انقلاب کی کوششیں خونریزی کی شکل اختیار کر سکتی ہیں

کورونا وائرس نے ایک عالمی وبا کی صورت میں پوری دنیا میں جو تباہی پھیلا رکھی ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور یہ صدیوں تک یاد رکھی جائے گی۔ غیب کا علم تو اللہ تعالیٰ جانتا ہے، میں نے اللہ کریم کے عطا کردہ علم الاعداد کی روشنی میں کورونا وائرس سے کئی مہینے قبل اس قسم کی تباہی کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ سال 2020میں پوری دنیا کسی بڑی جانی اور مالی تباہی سے دوچار ہو سکتی ہے۔ یہ بات قطعی نہیں ہے کہ کسی بھی علم کی بنیاد پر قبل از وقت کچھ پیش گوئی حرف بہ حرف درست ثابت ہو۔ علم الاعداد کے ذریعے کچھ خاص اشارے ملتے ہیں اور امکانات نظر آتے ہیں اور اکثر نوے فیصد درست ثابت ہوتے ہیں باقی حکم تو مالکِ کُن فیکون کا چلتا ہے۔ وہ جب جو چاہے کر دے۔ اب کورونا کی تازہ ترین مثال سب کے سامنے ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کی عظمت کی نشانی ہے۔ جس ملک کو ہم دنیاوی لحاظ سے سپر پاور کہتے رہے اور جن ممالک کی ترقی اور ٹیکنالوجی کی مثالیں دی جاتی رہیں وہ سب کہاں ہیں؟ صرف ایک عذابِ الٰہی کے سامنے سب بےبس اور ڈھیر ہو گئے۔ اب بھی کوئی نہ سمجھے تو کیا کیا جا سکتا ہے۔

کورونا وائرس تو جب اللہ پاک چاہے گا، ختم کر دے گا البتہ جانی نقصان کے علاوہ معاشی طور پر ہونے والے نقصان کو دنیا ایک عرصے تک بھگتے گی۔ ابھی کورونا کے وار جاری ہیں اور دنیا میں غربت اور بیروزگاری میں ناقابلِ یقین حد تک اضافہ ہو رہا ہے لیکن کورونا کے خاتمہ کے بعد ہی دنیا کو پتا چلے گا کہ غربت میں کتنا اضافہ ہوگا۔ اجناس کی پیداوار اور ترسیل میں کمی اور بیروزگاری میں بڑھوتری ہوگی۔ پوری دنیا میں بہت ساری تبدیلیاں بھی ہوں گی۔ مثال کے طور پر جنگی ساز و سامان کی تیاری اور خرید میں نمایاں کمی نظر آئے گی۔ طبی سامان، ادویات کی تیاری اور معاشی ترقی کے لئے کوششوں میں اضافہ ہوتا دکھائی دے گا اور یہی ترقی کے راز ہیں۔ کئی ممالک کے آپس کے اختلافات ختم کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔ البتہ چند ایک ممالک میں انقلاب کی کوششیں خونریزی کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ ترقی پزیر ممالک میں سے اگر کسی ملک یا چند ایک کو عادل، صالح اور مومن مسلمان حکمران مل جائیں تو وہ ملک دن دگنی رات چوگنی ترقی کر سکتے ہیں۔ بھارت کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں بڑی تباہی سے دوچار ہو سکتا ہے۔ بھارت کے اندر مسلم تعصب کی وجہ سے ایک بار پھر خونریزی شروع ہو سکتی ہے۔ اندرونِ بھارت یہی ہندوتوا سوچ ایک ایسے انقلاب میں تبدیل ہوگی جس سے بھارت کے ٹکڑے ہو جائیں گے۔
مقبوضہ کشمیر میں عرصہ سے جاری بھارتی مظالم کے خلاف کشمیری نکل آئیں گے اور حصولِ آزادی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور آخرکار آزادی حاصل کر لیں گے۔ جہاں تک وطن عزیز کا تعلق ہے یہاں بھی تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ نظام کی تبدیلی سے پاکستان ترقی کی طرف گامزن ہونا شروع ہو جائے گا۔ مخلص اور دیانت دار لوگ برسراقتدار آتے نظر آرہے ہیں جن کو عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہو گی۔ عوام خوشحال ہونا شروع ہو جائیں گے۔ جہاں تک موجودہ ملکی حالات کا تعلق ہے تو اس میں برداشت، قومی و مذہبی ہم آہنگی نہیں ہے۔ حکمرانوں کی ساری توجہ مخالفین کو ذلیل و رسوا کرنے پر ہی مرکوز ہے۔ ذاتی انا، انتقام اور تسکین کے لئے سیاسی اور بعض غیر سیاسی مخالفین کے خلاف بے بنیاد مقدمات اور میڈیا ٹرائل کو ہی مقدم اور ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ اسکینڈل پر اسکینڈل تیار کر کے سامنے لائے جا رہے ہیں۔ اب تک کئے گئے ایسے اقدامات کے نتائج سوائے تلخیاں بڑھانے، بدنامی اور ماحول کو خراب کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں نکل سکے۔

اس طریقہ کار سے ملک میں بےچینی اور بےیقینی کی کیفیت میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایک طرف کورونا نے ملک کو جانی نقصان سے دوچار کیا ہوا ہے اور کاروبارِ زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے، غریب کو کورونا سے زیادہ بیروزگاری، مہنگائی اور بھوک سے خطرہ محسوس ہو رہا ہے لیکن حکمران اس عالمی تباہی میں بھی انا اور انتقام کے خول سے باہر نہیں نکل سکے۔ وہی سوچ اور طریقہ کار ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وزیراعظم عمران خان منفی سوچ رکھتے ہیں بلکہ وہ تو حالات کو سدھارنے کے لئے کسی بھی وقت کسی بھی معاملہ میں یوٹرن لے لیتے ہیں۔ اصل کام تو اس جمہوری حکومت میں غیر جمہوری اور غیر منتخب لوگوں کا ہے جو وزیراعظم کے بہت قریبی ہیں۔ وہ اپنے ذاتی انتقام اور مفادات کے حصول کے لئے ان کو غلط مشورے دے کر اپنی متعین کردہ راہ پر چلانے کی کوششیں کرتے ہیں۔ میں جتنا ذاتی طور پر عمران خان کو جانتا ہوں یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے ان کی سوچ اور مزاج سے مطابقت نہیں رکھتا۔ وہ فطری طور پر معاف کر دینے اور حالات کو پُرسکون رکھنے والے ہیں لیکن شاید بعض لوگ ان کی اس سوچ پر غالب ہیں۔ اس تمام صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو کچھ ان سے کروایا جا رہا ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے یہ کسی بھی طرح ان کے حق میں بہتر اور مناسب نہیں۔
سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ میڈیا کے ساتھ بھی ناروا رکھا جانے والا سلوک کبھی بھی حکمرانوں کے لئے اچھا ثابت نہیں ہوتا۔ حکمرانی کا تقاضا یہ ہے کہ بعض معاملات خواہ حکمران کو ناپسند ہی کیوں نہ ہوں، بعض شخصیات خواہ اچھی نہ بھی لگتی ہوں لیکن اپنے منصب کے مطابق ان سے صرفِ نظر اور درگزر کرنا بہترین بدلہ ہے اور ایسا کرنا عزت میں اضافہ کرنے کا اہم ترین عنصر ہے۔ امید ہے کہ وزیراعظم عمران خان اب اس حسن سلوک کا عملی مظاہرہ کریں گے۔
S-A-Zahid-Jang