کیا سندھ میں گورنر راج لگانے کی دھمکی دی گئی ہے؟

کورونا کے خلاف سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کے تیزرفتار اقدامات کو اچانک جس طرح بریک لگی ہے اس پر پیپلزپارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کو سندھ میں گورنر راج لگائے جانے کی دھمکی دی گئی ہے جس کے بعد وہ اچانک بیک فٹ پر چلے گئے ہیں اور انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے تمام فیصلے ماننے اور انہیں صورتحال میں لیڈ کرتے رہنے کی بات کی ہے۔
وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کی باڈی لینگویج اچانک تبدیل کیوں ہوگئی ہے ۔پہلے تو وہ بڑے دبنگ انداز میں اعلانات کر رہے تھے اقدامات کر رہے تھے اور عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم تھے ۔
دوسری طرف وفاقی حکومت پہلے تو خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کو چوکےچھکے مارنے کی پوری اجازت تھی لیکن اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے اور وفاقی وزراء تابڑتوڑ حملے کر رہے ہیں علی زیدی ہوں ۔ فیصل واوڈا ہو ں۔ فردوس عاشق اعوان ہوں یا کوئی اور ۔ہر طرف سے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت اور حکومتی شخصیات کا ٹارگٹ سندھ اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نظر آتے ہیں جبکہ خود پیپلز پارٹی کے اندر بھی مراد علی شاہ زبردست گروپنگ کا شکار ہوگئے ہیں پارٹی کے اپنے لوگ ان کے دفاع کے لیے کھل کر سامنے نہیں آرہے پیپلزپارٹی اور صوبائی حکومت کے اندر جاری کشمکش کھل کر سامنے آرہی ہے ۔پارٹی ذرائع بتاتے ہیں کہ ان حالات کے ذمہ دار کافی حد تک خود وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ ہیں کیونکہ انہوں نے مختلف محکموں کو ہائی جیک کر رکھاتھا وہ فیصلے بالا ہی بالا کرنے لگے اور بیوروکریسی کی باگ دوڑ انہوں نے اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے اپنے ایک رشتہ دار کے ہاتھ میں تھما دی۔سندھ میں بیوروکریسی کے فیصلے اسلام آباد میں بیٹھا ہوا ایک ذہین لیکن چالاک افسر کر رہا ہے ۔اس کے من پسند فیصلوں کی وجہ سے سندھ میں بیوروکریسی کی اکثریت وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ سے دور ہوتی چلی جارہی ہے سیاسی شخصیات بھی اپنے علاقوں میں اپنی مرضی کے فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے نا خوش ہیں مختلف محکموں میں پیپلزپارٹی کے عوامی نمائندوں کی آواز نہیں سنی جارہی تمام افسران کی توجہ آنے والے واٹس ایپ پیغامات پر لگی رہتی ہیں جن کا ماسٹرمائنڈ سی ایم ہاؤس میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں بیٹھا ہوا ہے ۔


این ڈی ایم اے کے چیئرمین جنرل محمد افضل نے این سی سی کے اجلاس میں جس طرح وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ساتھ جارحانہ لب و لہجہ اختیار کیا اور صوبائی حکومت کی کمزوریوں کی نشاندہی کی صوبائی وزراء کے بیانات کے تضادات بتائیں اور سب سے زیادہ اہم اعتراض یہ اٹھایا کہ علی بابا اور جیکما کی جانب سے آنے والی کورونا ٹیسٹنگ کٹس پر جس طرح سندھ نے عدم اعتماد کیا اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ نے وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کیا ۔
صوبائی حکومت کے ذرائع بتاتے ہیں کہ سندھ میں کورونا وائرس آنے کے بعد سارے فیصلے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اپنی کچن کیبینٹ کے ذریعے کیے اور چند افسران اور ڈاکٹر ان کے مشیر بن گئے اور سارے فیصلے چند لوگ کرتے رہے جس میں انڈس اسپتال کے ڈاکٹر عبدالباری کو کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے اکثر فیصلے ڈاکٹر باری کی مرضی اور منظوری سے کیے گئے جس پر باقی ڈاکٹروں اور ماہرین نے اعتراضات بھی اٹھائے لیکن ان کے تحفظات اور کی پرواہ نہیں کی گئی ۔
صوبائی حکومت کے ذمہ دار ذرائع نے دعویٰ کیا کہ سعید غنی اتنے بیمار نہیں تھے جتنا ان کو بتایا گیا دراصل سعید غنی کو گھر بٹھانے مقصود تھا اور ان کی جگہ مرتضیٰ وہاب کو آگے لایا گیا ۔سعید غنی چونکہ کراچی میں بہتر طریقے سے راشن کی تقسیم کرا سکتے تھے اور گراس روٹ لیول پر ورکنگ کے ماہر ہیں اور لوگوں کو زیادہ جانتے ہیں اس لئے ان کو ایک سازش کے تحت پیچھے کیا گیا اور ان کی جگہ مرتضیٰ وہاب کو آگے لایا گیا ۔


وفاقی حکومت کی جانب سے جو کورونا ٹیسٹنگ کٹس سندھ کو بھیجی گئی تھی ان پر جان بوجھ کر اعتراضات اٹھائے گئے وقت ضائع کیا گیا اور ان کٹس کو غیر معیاری قرار دے کر واپس کردیا گیا ۔ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کے بعد بااثر کردار اس معاملے میں متحرک ہے اور وہ براہ راست صوبائی حکومت کے فنڈز سے یہ مطلوبہ ٹکٹ خریدنے میں دلچسپی لے رہے تھے اور صوبائی کابینہ سے پہلے ہی یہ اجازت دی جا چکی تھی کہ ہنگامی طور پر جو خریداری کرنی پڑے اس کے لیے سیپرا رولز کی پابندی کا اطلاق نہیں ہوگا صوبائی حکومت سے جلدی جلدی فنڈ بھی جاری کروائے گئے تاکہ من پسند جگہوں سے خریداری کے عمل کو جلدی جلدی مکمل کر کے مال ٹھکانے لگایا جا سکے ۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد ہونے والی خریداریوں لاک ڈاؤن کے اقدامات اور راشن کی تقسیم کے حوالے سے جاری فنڈز آنے والے وقت میں اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ جائیں گے۔حالات نارمل ہونے کے بعد یہ سوال اٹھایا جائیں گے کہ ان فنڈز کے استعمال میں کتنی شفافیت برتی یا نہیں اس کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا جائے گا ۔
صوبائی حکومت کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ وفاقی حکومت اور طاقتور حلقوں کی طرف سے صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ کو بعض شکایات کے بعد سخت پیغام بھیجا گیا جس کے بعد صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کرنے پر آمادہ ہوئی ۔اب وزیراعظم عمران خان خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ چکے ہیں طاقت ور حلقے ان ان کے ساتھ ہیں اور صوبوں کو وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور معاونت کرنے کے لیے کہا گیا ہے ۔