کھربوں پتی ملک ریاض نے اپنا ٹی وی چینل آپ نیوز کیوں بند کر دیا؟ میڈیا ہاؤسز میں کیا چل رہا ہے؟ میڈیا فراڈ کی کہانی

میڈیا انڈسٹری میں اس وقت مشکل دور چل رہا ہے کچھ ٹی وی چینلز بند ہوچکے ہیں کچھ اخبارات کے ملازمین کیدر ہو میں 40 فیصد کٹوتی کی گئی ہے افسر اداروں کے ملازمین ملازمت سے فارغ کیا گیا وہ اپنے واجبات کیلئے مظاہرہ کر رہے ہیں نوائےوقت کے ملازمین احتجاج کر چکے ہیں تنخواہ تاخیر سے مل رہی ہے نیوز ون کے ایک رپورٹر کی افسوسناک موت کے بعد وہاں تنخواہوں کی ادائیگی کا سلسلہ بہتر ہوا ۔حال ہی میں ملک ریاض نے اپنا ٹی وی چینل آپ نیوز اچانک بند کر دیا یہ ٹی وی چینل آفتاب اقبال نے شروع کیا تھا ۔آفتاب اقبال نے اس چینل میں اپنے بھائی جنید اقبال اپنے بھانجے بھتیجے اور بیٹی کے ذریعے انتظامات کو سنبھالا ہوا تھا جنید اقبال کے کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے خود کو متعارف کرانے والی ایک خاتون کا ملک ریاض کی بیٹی سے تلخ کلامی اور جھگڑا بھی ہوا تھا تب آفتاب اقبال کے گارڈز بھی اندر کمرے میں آ گئے تھے اور لوگوں پر ہتھیار تان لئے تھے ان سب واقعات کی سوشل میڈیا پر مختلف لوگوں نے ویڈیوز اور کہانیاں اپلوڈ کردی ہیں اور ہر آنے والے دن کے ساتھ آپ نیوز اور آفتاب اقبال کی انکشافات پر مبنی نئی کہانیاں سامنے آرہی ہیں جن کے ذریعے آفتاب اقبال کا اصل چہرہ اور ملازمین کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک اور رویہ سامنے آرہا ہے ۔

یاد رہے کہ پاکستان میں پچھلے ڈیڑھ دو سال میڈیا انڈسٹری کے لئے کافی مشکل ثابت ہوئے ہیں بڑی تعداد میں ملازمین اپنی ملازمتوں سے فارغ ہو چکے ہیں ماضی میں بھی اخبارات اور چینلز بند ہوتے رہے ۔آپ نیوز کو ملک ریاض نے سنبھال لیا تھا اچانک چیئرمین ملک ریاض کی طرف سے ایک ہاتھ ملازمین کو پڑھ کر سنایا گیا جس میں چینل کو فوری طور پر بند کرنے اور ملازمین کو تنخواہ پندرہ تاریخ تک مل جانے کے بارے میں بتایا گیا اس کے بعد میڈیا انڈسٹری میں ایک نئی بحث شروع ہوگئی کہ کھربوں پتی ملک ریاض کو اپنا نیوز چینل آپ ٹی وی کیوں بند کرنا پڑا ۔آپ نیوز کے سابق ملازمین نے ادارے کے شروع سے لے کر اب تک کے حالات کے بارے میں خاموشی توڑ دی اور مختلف انٹرویوز اور ویڈیوز کے ذریعے اپنی بات تمام صحافیوں اور میڈیا مالکان تک پہنچانا شروع کر دی ایسے ہی ایک سابق ملازم کا کہنا ہے کہ آفتاب اقبال نے پانچ گروپوں کے ساتھ یہ چینل شروع کیا ۔یہ گروپ ان کے دوستوں کی طرف سے سرمایہ کاری کر رہے تھے اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ آفتاب اقبال نے آپ بیتی کے نام سے ایک اور چینل شروع کرنے کا ارادہ بھی کیا تھا آفتاب اقبال کے والد ظفر اقبال جو ایک زبردست شاعر ہیں اور دال دلیے کے نام سے کالم بھی لکھتے ہیں ان کے کچھ شاعر دوست بے روزگاری سے تنگ آکر ظفراقبال کے پاس گئے تو انہوں نے آفتاب اقبال کے پاس بھیج دیا آفتاب اقبال نے اپنے اس چینل میں انہیں ملازم رکھ لیا جو ابھی لوچ ہی نہیں ہوا اور وہاں دو شاعروں کو ایک ایک لاکھ روپے کی نوکری پر رکھ لیا گیا نو دس مہینے وہاں رہے لیکن چینل نہیں نکلا اسی طرح ایک خاتون جو خود کو جنید صاحب کی کوآرڈینیٹر کہتی تھی وہ بھی وہاں پر موجود تھی اور اسی کا ایک دفعہ جھگڑا بھی ہوا تھا بعد میں ملک ریاض نے یہ چینل خرید لیا اور چھانٹیا کرنے کا فیصلہ کیا گیا بظاہر آفتاب اقبال کا اس چینل سے تعلق ختم کردیا گیا لیکن پروگرام کرتے رہنے کا وعدہ کیا گیا پروگرام کے عوض 2 کروڑ روپے ماہانہ پروڈکشن کے لیے لینے کی بات ہوئی ایک مرتبہ آخری دنوں میں جب آفتاب اقبال وہاں آئے تو کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی اور بات ہاتھا پائی کی نوبت آئی بڑی مشکل سے صورتحال کو سنبھالا گیا وہاں مبشرلقمان بھی موجود تھے اور ملک ریاض کی صاحبزادی بھی تھی ۔

ویڈیو ہاؤسز میں ابن بڑے بڑے پیکج پر لوگوں کو رکھا جاتا ہے اور پھراچانک چینل بند کر دیا جاتا ہے آخر اس کی وجہ کیا ہے سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ عام طور پر بڑے بڑے مالکان اور سیٹ یہ سمجھتے ہیں کہ چند چلانے کے لئے نامی گرامی اینکر رکھ لوں پہ چینل جاتا ہے اور دیکھا یہ گیا ہے کہ گاڑہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان نامی گرامی اینکرز کو چینلز میں انتظامی عہدوں پر بٹھا دیا جاتا ہے وہاں کا ان کے پاس تجربہ نہیں ہوتا اور وہ بیڑہ غرق کردیتے ہیں ڈاکٹر شاہد مسعود نے رائل چینل اور پی ٹی وی میں ایسے ہی ناکام تجربے کیے آفتاب اقبال بھی ایسے ہی تجربہ کرنے والوں میں شامل ہیں دراصل ان نامی گرامی لوگوں کو اپنے پروگرام تو اچھے انداز سے کرنے آتے ہیں لیکن ان کو یہ نہیں پتہ ہوتا کہ مارکیٹ میں کون اچھے رپورٹرز ہیں کون اچھے کیمرہ مین ہے ان لوگوں کے کام کی اہلیت کیا ہے یہ لوگوں کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں رکھتے اور اپنا حکم چلاتے ہیں اور اس میں گڑبڑ ہو جاتی ہے جن اداروں میں پروفیشنل لوگ انتظامی عہدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں وہ کام کو اچھی طرح چلاتے ہیں اور جو لوگ رپورٹرز اور کیمرہ مین سے کام لینے والے ہوتے ہیں وہ بھی پروفیشنل ہوتے ہیں انہیں پتہ ہوتا ہے کہ کسی خبر میں جب تک پانچ ڈبلیو اور ایک ایچ نہ ہو سٹوری پوری نہیں بنتی یہ بات ہر رپورٹر کو بھی پتا ہے اور ہر جنرل اس بیان چیزوں کو سمجھتا ہے ہے ۔دوسرا بڑا مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ اینکرز کی تنخواہ اور رپورٹرز اور جرنلسٹ کی تنخواہوں میں بہت بڑا فرق رکھا گیا جب کوئی اینکر ناکام ہوتا ہے یا انتظامی عہدے پر اس کا تجربہ ناکام ہوتا ہے تو وہ سب کو یہ ڈوبتا ہے