چند مہینوں کا مہمان ہے

نہیں ملنے کو، نایاب ہے، اب ایک خواب ہے سعید اظہر، شکریہ شاد عظیم آبادی کہ جذبات کی ترجمانی کا اسلوب دیا۔ دوست جلد ساتھ چھوڑ گیا، ہمیشہ کے لیے چلا گیا، سعید اظہر ایک الف لیلوی داستان ہی تو ہے۔ آج ہزاروں بیتے واقعات سایہ بن کر چمٹے ہیں۔

اللہ نے صلاحیتوں سے مالا مال رکھا، وسیع مطالعہ، باریک بینی اور نکتہ آفرینی اپنی مثال آپ، وطنی سیاست پر مخصوص تیکھی نظر، نظریۂ ضرورت سے بےنیاز سعید اظہر۔ شکایت اتنی کہ اللہ کی ودیعت کی صلاحیتوں کا کماحقہ استعمال نہ کیا۔ آج سعید اظہر ہم میں موجود نہیں۔

کئی مہینوں سے معلوم تھا کہ چند مہینوں کا مہمان ہے کہ ڈاکٹروں کی یہ حتمی رائے تھی، کینسر ایسا موذی مرض ہر عضو میں سرایت کر چکا تھا، جان لیوا ثابت ہونا ٹھہر گیا تھا۔ اسکے باوجود موت کی خبر پورے وجود پر سکتہ طاری کر گئی۔ اُس دن طبیعت خواہ مخواہ ایک انجانی اداسی کی گرفت میں تھی۔ اوپر سے کورونا کا برپا نفسیاتی ہیجان، صدمہ مند مل ہونا مشکل کہ عزیز دوست کو کندھا نہ دے سکا۔

غم مٹانے کے لیے محترم شامی صاحب اور برادرم سہیل وڑائچ کو فون کیا، شامی صاحب کو اپنے سے زیادہ دُکھ اور صدمے میں پایا۔ وفاداری اور اخلاص ہو تو بنتا ہے سعید اظہر۔ اور پھر وفاداری ایسی گو باقاعدہ زندگی کا آغاز بطور مولوی سعید اظہر خان سے کیا، پہلا اور آخری عشق پیپلز پارٹی سے کیا۔

منحنی معصوم سعید اظہر فنِ خانہ بدوشی سے ناآشنا، پیر و مرشد کے سامنے شاید سعید اظہر کی تصویر ہی، جب فرمایا، ’’وفاداری بشرطِ استواری اصل ایمان ہے‘‘، سعید اظہر پورا اُترا۔ جناب بلاول بھٹو کا ذاتی طور پر ممنون کہ سیاسی ہنگام اور مصروفیت کے باوجود بنفسِ نفیس پُرسا کیا، قدم بقدم خیال رکھا کہ یہ سعید کا پیپلز پارٹی پر قرض تھا۔

انتہائی نظریاتی اختلافات اوپر سے میرا بےہنگم مزاج، بردباری ایک مثال، میری باتیں خندہ پیشانی سے جھیلتا۔ گو دوچار سرسری ملاقاتیں پہلے سے تھیں۔ پہلا بھرپور ٹاکرا لگ بھگ اکاون سال پہلے سید فاروق حسن گیلانی مرحوم کے اسلام آباد دفتر، جو میری روز کی آماجگاہ، وہاں ہوا۔

میں پیپلز پارٹی کا نام سننے کا روادار نہیں تھا اور سعید اظہر نیا نیا دل ہارے پیپلز پارٹی کے لیے سینہ سپر۔ دونوں طرف بھرپور جوانی، بحث کے اندر میری بدتمیزی دوسری طرف ہلکی لکنت، سعید کی بردباری اور نرم خوئی سکہ جما گئے۔ مجھے یاد ہے ذرا ذرا، جوانی میں بھی بزرگی جھانک رہی تھی۔ بحث کا انجام اچھا رہا، ہماری دوستی کا نقطہ آغاز بھی یہی۔

چند ماہ بعد تعلیم کی خاطر امریکہ چلا گیا، دہائی سے زیادہ عرصہ بعد واپس آیا تو سعید کو من و عن ویسا اور اُسی جگہ پایا جہاں چھوڑ کر گیا تھا۔ ہفتہ، دو دو ہفتہ بعد فون کرتے تو پہلا اور ایک فقرہ زبان، ’’حفیظ مجھے تم سے عشق ہے اور تم میری کمزوری کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہو اور مجھے نہیں ملتے‘‘، اگلے دن ہماری ملاقات، اکثر کلب میں، طے ہو جاتی۔ ذات شریف مسائلستان تھی، اکثر معمولی مسئلہ اور کبھی کبھی گنجلک، زندگی کا روگ رہے۔

