سندھ کی محنتی وزیر صحت اور پاپولیشن ۔ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو ۔دوسرے صوبوں کے لئے ایک قابل تقلید مثال

کرونا وائرس نے امریکہ اور برطانیہ میں زبردست تباہی مچا رکھی ہے نائن الیون کے واقعہ کے بعد اگر ایک دن میں سب سے زیادہ جانی نقصان امریکہ کو ہوا ہے تو وہ کرونا وائرس سے ہوا ہے برطانیہ میں بھی حالات کنٹرول سے باہر ہیں اسپین اور اٹلی پہلے ہی ہتھیار ڈال چکے ہیں پوری دنیا میں خطرات بڑھتے جا رہے ہیں اور اب تک ایک ہی حل سامنے آیا ہے لاک ڈاؤن اور احتیاط کے لیے سماجی فاصلہ ۔

پاکستان کو اس صورتحال سے بچانے کے لئے سب سے پہلے سندھ نے پہل کی ۔صوبائی حکومت نے لاک ڈاؤن اور سماجی فاصلے بڑھانے اور احتیاط کے تقاضے مدنظر رکھنے پر زور دیا اور مریضوں کے لئے قرنطینہ سینٹر بنائے ۔اسپتالوں میں ضروری انتظامات کروائے طبی عملے اور ڈاکٹروں کے لیے ضروری حفاظتی سامان کی فراہمی پر زور دیا اور اقدامات کیے ۔

دیگر صوبوں نے سندھ کی دیکھا دیکھی بعد میں وہ سارے کام کیے جن پر سندھ نے پہل کی تھی ۔
سندھ کے اقدامات کو پرانے کی بجائے بعض سیاسی حریفوں نے تنقید کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ۔

سندھ کے اقدامات کا تمام تر سہرا وزیر اعلی سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے سر جاتا ہے ۔وزیر اعلی سید مراد علی شاہ نے چیزوں کو فرنٹ سے لیڈ کرنا شروع کیا اور صوبائی وزیر صحت اور پاپولیشن ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے ٹیکنیکل سائیڈ کو ہینڈل کیا ۔وزیراعلی کی صوبائی کابینہ کے باقی اراکین اور پارٹی قیادت اور حکومتی ٹیم نے مل جل کر صوبے میں بہتر نتائج حاصل کرنے شروع کیے ۔اس میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ اگر لاک ڈاؤن کے حوالے سے فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ کیے گئے ہوتے تو آج صورتحال کہیں زیادہ بدتر ہو سکتی تھی ۔

پاکستان میں سیاسی حلقے اور میڈیا کا ایک حصہ سندھ حکومت کو جان بوجھ کر تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے اور ان کے اچھے مفید پر جرتمندانہ اقدامات کو کریڈٹ دینے سے گریز کر رہا ہے یہ پیشہ ورانہ اور اخلاقی بددیانتی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ سندھ میں سب سے زیادہ کام ہوا ہے جس پر وزیر اعلی سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزیر صحت عذرا فضل پیچوہو اور باقی تمام وہ لوگ جنہوں نے ان اقدامات میں اپنا کردار ادا کیا ہے وہ قابل تعریف اور قابل ستائش ہیں ۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو اس حوالے سے بھی قابل ذکر ہیں کہ وہ ایک ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے اس صورتحال کے موجودہ اور دور رس نتائج کو بخوبی سمجھ رہی تھیں۔ ان کے پاس صوبے کے ہسپتالوں سہولتوں مسائل مریضوں کے اعدادوشمار کے حوالے سےکافی ڈیٹا دستیاب تھا وہ مختلف پروگراموں پر پچھلے دو سال سے کامیابی سے کام کرتی آ رہی ہیں ڈبلیو ایچ او سمیت عالمی تنظیمیں اور ڈونر ایجنسیاں ان کے کام کو سراہتی ہیں اور ان کے اقدامات کی معترف ہیں جو ان کی پیشہ ورانہ دیانت اور اپنے کام سے سنجیدگی اور بہترین نتائج کے حصول کے لیے کی جانے والی شاندار کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔
اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ سندھ کے وزیر صحت میڈیا پر زیادہ کیوں نہیں آتیں۔ وہ روزانہ پریس کانفرنس کیوں نہیں کرتیں۔ کیا انہیں میڈیا پر آنے کا شوق نہیں ہے ۔ان کے قریبی حلقے کہتے ہیں ہاں واقعی ایسا ہے انہیں خود نمائی کا شوق نہیں ہے وہ صبح ساڑھے آٹھ بجے اپنے کام پر توجہ مرکوز کرتی ہیں سارا دن دفتر اور سرکاری امور کی انجام دہی اور بڑے بڑے چیلنجز سے نبرد آزما رہتی ہیں لیکن انہیں میڈیا سکرین پر آکر نمبر بنانے کا شوق نہیں ہے انہیں ورثے میں جو بگڑی ہوئی چیزیں ملی تھی ان کو ٹھیک کرنے میں ہی ان کے سارا وقت گزر جاتا ہے سندھ کے چیلنج بہت زیادہ ہیں محکمہ صحت کے مسائل بھی کم نہیں ہے ۔سندھ کے مریضوں کو خصوصی توجہ چاہیے اور سندھ میں ہسپتالوں اور طبی عملے اور سامان کی جو صورت حال ہے اس کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے صوبائی وزیر صحت اور پاپولیشن نے دن رات کے کررکھا ہے ۔
یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کہ بطور صوبائی وزیر پولیشن ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے زمانے میں ہی سندھ حکومت نے کنٹراسیپٹو اور آبادی پر قابو پانے کے لیے ضروری سامان کی خریداری سب سے زیادہ شفاف انداز میں یقینی بنائی اور دوسرے صوبوں کے لئے ایک روشن مثال قائم کی جس پر غیر ملکی کمپنیاں اور عالمی دونوں ادارے بھی دنگ رہ گئے اور اب عالمی سطح پر حکومت سندھ کے محکمہ پاپولیشن کی مثال دی جاتی ہے ۔ان کاموں کو کرنے میں سندھ کے موجودہ سیکرٹری پاپولیشن ڈاکٹر زاہد عباسی اور ان سے پہلے سیکٹری پاپولیشن رہنے والے لیءق laeeq Ahmed احمد کے نام بھی خاص طور پر قابل تعریف ہیں کہ انہوں نے بھی اپنے حصے کا کام بخوبی انجام دیا ۔

