھ کئے ہوئے حاصل ہوسکتی ہے اور یہی کرپشن ہے جو کہ مذکورہ حصص خریدنے میں50ارب روپے ادا کرے گا رہے 200ارب روپے کا کریڈٹ اوروں کی صحیح پالیسی ہونے پر مل جائے گا، ےعنی مذکورہ Investmentسے چار گنا رقم مل جائے گی اور یہی اسمیں کرپشن کا پہلو ہے۔
جب اگر نجکاری کئے بغیر ہی50ارب کی بجائے500ارب حاصل ہوجاتے ہیں پھر کوئی بھی اپنے اثاثے اس طرح اونے پونے دام میں فروخت نہیں کرتا ہے۔
اب آپکو یہ بتاتا چلو کہ مذکورہ ادارہOGDCLکی حصص کی کمپنی Worthکیا ہے ، OGDCLکی کمپنی پالیسی اگر صحےح کردی جائے پھر مذکورہ ادارہ کا حصص400روپے پر پہنچ سکتا ہے۔لیکن گذشتہ 8سے10سال سے اسکی منافع تقسیم کرنے کی پالیسی کو ان Malafideگروہ نے اس طرح رکھی ہوئی ہے کہ مذکور ہ ادارے کا حصص 100سے 110روپے کے درمیان رہے۔
مذکورہ گروہ کا سب سے پہلایہی کام ہے کہ ان اداروں کی نجکاری کی جائے تاکہ مذکورہ ادارہ رکھے قبضہ میں آجائے جسکی قیمت جو کہ اس گروہ کو ادا کرنی ہے وہ صفر ہے۔
مذکورہ اداروں میں کرپشن کا حساب لگاےا جائے وہ ایک اندازے کے مطابق 1000ارب روپے بنتی ہے مذکورہ کرپشن کی ذمہ داری وزےر اعظم عمران خان صاحب اپنے اوپر لیکر اسے قبول کریں گے جوکہ نجکاری کا فیصلہ کی منظوری وزیر اعظم عمران خان نے ہی دی ہے۔
مذکورہ کرپشن میں بغیر خریدو فروخت نوازنے کےلئے Financial Adviser کی تقرری کے لئے درخواستےں 2اکتوبر 2019ءوصول کی گئی ہیں اور اسکی تنخواہ کی مقرر کی گئی جسکا کہیں کوئی اعلان نہیں ہے، لیکن Financial Advisorکے حصص کے لئے رکھا جاتا ہے اسکی تنخواہ 50لاکھ روپے ماہانہ سے کم نہیں ہوسکتی دونوں اداروں کےلئے الگ الگ Financial Advisorکی درخواستےں وصول کی گئی ہیں جو کہ کسی کونوازنے کی پالیسی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اب ذکر D.G Private Sectorکا ان سے جب بھی رابطہ کیا جاتا ہے وہ کبھی سیٹ پر ہی نہیں ہوتے اور کبھی ان کو واش روم کا خیال آتا ہے۔
اس طرحD.Gصاحب نے کبھی بھی نجکاری ےا Financial Advisorکے حوالے سے کوئی معلومات دی ہیں۔
وزےر اعظم صاحب معیشیت کو سمجھنا اور اس کے حوالے سے کوئی پالیسی بنانا بہت مشکل ہے چونکہ آپ کے ارد گرد کون لوگ ہیں جسکا پتہ آپکو ہے جنہوں نے
مذکورہ اداروں کی نجکاری کا آپ کو مشورہ دیا ہے آپ کرپشن کو جتنی نفرت سے دیکھتے ہیں آپ کے ارد گرد مشورہ دےنے والے آپ کو پھسانا چاہتے ہیں۔
گذارش صرف یہ ہے مذکورہ دونوں اداروں کی نجکاری فوراََ ختم کی جائے بغیر نجکاری کے دونوں کمپنیوں سے ایک اندازے کے مطابق 500ارب روپے حاصل ہو سکتے ہیں۔
جو تا کہ بھی رقم کی گئی ہے اسکا تمام تر ثبوت موجود ہےں کالم کی طوالت کی وجہ سے اور ان باتوں کی تشریح صرف لکھنے سے نہیں ہوسکتی لیکن اگر ثابت کرنے کا کہا جائے گا وہ ثبوتوں کے ساتھ پیش کردیئے جائےنگے۔
وزیر اعظم صاحب نجکاری اس طرح ہوتی ہے کہ90ارب کا مال 30ارب روپے میں فروخت کرنے نکلے ہیں ان پیسوں کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ بلکہ اس سے دس گناہ آپ کو مذکورہ ادارہ وےسے بھی فراہم کر سکتا ہے۔
اگر معاشہ فیصلہ اس طرح کرنے میں ہے پھر آپ اور آپکی کا بینہ کو اپنی ذمہ داریوں کے حوالے سے سوچنا چاہےے۔

محمد ہارون حسن فتہ