میرا اللہ گواہ، میں کبھی بھی نہیں اکتایا بلکہ مزید متحرک پایا گو کہ بےتکلفی کی موجودگی میں منہ در منہ باتوں سے سعید کو زدو کوب کرنے کی ایکٹنگ بھی ہر بیٹھک کا لازمی جزو رہتی، دونوں مزے لیتے۔

’’حفیظ! تمہیں فری میں ملنے نہیں آیا ہوں، رکشے کو نقد دوسو روپے دیے ہیں‘‘۔ ایک دل لبھا دینے والا تکراری فقرہ آج کان میں گونج رہا ہے۔ مجھے نہیں پتا کہ میرے اندر سعید اظہر کی عزت اور اس کیلئے رغبت کس درجہ اور نوعیت کی تھی۔ جب بھی فون آتا سو فیصد ایک مسئلہ سر اٹھا چکا ہوتا۔

میں عمران کے لیے سینہ سپر، میڈیا کو اپنے طور اپنے تئیں ہینڈل کرنے کی تگ و دو میں مصروف تھا۔ میرے مزاج کے مطابق عمران خان کے حق میں اور (ن)لیگ کے خلاف کوئی کالم جچتا نہ تھا۔ سوچ بچار کرکے سعید اظہر سے رابطہ کیا۔ گزارش کی کہ آپ اس دفتر کا حصہ ہو اور میرے مطابق کالم کا مواد دینا میری جبکہ لکھنا جناب کی ذمہ داری رہے گی، اشاعت کے لیے مل جل کر کوشش کریں گے۔

برادرم پرویز رشید کا عمران خان کے خلاف تفصیلی کالم انہی دنوں جنگ اخبار کی زینت بنا، چنانچہ پرویز رشید کو جواب دینا پہلی ترجیح ٹھہرا، دو گھنٹے کے اندر سعید نے تفصیلی مضمون لکھ کر ترکی بہ ترکی جواب تیار کیا۔ اگرچہ کالم مناسب، میرے مزاج کو نہ بھایا۔

بےتکلفی کا استعمال کرتے ہوئے میں نے کالم پھاڑ کر کوڑا دان کے حوالے کیا۔ سعید بھنا گئے، ’’میری دو گھنٹے کی محنت کی توہین کی ہے‘‘۔ ہنستے ہوئے گزارش کی کہ آپ اس طرح لکھیں۔ پٹھانی جلال عروج پر، ’’خود لکھو، لگ پتا جائے گا، کتنا کٹھن اور دماغی کام ہے‘‘۔

تنگ آمد بجنگ آمد، جو کام سعید دو گھنٹوں میں کرکے لائے، مجھے وہ کالم بعد ازاں (تین قسطوں میں شائع ہوا) لکھنے کے لیے دو تین دن لگے۔ کالم تیار ہوا تو سعید کی میز پر رکھا۔ 20منٹ کے بعد آئے اور استفسار کہ ’’یہ کالم جناب نے خود لکھا؟‘‘۔ ظاہر ہے وہ جانتے تھے کہ ساتھ والے کمرے میں انکا دفتر تھا اور درجنوں دفعہ کالم کمپوز ہوتا رہا۔

سعید نے آنکھیں ملیں اور میری تعریف و توصیف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا ڈالے۔ ’’ایک نیا کالم نگار جنم لے چکا ہے، جس کا اسلوب اور بیان موجودہ سب کالم نگاروں سے مختلف ہے‘‘۔

یقیناً دوست ہونے کے ناطے سعید نے مبالغہ آرائی میں بخل نہ دکھایا۔ غرضیکہ کالم برادرم سہیل وڑائچ کی وساطت سے اخبار میں چھپ گیا۔ اس کالم کے بعد سہیل وڑائچ اور سعید دونوں نے حوصلہ افزائی کی، یوں میں بھی کالم نگار بن گیا۔

سعید اظہر اپنی ذات میں پوری انجمن، ایک ادارہ تھا۔ یقین جانیے موت کے بعد احساس ہوا کہ ہم اسکی وہ قدر نہ کر سکے جو اسکا حق تھا۔ آج دوست کا نوحہ لکھنے بیٹھا ہوں تو اعصاب جواب دے رہے ہیں۔

سمجھ کوسوں دور، دماغ مطلوبہ استطاعت سے محروم۔ سعید اظہر کیلئے ایک بےربط گریہ زاری، اپنی کم مائیگی کا احساس اُبھر کے سامنے آیا کہ سعید اظہر پر تحریر میں انصاف نہ ہو سکا۔ اللہ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس میں جگہ دے(آمین)Hafeez-ullah-Niazi-jang