جو لوگ سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے بارے میں زیادہ معلومات نھیں رکھتے ان کی آگاہی کے لیے بتاتے چلیں کہ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کا تعلق پاکستان کے ایک نامور سیاسی گھرانے سے ہے وہ حاکم علی زرداری کی صاحبزادی اور پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ ہیں ان کے شوہر ڈاکٹر فضل پیچوہو حکومت پاکستان کے اہم عہدوں اور صوبائی حکومت میں سیکرٹری ہیلتھ سیکریٹری تعلیم سیکریٹری خزانہ سمیت انتہائی اہم عہدوں پر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں ۔وہ کرکٹ کے زبردست شیدائی اور کھلاڑی بھی ہیں اور ضلع ٹھٹھہ میں مکلی۔ کرکٹ سٹیڈیم ان کے بطور ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ دور میں ہی بنایا گیا تھا ۔
صوبائی وزیر صحت و پاپولیشن ڈاکٹر عذرا فضل پیچو ہو سندھ اسمبلی کی ممبر بننے سے پہلے سال 2002 سے لے کر 2018 تک قومی اسمبلی کی ممبر بھی رہ چکی ہیں انہوں نے ڈاؤ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا تھا سال 2002 کے عام انتخابات میں انہوں نے نوابشاہ کے حلقہ این اے 213 سے کامیابی حاصل کی تھی وہ ستر ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرکے پاکستان مسلم لیگ قاف کے امیدوار زاہد حسین شاہ کو شکست دے کر قومی اسمبلی کی ممبر منتخب ہوئی تھیں ۔وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اِز بسٹ کی چانسلر بھی بنیں۔ 2008 کے انتخابات میں وہ نوابشاہ کے حلقہ این اے 213 سے ایک مرتبہ پھر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئیں اس مرتبہ انہوں نے ایک لاکھ 8 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے اور مسلم لیگ فنکشنل کے امیدوار سید زاہد حسین شاہ کو شکست دی ۔سال 2013 کے الیکشن میں انہوں نے تیسری مرتبہ قومی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی اس مرتبہ انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار عنایت علی رند کو شکست دی اور ایک لاکھ تیرہ ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے ۔
سال 2018 کے انتخابات میں پارٹی نے انہیں شہید بینظیرآباد کی صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 37 سے ٹکٹ دیا اور انہوں نے شاندار انداز میں کامیابی حاصل کی ۔انہیں سید مراد علی شاہ کی کابینہ میں ممبر بنایا گیا اور پھر صحت اور بہبود آبادی کا قلمدان سونپا گیا