چینی کا بحران اصل حقا ئق

چینی کا بحران اصل حقا ئق

چینی کا بحران ہما رے ملک میں نیا نہیں ہے چینی کے بحران کی تا ریخ بہت پرانی ہے اور بر آمد سسبڈی کی تا ریخ نہی نہیں ہے دو نو ں ہمیشہ ہی سا تھ سا تھ ہو تی ہے ۔ چینی کا بحران شطر نچ کی وہ بازی ہے جو کہ کبھی ختم ہو نے کا نام ہی نہیں لیتی ہے بلکہ یہ سا لو ں چلتی رہتی ہے صر ف وقفہ وقفہ سے چالیں چلکر بڑ ھا جا تا ہے ۔
ہمارے ملک میں چینی کی کھپت سالانہ 85 لاکھ ٹن ہے جبکہ ہما رے ملک میں چینی کی پیداوار کاتمام دردو مداد چینی کے کارخانہ دار کی صوابدید پر مخصر ہے کہ کب چینی کی پیداوار زیا دہ کر نی ہے اور کب چینی کی پیدوار کم کر نی ہے ۔
سب سے پہلے دنیا میں گنے کی فی ایکٹر پیدوار ار گنے سے حا صل ہو نے والی چینی کا تنا سب کیا ہے اسکا جا ئزہ لیں گے جس سے
صو رتحا ل واضح ہو نے میں مد د ملے کی اور یہ سمجھنے میں بھی آسا نی ہو گی چینی کا بحران ہما رے ملک میں کیو ں ہو تا ہے اور چینی پر سسبڈ ی دینے کی ضرورت بھی کیو ں محسو س ہو تی ہے ۔
دنیا میں گنے کی فی ایکڑ پیدوار 1200 من فی ایکڑ تک ایک اندازے کے مطا بق ہے جبکہ ہما رے ملک میں گنے کی فی ایکڑ پیدوار ایک اندازے کے مطا بق 600 سے 800 من فی ایکڑ پیداوار ہے ۔دنیا میں گنے سے چینی کی پیداوار یعنی ریکو ری 20 فیصد سے 22 فیصد یعنی کہ ایک من گنے سے چینی 8 کلو سے 9 کلو بنے گی جبکہ ہما رے ملک میں گنے سے چینی کی پیداوار 10 فیصد سے 12 فیصد تک ہے جسکا اندازہ ہے یعنی ایک من گنے سے 4 کلو سے 4 1/2 کلو چینی کی پیداوار ہو گی یعنی ہما رے ملک میں گنے سے چینی کی ریکو ری انتہا ئی کم ہے ۔
ہما رے ملک میں چینی کا بحران ایک اندازے کے مطابق چا ر سال کے بعد آتا ہے آپ 25 سالہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں نتیجہ ہی ملے گا جو کہ یہاں لکھا ہوا ہے ۔
ہما رے ملک میں چینی کے بحران آنے کی وجو ہا ت پر نظر ڈا لتے ہیں پھر اندازہ ہو جا تا ہے کہ اسکے پیچھے اصل کہا نی کیا ہے ۔ چینی کے
کا ر خانہ دار اور گنے کے کا شتکا ر جو کہ چینی کے کا ر خا نہ داروں کے ہمیشہ دبا ﺅ میں ہو تے ہیں اور جو چینی کے کا ر خانے دار کسا نو ں پر دبا ﺅ ں ڈالتے ہیں وہ وہی کر تے ہیں ۔
آپ نے گنے کی بوا ئی کی دوران اپنے سناہو گا کہ گنے کی بوائی کا ٹن کے بوائی والے علاقے میں بھی گنے کی کاشت ہو رہی ہو تی ہے وجہ یہ ہے کہ چینی کے کا رخانہ دار پر چا ر سال میں ایک دفع چینی کی پیداوار 15 سے 20 لاکھ ٹن زیا دہ کر دیتے ہیں ملکی کھپت کے علا وہ یہ پیداوار ملو ں کے گوداموں میں دوسر ی کر شنگ سیز ن کے وقت پڑ ی ہو تی ہے ۔
