کینسر کو شکست دینے والی ڈاکٹر فرح کی کہانی

پاکستانی معاشرے میں خواتین کو ان کے خواب پورے کرنے کا کم ہی موقع ملتا ہے جس کی بنیادی وجہ معاشرتی اقدار ہے،جب کسی خاتون کی شادی ہوجائے تو گھرداری، بچے ،شوہراور سسرال وغیرہ میں پھس کر رہ جاتی ہے۔فرح خان کا تعلق ایسے پڑھے لکھے اورباذوق خاندان سے ہے جنہوں نے ناصرف ان کا ہر قدم پر ساتھ دیابلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی کی، میڈیکل اور ہومیوپتھک کی ڈگریاں حاصل کرنے والی فرح نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی شاعری سے اپنے احساسات کو لوگوںتک پہنچایا، پانچ سال تک کینسرجیسی مہلک بیماری سے جنگ لڑنے والی ڈاکٹر فرح نے نہ صرف اسے شکست دی بلکہ دوسروں کیلئے مشعل راہ بن کر سامنے آئیں ،مشکل دور سے نکلنے کے بعد ڈاکٹر فرح ایک موٹی ویشنل اسپیکر کے طور پرسامنے آئیں، اب

وہ باقاعدگی سے پاکستان اور کینیڈا میںاپنے خیالات کے ذریعے لوگوں کی ہمت بڑھاتی ہیں۔ ڈاکٹر فرح نے ابتدائی تعلیم کراچی کے بحریہ اسکول سے حاصل کی جبکہ ایم بی بی ایس سندھ میڈیکل کالج سے کیا، میڈیکل کی تعلیم کے دوران کچھ سیاسی مسائل کے باعث انہیں تعلیم چھوڑنی پڑی لیکن انہوں نے اس وقت کو بھی استعمال کرتے ہوئے ہومیوپیتھک میں داخلہ لے لیا تاہم بعد میں انہوں نے ایم بی بی ایس اور ہومیوپیتھک کی تعلیم مکمل کرکے کراچی میں پریکٹس کی۔ 2008میں جب کراچی میں حالات انتہائی خراب ہوگئے تو ڈاکٹر فرح اپنے شوہر کے ہمراہ کینیڈا شفٹ ہوگئیں، کینیڈا میں انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی شاعری کو عوام تک پہنچایا اور کینیڈا میں ٹی وی پر میزبانی کے فرائض بھی انجام دیئے، تخلیقی ذہن رکھنے والی ڈاکٹر فرح نے کراچی آمد پر خبریں کو خصوصی انٹریو دیاجس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ پچپن سے ہی تخلیقی ذہن رکھتی تھیں تاہم زندگی کے بھول بھلیوں میں ان کا لکھنے لکھانے کا فن کہیں پیچھے رہہ گیا تھا تاہم کینیڈا میں انہوں نے اپنے آپ کو ایک بار پھر دریافت کرکے شاعری شروع کی، ان کا کہناتھا کہ اگر سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریں تو وہ ہمارے لئے کارآمد ہوسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے انہوں نے اپنی شاعری کو عوام تک پہنچایا، انہوں نے بتایا کہ تین لاکھ سے زائد فالوورز ہیں جو ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ان کے بچوں اور شوہر نے ہر قدم پر ان کا ساتھ دیا، سوشل میڈیا پر جب میں نے اپنی کچھ ویڈیوز اور شاعری ڈالی تو مجھے ٹی وی پر کام کیلئے آفرز آئیں جنہیں ابتداءمیں تو میں نے انکار کردیالیکن بچوں اور شوہر کے کہنے پر ٹی وی پر کام کیا، انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مقابلے میں کینیڈا میں بہت پروفیشنلزم ہے‘وہاں ہر چیز ٹائم پر ہوتی ہے، لوگوں کو بھی معمول ہے کہ اگر وہ کچھ غلط کریں تو ان کے خلاف بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ اپنی بیماری سے متعلق ان کاکہنا تھا کہ پانچ سال تک انہوں نے کینسر جیسی مہلک بیماری سے جنگ لڑی۔ بیماری کے دوران ان کے خاندان نے ان کا بہت ساتھ دیا لیکن سب کو اپنی لڑائی اپنے بل بوتے پر ہی لڑنی پڑتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ بیماری کو دوران انہوں نے بہت کچھ سیکھایہی وجہ ہے کہ اب وہ اپنے تجربات دوسروں تک پہنچا رہی ہیں، آغا خان اور لیاقت نیشنل سمیت دیگر اسپتالوں میں بطور موٹی ویشنل اسپیکر کام کرچکی ہوں ۔