وزیراعلیٰ بزدار کا سیاسی دباؤ کااعتراف

گندم اسکینڈل پر ایف آئی اے کی ضمنی روپورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف دھماکہ خیز مواد موجود ہے ، انہوں نے سیاسی ترجیحات پر محکمہ خوراک میں تبدیلیوں کا خوداعتراف کیا۔

سیکرٹریوں کا کہنا ہے انہوں نے چیف ایگزیکیٹو کے حکم پر محکمے میں بار ہا تبدیلیاں کیں ۔ حتیٰ کہ بزدار کے زبانی احکامات پر افسران کے تبادلے کئے گئے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایف آئی اے کی تحقیقاتی کمیٹی کے استفسار پر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے محکمہ خوراک میں سیاسی دبائو پر مخصوص تبدیلیوں کا اعتراف کیا ۔ حتیٰ کہ ایک سیکرٹری خوراک نے ایف آئی اے کی تحقیقاتی کمیٹی کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ دفتر سے زبانی احکامات پر کئی افسروں کا تبادلے ہوئے۔

وزیر اعلیٰ نے انکوائری ٹیم کاو اپنے انٹرویو میں کہا یہ سچ ہے افسران کے تبادلوں اور تعیناتی میں سیاسی شخصیات نے ان سے رابطے کئے۔زیادہ تر تبادلے اور تعیناتیاں متعلقہ سیکرٹریوں کی سفارش پر ہوئیں ،کچھ سیاسی تقرریوں کی بھی گنجائش نکالی گئی ۔لیکن فیصلوں سے قبل اسپیشل برانچ سے بھی رائے لی گئی ۔

بزدار حکومت نے اپریل تا نومبر 2019 سات ماہ کے عرصہ میں محکمہ خوراک میں چار سیکرٹریوں کے تبادلے کئے ۔ رپورٹ کے مطابق سوائے نسیم صادق کو چھوڑ کر ان سیکرٹریوں نے محکمے میں ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز ( ڈی ایف سیز )اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کے بڑے پیمانے پرتقرریاں اور تبادلے کئے ۔ ان میں سے ایک سیکرٹری نے گزشتہ سال مارچ میں 35 ڈی ایف سیز کے تبادلے کئے ۔

ایک اور سیکرٹری نے تمام 9 ڈپٹی ڈائریکٹرز کے تبادلے اور 32 ڈی ایف سیز تبدیل کر دئے ۔ تاہم دونوں سیکرٹریوں شوکت علی اور ظفر نصراللہ کا کہنا ہے کہ 11 دسمبر 2018 سے 7 دسمبر 2019 تک مجاز حکام کی جانب سے تمام تقرریوں اور تبادلوں پرپابندی رہی ،صرف وزیر اعلیٰ کی منظوری سے تقرریاں ہوئیں ۔ایک سیکرٹری نے یہ بھی بتایا کہ کچھ ڈی ایف سیز جنہیں سیاسی بنیادوں پر تعینات کیا گیا تھا۔

خراب کارکردگی اور ساکھ کی بنیاد پر انہیں ہٹا دیا گیا ۔ سیکرٹری ظفر نصر اللّٰہ نے تگدیلیوں کی انتظامی وجوہات بھی بتائیں ، تاہم ساتھ یہ بھی اعتراف کیا کہ تعیناتی کے لئے سمریز وزیر اعلیٰ دفترکے زبانی احکامات پر تیار کی گئیں ۔

رپورٹ کے مطابق چاروں سیکرٹریوں کی تعیناتی کے لئے کوئی سمری نہیں پیش کی گئی اور نہ ہی محکمہ خوراک میں سیکرٹریوں کو عجلت میں تبدیل کر نے کی کوئی وجہ بتائی گئی ۔تبادلوں اور تعیناتیوں کے لئے تمام سمریاں مجاز حکام کی ہدایات کے عنوان سے کی گئیں ۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سابق اور موجودہ چیف سیکرٹریز نے اس صورتحال کی تصدیق کی ہے ۔

ایف آئی اے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو صوبائی سیکرٹریوں کی تقرریاور تبادلوں کا اختیار ہے،لہٰذا تمام سیکرٹریز وزیر اعلیٰ پنجاب کی منظوری سے تبدیل ہوئے۔جس عرصہ میں ڈی ایف سیز بھی تبدیل ہو ئے ، اس وقت بھی تبادلوں اور تقرریوں پر وزیر اعلیٰ پنجاب دفتر کی جانب سے پابندی تھی اور تمام ڈی ایف سیز کا تبادلہ وزیر اعلیٰ پنجاب دفترکی منظوری سے ہوا ۔

رپورٹ کے مطابق اس بارے میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا بھی انٹرویو ہوا، جس میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ سال دس اپریل کو سیکرٹری خوراک شوکت علی کو تبدیل کیا جنہیں ان سے گزشتہ کی حکومت نے مقرر کیا تھا ،ان کا موقف تھا کہ نئی حکومت اپنا سیکرٹری خوراک لانا چاہتی تھی گندم کی خریداری کا کوئی مسئلہ نہ رہے۔تاہم ایف آئی اے کمیٹی کے مطابق شوکت علی ایک مناسب عرصہ سیکرٹری خوراک رہے اور انہیں خریداری سیزن کے شروع ہو نے پر ہٹا دیا گیا ۔

انہیں تبدیل کئے جا نے کا وقت درست نہیں تھا ۔بعد ازاں دو ماہ کے لئے نسیم صادق سیکرٹری خوراک رہے اور پھر انہیں بھی تبدیل کر دیا گیا ،اس کی وجہ یہ بتائیگئی کہ نسیم صادق کی خدمات کی ہائوسنگ ڈپارٹمنٹ کو شدید ضرورت تھی ۔تب ظفر نصر اللّٰہ کو سیکرٹریخوراک بنایا گیا اوور وہ اس عہدے پر صرف پانچ ماہ تعینات رہے ۔وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ انہیں پنجاب میں بڑے پیمانے پر ردو بدل کے دوران تبدیل کیا گیا ۔

ایف آئی اے انکوائری کمیٹی کے مطابق ظفر نصراللہ گندم اور آٹے کی قیمتوں کامسئلہ شروع ہونے سے قبل ٹھیک کام کر رہے تھے ۔ نومبر میں انہیں ہٹائے جا نے کے وقت قیمتوں میں اضافے کا مسئلہ شروع ہوا تھا اور ان کے تبادلے نے محکمے کی ہموار کارکردگی میں خلل ڈالا ۔

رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا یہ سچ ہے سیاسی شخصیات تبادلوں اور تعیناتی کے لئے ہمیشہ وزیر اعلیٰ دفتر سے رابطہ کر تی ہیں تاہم زیادہ تر تقرریاں اور تبادلے متعلقہ سیکرتریوں کی سفارش پر ہی ہو تے ہیں ۔

فیصلہ سازی میں اسپیشل برانچ کی بھی رائے لی جا تی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے ؐوضاحت کی کہ تبادلوں اور تقرریوں پر پابندی کے بعد نئی حکومت آئی تو تبادلوں اور تعیناتیوں کے لئے انتظامیہ پر شدید دبائو تھا جس پر قابو پانے کے لئے وزیر اعلیٰ دفتر کو مداخلت کر نا پڑی اور یہ حکم جاری کیا گیا کہ تمام تبادلے اور تعیناتیاں وزیر اعلیٰ دفتر کی منظوری سے ہو ں گی-انصار عباسی

اسلام آباد