یہ تو کپتان کا کام ہے کہ اس نے کس کو کھلانا ہے

وفاقی وزیربرائے ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کیا غلط بات کی ہے یہ تو ساری اپوزیشن کہہ رہی ہے لیکن یہ تو کپتان کا کام ہے کہ اس نے کس کو کھلانا ہے کپتان کو اگر یہ لوگ پسند ہیں تو ٹھیک ہے تو بہت اچھی بات ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ تو کہا کہ عمران خان ایماندار آدمی ہے ون مین شو ہے ون مین آرمی ہے ایک آدمی کا نام پی ٹی آئی ہے ایک آدمی کا نام وزیراعظم ہے ،سپریم کورٹ نے تو اس کی تعریف کی ہے باقی آتے جاتے رہتے ہیں انہوں نے کہا کہ مہرے بدلتے رہتے ہیں یہ تو کپتان ہے کپتان فیلڈنگ بدلتا رہتا ہے اس میں تو سپریم کورٹ نے واجبی بات کی ہے کیونکہ دو برسوں میں عمران خان نے فیلڈنگ بہت بار بدلی ہے-سب اچھا ہے ادارے اچھے ہیں وزیراعظم ٹھیک ہے صدر ٹھیک ہے سارے ٹھیک کھیل رہے ہیں اور یہ جو اٹارنی جنرل نے کہا ہے یہ بات میں کابینہ میٹنگ میں لے کر جاؤں گا۔
مجھے ابھی یقین نہیں ہے کہ25 تاریخ کو فرانزک رپورٹ آئے گی کیونکہ لاک ڈاؤن ہے مگر وزیراعظم نے کابینہ میٹنگ میں دو مرتبہ کہا ہے کہ میں ان کو نہیں چھوڑوں گا رپورٹ آنے میں تھوڑے دنوں کی تاخیر ہوسکتی ہے لیکن یہ کیس اب عمران خان کے لئے جہانگیر ترین سے زیادہ ضروری ہے جہانگیر نہ تو کابینہ میں تھے اور انہوں نے کہہ دیا کہ میں ٹاسک فورس کا سربراہ ہی نہیں تھااگر نوٹیفکیشن ہے تو دکھایا جائے-