پاکستان میں سیاسی تبدیلی کے سوال پر ڈاکٹر فرح کا کہنا تھا کہ وہ پر امید ہیں کہ حالات اچھے ہوں گے‘جہاں پرانے لوگوں کو اتنا موقع ملا تحریک انصاف کی حکومت کو بھی بھرپور موقع ملنا چاہئے، انہوں نے کہا کہ اگر کپتان اچھا ہوگا تو وہ بری ٹیم کے ساتھ میچ جیت سکتا ہے لیکن کوئی بھی ٹیم برے کپتان کے ساتھ اچھا کام نہیں کرسکتی، عوام نے بتدیلی کے نام پر تحریک انصاف کو ووٹ دیئے ہیں، حکومت کا ابتدائی دور تو زیادہ اچھا نہیں لیکن پانچ سال تک ہمیں انتظار کرنا چاہئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور کینیڈا دونوں معاشروں میں کچھ اچھائیاں ہیں اور کچھ برائیاں ہیں، پاکستان میں بچوں کو اخلاق کی تعلیم دی جاتی ہے ،بچے اپنے ماں ،باپ اور بڑوں کی عزت کرتے ہیں لیکن کینیڈا میں ایسا نہیں ، گھر پر کوئی بھی مہمان آجائے تو وہاں پر بچے عزت نہیں کرتے ، ڈاکٹر فرح نے کہا کہ انہوںنے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت بلکہ پاکستانی اور اسلامی اقدار کے تحت کی ہیں، بچوں کو سیکھایا ہے کہ بڑوںکی عزت کرنے ہی اورایسا ہی کرتے ہیں، پاکستان واپسی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جب بچے ان کی بات نہیں مانتے تو میں انہیں ڈراتی ہوں کہ ہم پاکستان واپس چلے جائیں گے، انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ انہیں یاد آتا ہے ، دل کرتا ہے کہ ہمیشہ کیلئے پاکستان آجاو¿ں ، یہاں کے لوگ چیزیں اور سب کچھ بہت یاد آتا ہے لیکن مجبوری ہے کہ کینیڈا میں رہ رہی ہوں، کینیڈا میں اپنے ٹی وی شو سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بچوں کے اصرار پر اینکرنگ شروع کی ، وہاں پر ایکٹنگ کی بھی پیشکش ہوئی ہے لیکن فی الحال ایکٹنگ کا کوئی ارادہ نہیں، اگر پاکستان میں کوئی اچھا کردار یا اسکرپٹ ملا تو اس بارے میں کام کرنے کے بارے میںں سوچ سکتی ہوں لیکن فی الحال میری ساری توجہ میری شاعری اوردیگر کاموں کی طرف ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فرح کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں منفی سوچ بہت جلد اور تیزی سے پھیل رہی ہے، لوگوں منفی سوچ رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم آگے نہیں بڑھ رہے، ہمیں بطور معاشرہ اپنی منفی سوچ کو ختم کرنا ہوگا، انہوں نے تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک سے پڑھے لکھے لوگ دوسرے ممالک میں جاکر کام کررہے ہیں، انجینئراور ڈاکٹرزباہر جاکر ٹیکسیاں چلاتے ہیں، ہمیں چاہئیں کہ پڑھے لکھے لوگوں کو سہولیات فراہم کریں تاکہ پاکستان کا ٹیلنٹ باہر نہ جائے، انہوں نے کہا کہ کینیڈااوردیگر مغربی ممالک کی ترقی کا راز تعلیم میں ہے، ان کا منشور ہے کہ وہ چپڑاسی بھی پڑھا لکھا رکھیں، یہی وجہ ہے کہ دیگر ممالک سے پڑھے لکھے لوگوں کو وہاں پر خوش آمدید کہا جاتا ہے‘ڈاکٹر فرح نے پاکستان کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ساہیوال جیسے واقعات کی روک تھام ضروری ہے، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی حق نہیں کہ وہ ماورائے عدالت لوگوں کو مارتی پھرے، اگر کسی نے کوئی جرم بھی کیا ہے تو اسے ذریعے سزا دی جائے، مہذب معاشروں میں ایسا نہیں ہوتا، اگر کوئی دہشت گرد بھی ہوتو اسے گرفتار کرکے سزا دی جاتی ہے۔ خواتین کے نام اپنے پیغام میں ڈاکٹر فرح کا کہنا تھا کہ پاکستان کی عورت اپنی صلاحیتوں کو پہچانے، عورت بھی معاشرے کا اہم حصہ ہے، کسی بھی ملک کی ترقی تب تک ممکن نہیں جب تک وہاں کی خواتین عملی طور پر مرد کے شانے بشانہ کام نہ کرے، ہماری خواتین کو بھی چاہئے کہ وہ بھی خواہ وہ کسی بھی شعبے سے وابستہ ہیں عملی طور پر کارآمد شہری بنے، خواتین اپنے شوہر کے ساتھ مل کر گھرکو چلائیں ، جب وہ اپنے گھر کو سپورٹ کریں گی تو خود بخود اس کا فائدہ ملک کو بھی ہوگا، انہوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے کے مردوں کو بھی چاہئے کہ وہ بھی خواتین کی عزت کریں ، لڑکا اور لڑکی میں بھید بھائو نہ کریں، لڑکیوں کو لڑکوں کے برابر تعلیم کے مواقع دیئے جائیں۔ بچے کی پہلی درسگان اس کی ماں ہے یہی وجہ ہے کہ جب عورت پڑھی لکھی ہو گی تو پورا معاشرہ پڑھا لکھا ہوگا۔ تعلیم یافتہ معاشرہ ملک کی ترقی کا ضامن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں