انسان اس مائنڈ سیٹ پر روئے یا ہنسے؟ جشن منائے یا سوگ؟

اپنی اجتماعی ذہنی صحت اور حالت کا اندازہ لگانا ہو تو صرف اس حرکت پر غور فرمائیں کہ ٹی وی چینلز پر نجومیوں اور اسی ٹائپ کے دیگر ’’ماہرین‘‘ سے پوچھا جا رہا ہے کہ کورونا کب ختم ہوگا اور ملکی معیشت کب سنبھلے گی؟

بنگالی جادوگروں اور عامل بابوں یا کالے، پیلے، نیلے جادو کے ایکسپرٹس کے پالے ہوئے ان پر کٹے شاہینوں کو دیکھ کر سمجھ نہیں آتی اور فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ انسان اس مائنڈ سیٹ پر روئے یا ہنسے؟ جشن منائے یا سوگ؟ جنہیں اپنے کل بلکہ اگلے پل کی خبر نہیں ان جگاڑیوں سے اپنے مستقبل کا حال پوچھنا ایمان کی کمزوری ہے یا دماغ کی؟

میں نہیں جانتا لیکن یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ہماری اجتماعی ذہنی صحت ہماری معیشت سے بھی گئی گزری ہے۔ معیشت تو کسی فلوک کے نتیجہ میں بھی بہتر ہو سکتی ہے جیسے عربوں کی ’’پیٹرو لاٹری‘‘ نکل آئی تھی لیکن ’’اجتماعی ذہنی حالت‘‘ کو تبدیل کردینے والا کوئی معجزہ ریکارڈ پر موجود نہیں۔ اس کے لئے اک طویل صبر آزما سفر درکار ہوگا جس کا آغاز بھی دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ اس لئے اس انتہائی مشکل ہدف کا حصول تو چھوڑیں ہم سے توسہل ترین کام نہیں ہو رہے۔

جانِ برادر مظہر برلاس اپنے گزشتہ کالم میں لکھتے ہیں۔’’کورونا وائرس نے پاکستانی سیاستدانوں کو بےنقاب کرکے رکھ دیا ہے، یہ کس طرح لڑ رہے ہیں، ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست کے علاوہ شاید انہیں کچھ آتا ہی نہیں۔ صوبے اور وفاق الجھ رہے ہیں‘‘۔

قارئین!جانِ برادر برلاس سے تھوڑی بھول ہو گئی کہ ’’پاکستانی سیاستدانوں کو کورونا نے بےنقاب کرکے رکھ دیا‘‘ نہیں ایسا ہرگز نہیں کہ چند مستثنیات چھوڑ کر یہ کمیونٹی روزِ اول سے ہی بےنقاب و بےحجاب ہے۔ ان میں سے کچھ کبھی کبھی واردات کے لئے ’’نقاب پوشی‘‘ کا سہارا لیتے ہیں ورنہ تو سب اس سیاسی حمام میں ویسے ہی ہیں جیسے حماموں میں ہوتے ہیں۔

کسی لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں، صرف اس ملک اور اس کے عوام کا ’’حال‘‘ دیکھ لو، اس کمیونٹی کا ماضی سامنے آ جائے گا۔ کچھ قوموں، ذاتوں، برادریوں۔

قبیلوں کے بارے میں مشہور ہے کہ آپس میں لڑتے رہتے ہیں لیکن کوئی دشمن آ جائے تو یوں اکٹھے ہو جاتے ہیں جیسے ان میں کبھی کوئی اختلاف ہی نہ تھا لیکن یہ لوگ …. ہمارا یہ سیاسی میٹریل کچھ ایسا ہے کہ کرائسز اور ایمرجنسی میں بھی ان کے پنجے اور جبڑے مصروف رہتے ہیں۔

ان کی اسی پرفارمنس کا منحوس سایہ عوام پر کچھ اس طرح پڑا کہ دو بندے زیادہ دیر تک اکٹھے نہیں چل سکتے اور اکیلے بندے کو بھی قرار نہیں کہ اسے کوئی دشمن یا حریف نہ ملے تو وہ اپنے سائے سے ہی الجھنا شروع کردیتا ہے۔

میں تو گزشتہ 26،27سال سے لکھ رہا ہوں کہ یہ وہ بلائیں ہیں جنہیں کوئی اور نہ ملے تو یہ اپنے آپ کو کھانا شروع کردیتی ہیں چاہے ’’عزیز ہم وطنو‘‘ ہی کیوں نہ ہو جائے۔’’ذمہ داری‘‘ اور ’’ٹیم ورک‘‘ شاید ان کے ڈی این اے میں ہی موجود نہیں ہوتا۔

جانے کب یہ جملہ کہاں پڑھا جو دماغ سے چپک کر رہ گیا۔ اس جملے پر غور کرکے اس کی روشنی میں ان کے چہرے دیکھیں۔”WHEN YOUR SHOULDERS ARE CARRYING A LOAD OF RESPONSIBILITY, THERE IS NO ROOM FOR CHIPS.” حکومت اور اپوزیشن کی ذمہ داریوں میں کوئی لمبا چوڑا فرق نہیں ہوتا اور اسی لئے اپوزیشن کو “GOVT IN WAITING” کہا جاتا ہے لیکن یہاں دونوں نمبر ٹانکنے، کارروائیاں ڈالنے، عوام کو مزید بیوقوف بنانے، اک دوسرے کے گٹے کھینچنے میں مصروف ہوتے ہیں۔

ہیری ٹرومین نے کہا تھا “THE BUCK STOPS HERE” لیکن ہمارے سیاستدانوں میں “BUCK” کا کوئی سٹاپ ہی نہیں۔حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کوارڈی نیشن تو دور کی بات ہے یہاں تو خود حکومت کے اندر ٹیم ورک کا قحط نہ سہی، شدید قسم کا فقدان اور بحران موجود ہے حالانکہ عمران خان کی تو ساری تربیت ہی ٹیم سازی کی تھی اور اس بات کی کہ کسے کہاں کھلانا ہے لیکن یہاں تو مسلسل پھینٹا پھینٹی شروع ہے اور یہی فیصلہ ہوتا دکھائی نہیں دیتا کہ کس کو کھلانا ہے اور کہاں کھلانا ہے۔

سیاستدان ہی کیا بحیثیت قوم بھی ہم ’’تنہا تنہا‘‘ اس لئے محسوس کرتے ہیں کہ کروڑوں میں ہونے کے باوجود ہم نے آپس میں پل نہیں، نفرتوں اور تعصبات کی دیواریں کھڑی کرلی ہیں سو نتیجہ بھی سامنے ہے۔

کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساریاب لئے پھرتا ہے دریا ہم کوسوچتا ہوں کہ اگر کورونا جیسی وبا، بلا، آفت اور عذاب بھی ہماری تربیت کرنے، ہمیں تمیز تہذیب سکھانے سے قاصر ہے تو پھر وہ کون سا قہر یا قوت ہوگی جو ہمیں راہِ راست پر لا سکے گی؟Hassan-Nisar-Jang