شہریارعاطف ۔پاکستان کے کم عمر ترین چیف ایگزیکٹو افسر جو سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں

آپ کے لئے یہ بات یقینی طور پر حیران کن ہوگی کہ کوئی انسان محض 15 سال کی عمر میں چیف ایگزیکٹو افسر بن کر سماجی بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہو۔
لیکن یہ عملی طور پر ہورہا ہے اور پاکستان کے کم عمر ترین چیف ایگزیکٹو افسر شہریار عاطف اپنی این جی او ہوپ فار ٹومارو کے پلیٹ فارم سے سماجی بھلائی کے زبردست کام کر رہے ہیں خاص طور پر کرونا وائرس پھیلنے کے بعد پاکستان میں پیدا شدہ صورت حال کی وجہ سے لوگوں میں راشن تقسیم کرنے کے کام میں وہ نمایاں طور پر حصہ لے رہے ہیں ان کا جذبہ قابل تقلید ہے وہ اپنے چند دوستوں کو ساتھ لے کر کراچی کے مختلف علاقوں میں سماجی بھلائی کے کاموں کے جذبے کے تحت خود گھر گھر جاکر راشن تقسیم کر رہے ہیں اور لوگوں کی ضروریات کا احساس کرتے ہوئے ان کے لئے امدادی کاموں کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
جیوے پاکستان ڈاٹ کام کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں اس فلاحی تنظیم کے مختلف کاموں کے حوالے سے انہوں نے ہمیں آگاہی دیں اور بتایا کہ شعبہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے تحت ہنگامی مہم کے سلسلے میں امدادی اور ریلیف ورک کا آغاز کیا گیا ۔شہر کے مختلف علاقوں میں مستحق افراد میں راشن ہینڈ واش فیس ماسک اور دستانے تقسیم کئے گئے اور یہ کام مختلف علاقوں میں بڑھایا جارہا ہے اور جیسے جیسے معلومات آرہی ہے وہاں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں ہماری تنظیم کے رضاکاروں نے شہر بھر کی کچی آبادیوں میں محنت کشوں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے دیہاڑی دار لوگوں کے خاندانوں میں راشن تقسیم کرنے کا ذمہ اٹھایا ہے اور ان کو راشن پہنچانے کے ساتھ ساتھ کھانا بھی پہنچا رہے ہیں شہریار عاطف کا کہنا ہے کہ انہیں یہ کام کرکے انتہائی خوشی ہوتی ہے ۔
ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ہائی کیو فارما مسٹر عاطف اقبال نے فلاحی تنظیم کے نیٹ ورک کو بڑھانے میں مدد دی اور شہریار اس تنظیم کے روح رواں کے طور پر باقی دوستوں کے ساتھ مل کر سماجی بھلائی کے کاموں کو آگے بڑھا رہے ہیں پاکستان بھر کے نوجوانوں کے لیے یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ ہمارے نوجوان سماجی بھلائی کے جذبے سے سرشار ہوکر عملی کام کر رہے ہیں اور ان کے اقدامات اور جذبہ قابل تعریف اور قابل رشک ہے ۔جیوے پاکستان ڈاٹ کام کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ سماج میں اچھے کام کرنے والے لوگوں کو آپ کے سامنے لایا جائے اور ان کی صلاحیتوں اور ان کے کام کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے اور دوسروں کو ان کے اچھے کام بتا کر انہیں بھی ذہنی طور پر آمادہ کیا جائے کہ وہ بھی معاشرے میں سماجی بھلائی کے کاموں میں حصہ لیں اور اپنے اپنے علاقوں میں اپنے آس پاس کے لوگوں کی بہتری کیلئے میدان عمل میں اتریں اور اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت لوگوں کے کام آئیں اور اپنے خاندان اپنے شہر اور اپنے ملک کا نام روشن کریں ۔
بےشک شہریارعاطف اگر پندرہ سولہ سال کی عمر میں اتنے اچھے اور بڑے کام کرسکتا ہے تو باقی نوجوان بھی ایسا کر سکتے ہیں جہاں جہاں عاطف شہریار کے کاموں اور جذبے کو دیکھا جا رہا ہے وہاں لوگ اس کی تعریف کر رہے ہیں اور جن لوگوں کی اس نے عملی طور پر مدد کی ہے وہاں سے ڈھیروں دعائیں دے رہے ہیں پاکستان کو ایسے ہی نوجوانوں اور سپوتوں کی ضرورت ہے اقبال نے اسی لئے تو کہہ رکھا ہے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
——
رپورٹ وحید جنگ برائے جیوے پاکستان ڈاٹ کام