علیم خان کے صرف پاؤں نہیں پکڑے باقی ہر طرح سے منت کی کی گئی

علیم خان کی صوبائی کابینہ میں واپسی کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ علیم خان کو کن حالات میں اور کن مقاصد کے تحت واپس لایا گیا ہے سینئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ انتہائی مجبوری کی حالت میں عمران خان کی حکومت انہیں صوبائی کابینہ میں واپس لائی ہے مقصد صاف ظاہر ہے کہ ڈیمج کنٹرول کرنا ہے ظاہر ہے جہانگیر ترین چلے گئے ہیں اور ناراض ہو کر گئے ہیں وہ پارٹی میں اور حکومت میں توڑپھوڑ اور مسائل پیدا کریں گے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے عمران خان چاہتے ہیں کہ صوبائی حکومت پرسکون انداز سے کام کرے اس لیے علیم خان کو واپس لایا گیا ہے ایک سینئر رپورٹر کا کہنا ہے کہ انہوں نے علیم خان کے بس پاؤں نہیں پکڑے باقی ہر طرح سے منت سماجت کرکے اسے واپس لے آئے ہیں ۔

آنے والے دنوں میں عین ممکن ہے کہ جہانگیر ترین سے مقابلہ کرنے کے لیے خسرو بختیار اور مونس الٰہی کے نام فرانزک رپورٹ کی روشنی میں باہر کردیا جاۓ اور سارا نزلہ جانگیرترین پر گرے ۔علیم خان پارٹی کا پرانا اور سنجیدہ آدمی ہے اس نے پارٹی میں بہت کام کیا ہوا ہے اور جب اسے الگ کیا گیا تب بھی اس نے عمران خان کے لیے مسائل پیدا نہیں کیے بلکہ خاموشی سے وقت گزارا اور اب اسے اس خاموشی کا انعام مل گیا ہے اب وہ پنجاب حکومت میں سب سے بااثر اور طاقتور وزیر کے طور پر کام کرے گا اور عام تاثر یہ ہے کہ علیم خان ہی بااثر ترین وزیر ہوں گے اور ان کے ذریعے جہانگیر ترین کی لوبی کا مقابلہ کیا جائے گا۔