پھر چینی کے مل ما لکا ن شو ر کر نا شروع کر دیتے ہیں کہ مذ کو رہ چینی کا اسٹا ک جو کہ 10 لاکھ ٹن سے 15 لاکھ ٹن ہو تا ہے جسکی مالیت ایک اندازے کے مطا بق گذ شتہ 60 ارب روپے سے زیا دہ ہے ۔ چونکہ ہما را روپیہ جا م ہو گیا ہے چینی کے واضرمقدار میں اسٹا ک ہو نے کی و جہ سے مارکیٹ میں چینی کی فروخت میں کمی آنا شروع ہو جا تی ہے اسلئے مل ما لکا ن حکو مت سے مو جو دہ اضا فی اسٹا ک کی برآمد کی اجا زت کی مانگ کر تے ہیں جب حکو مت برآمد کے حوالے سے مشورے سے غو ر شر وع کر تی ہے اور بر آمد کی اجا زت دینے پر راضی ہو تی ہے پھر انکا مطا لبہ یہ ہو تا ہے کہ بین الا قوامی ما رکیٹ میں چو نکہ چینی کی قیمت کم ہو تی ہے جسکی وجو ہا ت آگے آئیگی اسلئے چینی کے کا ر خا نے دار سسبڈ ی کی ڈیما نڈ کر تے ہیں ۔ چونکہ حکو مت میں چینی کے کا ر خانہ دار کا حصہ زیا دہ اور اہم ہو تا ہے اس وجہ سے حکو مت انکا مطا لبہ ماننے پر مجبو ر ہو تی ہے حکو مت میں انکا کمر دار اسلئے اہم ہے کہ چینی کے کا ر خانہ زیا دہ تر جنو بی پنجا ب میں لگے ہو ئے ہیں اسلئے جنو بی پنجا ب کی سیا سی حیثیت سے کوئی انکا نہیں کر سکتا ہے اور
حکو مت ان چینی کے کا ر خانہ داروں کا سیا سی دبا ﺅ برداشت کر نے کی پو زیشن میں نہیں ہو تی اسلئے ان چینی کے کا ر خانہ داروں کی با ت کذ شتہ 25 سال سے ما نی جا رہی ہے اور اسکے اثرات کیا ہو تے ہیں جو کہ عوام برداشت کر تی ہے۔
بین الاقوامی ما رکیٹ میں چینی کی قیمت ہمیشہ ہما رے مقا بلے میں کم ہو تی ہے جسکی وجہ پاکستا ن میں فی ایکڑ پیداوار 600 من سے 800 من فی ایکڑ پیداوار ہے جبکہ بیرونی مما لک میں فی ایکڑ پیداوار 1000 من سے 1200 من فی ایکڑ ہے ۔ اس طر ح گنے سے چینی کی ریکو ری دینے سے تقر یبا ً آدھی اسطر ح ہما رے ملک میں چینی کی پیداوار لاگت زیادہ ہو تی ہے ۔ دنیا میں چینی کی لاگت ہما ری لاگت سے 60 فیصد ہو تی ہے ۔
اسطر ح حکو مت ان کا رخانہ داروں کو بین الاقوامی مارکیٹ سے مقا بلے کے لئے سسبڈ ی دیتی ہے جب چینی کی برآمد کی اجا زت دی
جا تی ہے اس وقت بھی ہما رے ملک میں گنے کی پیداوار کم ہو تی ہے لیکن غلط بیا نی کر کے حکو مت کو یہ باور کر انے کی کو شش کی جا تی ہے کہ ملک میں گنے کی پیداوار زیا دہ ہے حا لا نکہ ایسا ہو تا نہیں ہے ۔ جس سال چینی کی برآمد ہو تی ہے اور اسکے آگے آئند ہ دو سا لوں میں بھی گنے کی پیداوار ہما ری کھپت سے کم ہو تی ہے اسطر ح چینی کے کا ر خا نہ دار تین سا لو ں کی چینی کی قیمت مین من ما نا اضا فہ کر تے ہیں اور ملک میں چینی کے نر خ بے تہا شہ بڑھ جا تے ہیں ۔
چینی کی بر آمد کے بعد چینی کا Carry Over صفر ہو جا تا ہے اور چینی کی Carry Over پو زیشن پر لا نے کے لئے تین چا ر سال لگ جا تے ہیں اور جب چینی کا اسٹا ک ملک میں Carry Over کی شکل میں آجا تا ہے پھر مل ما لکا ن چینی کی برآمد کی جا زت میں لگے جا تے ہیں ۔اور اسطر ح یہ سو گذ شتہ 20سالوں سے چل رہا ہے اور مل ما لکا ن اسکا نا جا ئز فائدہ بھی اٹھا تے ہیں مو جو د ہ برآمد کی اجا زت کے حوالے سے بات کی جا ئے پھر حکو مت نے 22 ارب روپے کی سسبڈی دی ہے جسکی انکواری اور فا رنز ک رپو رٹ حاصل کی جا رہی ہیں جبکہ اسی عر صہ یعنی بر آمد ات کے بعد عوام سے 222 ارب روپے چینی کے مل ما لکا ن نے لو ٹ لئے ہیں جسکی انکو اری کو ن کرے گا اسکا جواب کا قر ض حکو مت پر ہے
