باز اور شکروں کے ہوتے ہوئے چڑیا کے بچے پرورش پاتے ہیں

کافی لوگ تھے، سب خاموشی سے سن رہے تھے کہ واصف علی واصف کہنے لگے ’’آندھیاں سب چراغ بجھا نہیں سکتیں، باز اور شکروں کے ہوتے ہوئے چڑیا کے بچے پرورش پاتے ہیں، اسی طرح شیر دھاڑتے رہتے ہیں اور ہرن کے خوبصورت بچے کلیلیاں بھرتے رہتے ہیں، فرعون نے سب بچے ہلاک کر دیے مگر اصل بچہ اس کے گھر میں پرورش پاتا رہا۔
یہ سب مالک کے کام ہیں، اس کی پیدا کردہ مخلوق اپنے اپنے مقرر شدہ طرزِ عمل سے زندگی گزارتی ہے۔ زمانہ ترقی کر گیا ہے مگر مکھی، مچھر اور چوہے اب بھی پیدا ہوتے ہیں۔ جراثیم کش دوائیاں نئے جراثیم پیدا کرتی ہیں۔
طبِ مشرق و مغرب میں بڑی ترقی ہوئی ہے مگر بیماریوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، انسان کل بھی دکھی تھا، آج بھی سکھی نہیں۔ علاج تو خالق کے قرب میں ہے، لوگ سمجھتے ہی نہیں‘‘۔
کورونا وائرس نے پاکستانی سیاستدانوں کو بےنقاب کر کے رکھ دیا ہے، یہ کس طرح لڑ رہے ہیں، ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست کے علاوہ شاید انہیں کچھ آتا ہی نہیں۔ صوبے اور وفاق الجھ رہے ہیں۔
میں گزشتہ سات آٹھ سال سے ’’جنگ‘‘ کے صفحات پر مسلسل لکھ رہا ہوں کہ اٹھارہویں ترمیم ملک کے لئے نقصان دہ ہے، اس ترمیم سے ہماری فیڈریشن کمزور ہوئی، اس سے وفاق کمزور ہوا، ہمارے سیاستدانوں نے محض مفادات کے لئے، اپنی سیاسی جاگیریں بچانے کے لئے ایسی ترمیم منظور کی جس کا پاکستان کو نقصان ہوا۔ آج ملک اس کا خمیازہ بھگت رہا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے کورونا پر سوموٹو ایکشن لیا، جو باتیں سپریم کورٹ میں ہو رہی ہیں وہ بالکل درست ہیں۔ چیف جسٹس حکومتوں اور سیاستدانوں کے بارے میں درست فرما رہے ہیں مگر یہ لوگ کسی کی ماننے کو تیار نہیں۔

کچھ حکومتی لوگوں کو تو اس خاکسار نے بتایا کہ فلاں ڈاکٹر صاحب کے پاس کورونا کا علاج ہے، وہ تیس سکینڈ میں ٹیسٹ کر لیتے ہیں اور چوبیس گھنٹے میں علاج، آپ سے پیسے کے طلبگار بھی نہیں مگر فارماسیوٹیکل مافیا بہت طاقتور ہے۔ وہ نہ طب کے علاج کو آگے بڑھنے دیتا ہے نہ ہی ہومیوپیتھک کو اور ہربل کو تو یہ کہہ کر رد کر دیتا ہے کہ یہ سائنس نہیں۔
پتا نہیں حکومتی نمائندے سنجیدہ کیوں نہیں۔ اگر اس مہلک وبائی مرض کا علاج کوئی بتا رہا ہے تو کم از کم اس سے رابطہ تو کر لیا جاتا۔ اس خاکسار نے ڈاکٹر خالد بٹ سے متعلق وزیراعظم کو بتایا پھر مشیرِ صحت کو بتایا، وزارتِ صحت کے افسران کو بتایا مگر افسوس سائنس کے ماروں میں سے کوئی رابطہ نہ کر سکا۔
اب جب سیاستدانوں کی آپس کی لڑائیوں کا تماشا لگا ہوا ہے، اس کے مناظر سپریم کورٹ میں بھی پہنچ چکے ہیں اور آفت بڑھتی جا رہی ہے تو ایسے میں مجھے ایک حدیث یاد آ رہی ہے۔ فخرِ دو جہاں نبی پاک حضرت محمدﷺ کا فرمان ہے ’’لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ اُن کا مقصد اُن کا پیٹ ہو گا، دولت ان کی عزت ہو گی، عورت اُن کا قبلہ ہو گا، روپیہ اُن کا دین ہو گا، وہ بدترین لوگ ہوں گے اور آخرت میں اُن کا حصہ نہیں ہو گا‘‘۔
خواتین و حضرات! اس حدیثِ مبارکہ کے ایک ایک لفظ پر غور کریں پھر اپنے حکمرانوں کو دیکھیں تو آپ کو جواب مل جائے گا۔ آج کے حکمرانوں میں سے بہت سے دولت کے پجاری ہیں اور کچھ کا قبلہ عورت ہے۔ یہ تو مدینۃ العلم بات تھی۔ اب ذرا باب العلم کی بات بھی سن لیجئے۔

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ’’آخری زمانے کے لوگ بھیڑیے ہوں گے اور حکمران درندے۔ درمیانی طبقہ کھا پی کر مست رہنے والوں پر مشتمل ہو گا، غریب نادار اور مردہ، سچائی دب جائے گی اور جھوٹ ابھر کر آئے گا۔ محبت صرف زبانوں تک محدود رہ جائے گی، لوگ دلوں میں ایک دوسرے سے کشیدہ رہیں گے۔ اس دور میں عفت و پاکدامنی نرالی سمجھی جائے گی اور اسلام کا لبادہ پوستین کی طرح الٹا اوڑھا جائے گا‘‘۔
خواتین و حضرات! حضرت علی ؓ کے اس فرمان کے ایک ایک لفظ پر غور کریں پھر اپنے معاشرے کو دیکھیں اور پھر ایک نگاہ اپنے حکمرانوں پر کریں، کیا لوگ بھیڑیوں جیسے نہیں، کیا جھوٹ کو قابلِ فخر نہیں سمجھا جا رہا، کیا درمیانی طبقہ مست نہیں، کیا غریب نادار نہیں ہیں۔
کیا زبانیں صرف زبانی محبتوں کے دعوے نہیں کرتیں، کیا لوگوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لئے کدورتیں نہیں ہیں، کیا لوگوں کے دلوں میں کشیدگی نہیں، کیا عفت و پاکدامنی کو نرالا اور برا نہیں سمجھا جا رہا، کیا اسلام کا لبادہ پوستین کی طرح الٹا نہیں اوڑھا جا چکا اور کیا حکمرانوں کے اعمال درندوں جیسے نہیں؟ ان سوالوں کے جواب اپنے معاشرے سے تلاش کریں۔ اب بھی وقت ہے توبہ کر لی جائے۔
اب بھی وقت ہے رب کائنات کی طرف رجوع کیا جائے، اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے مگر انسان خود کو بڑا سمجھتے ہیں، اسی تکبر نے انہیں رسوا کیا۔ لالچ، حسد، بغض اور تکبر سے بھرے انسان سمجھتے نہیں، انہیں یہ سب کچھ چھوڑ کر خالق کے آگے جھکنا ہو گا۔ فی الحال فرحت زاہد کا کورونائی شعر:
بھری بہار میں کھلا جدائیوں کا سلسلہ
اڑا کے رنگ لے گیا جدائیوں کا سلسلہ
Mazhar-Barlas-Jang