چینی کے مل ما لکا ن کا مو جودہ چکر کو ختم کر نے لئے جو پالیسی بنا نے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ جب کر شنگ میزن شروع ہو رہا ہو جب چینی کا Carry Over اسٹاک حکو مت کو خر ید نا ہو گا اور کر شنگ سیز ن کا نیا ما ں موجو دہ Carry Over اسٹاک سے بد لی کر نا ہو گا اور حکو مت کو Carry Over اسٹاک کی ادائیکی فوری کر دینی چاہیئے تا کہ مل ما لکا ن روپے کی فر ادانی کا شو ر نہ کر سکے اس طر ح حکو مت کو کم ازکم 2 مہینے کی ملکی کھپت کی چینی کا اسٹا ک اپنے پا س محفو ظ رکھنا ہو گا تاکہ عوام کو چینی کے حوالے سے لٹنے سے بچا یا جا ئے ۔
اس طر ح جب گنے کی بواکی ہو تی ہے جب حکو مت کو اندازہ کر نا ہو گا کہ جو بوائی ہو تی ہے اسکی پیداوار ملکی کھپت کے حوالے سے ملکی ضروریا ت پو ری کر نے کے لیے کا فی ہے یا نہیں ایک اندازے کے مطا بق ملک میں چینی کی کھپت سالانہ 80 سے 85 لاکھ ٹن سا لا نہ ہے ۔
اگر جب اندازہ ہو جا ئے کہ گنے کی پیدوار ملکی کھپت کے حوالے سے کم ہے پھر خام چینی کی در آمد کی اجا زت دینی چاہیے جسکے نر خ سفید چینی سے کم از کم 100 سے 150 ڈالر فی ٹن سے بھی زیا دہ کم ہیں ۔

اسی خام چینی کو کر شنگ سیز ن کے دوران ہی ریفا ٹن کر لینا چاہیے چونکہ کر شنگ سیز ن کے سروع میں شیر ہ کا ڈرم آدھے سے کم ہو تا ہے جسمیں کام چینی ملا کر ایسے ریفائن کیا جا سکتا ہے ۔ حا م چینی سے سفید چینی بنا نے کی پیداواری لاگت صفر روپے ہے اسطر ح ملک میںنہ ہی چینی کا بحران ہو گا اور نہ ہی چینی کے نر خ بڑ ھے گے ۔
اگر بوائی اور دوسرے عوامل کا خیا ل رکھ لیا جا ئے پھر ہم دو ارب ڈالر سالانہ چینی برآمد کر سکتے ہیں اسطر ح زرمبا رلہ کما سکتے ہیں امید ہے عوام سے لو ئے گئے 222 ارب روپے کی ذمہ داری بھی کسی کو لینی چا ہیئے اور مل مالکا ن کے 4 سالہ چکر سے نکلنا ضر وری ہے ۔
حکو مت اپنے 22 ارب روپے سبسڈ ی کے پیچھے تکی ہوئی ہے جبکہ عوام کے 222 ارب روپے سالانہ لو ٹ لئے گئے ہیں اسکی ذمہ داری وزیراعظم صاحب آپ پر ہے چونکہ چینی کی برآمدکی اجازت آپ نے دی تھی سبسڈی وفاقی حکومت پر ےا صوبائی حکومت اس سے کیا فرق پڑتا ہے ، پانی نالہ سے دیا جائے یا پھر نالہ سے پانی تو دیا گیا ہے اور نالہ ہمیشہ نالہ میں ہی گرتا ہے۔
ہمارے ملک میں زرعی پیداوار کے حوالے سے اگر کہا جائے پھر یہ مالا مال ہے صرف پالیسی صحیح بنانے کی ضرورت ہے یہ ہمیشہ ےاد رکھا جائے جو کہ ہر حکومت بھول جاتی ہے یہ ہمارا ملک زرعی ملک ہے اور ملک میں خوشحالی بھی زراعت کی صحیح پالیسی سے ہی آئے گی۔
60ارب روپے کے اسٹاک جو کہ Carry Overہے اسکے222ارب روپے سالانہ عوام ست لوٹتے ہیں اور 222ارب روپے کی سبسڈی
Haroon-Hassan-Fatta-Karachi