بھٹو نے کوٹ لکھپت جیل سے (اگر مجھے قتل کیا گیا) لکھ کر کسی طریقے سے عباس اطہر کو بھجوا دیا۔ مظفر الحسن کے پرنٹنگ پریس سے اشاعت کا اہتمام کیا انتظامیہ کو اسکی بھنک پڑ گئی پرنٹنگ پریس پر مارشل لاء ٹیم کا چھاپہ پڑ گیا

اگرچہ وہ خود بھی اپنے نام کے ساتھ لفظ ’’مولوی‘‘ ہی لکھا کرتے تھے مگر میں نے انہیں کبھی اس لفظ کے ساتھ نہیں پکارا۔ اس سے مولوی کے لفظ کی بے توقیری قطعاً مقصود نہیں۔ بھٹو کو پھانسی دینے والے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی اپنا نام مولوی مشتاق حسین ہی لکھے اور پکارے جانے میں فخر محسوس کرتے تھے اور اسی زمانے میں انگریزی روزنامہ پاکستان ٹائمز کے ایڈیٹر بھی خود کو مولوی محمد سعید لکھتے تھے۔ مجھے سعید اظہر صاحب مولوی کے لفظ کے ساتھ جچتے ہی نہیں تھے۔ میرا ان کے ساتھ پہلا تعارف نیلا گنبد انارکلی کے قریب موجود پندرہ روزہ گیت کے دفتر میں ہوا۔ سال 1975ء تھا اور رحمت علی رازی مجھے اس آفس میں اپنے ہمراہ لائے تھے جو یہاں بطور فیچر رائٹر کام کر رہے تھے۔ محمد سعیداظہر گیت کے ایڈیٹر تھے۔ بالکل سادہ سی شخصیت ، گفتگو کا آغاز ہوا تو ان کی زبان میں تھوڑی سی لکنت آ گئی مگر انہوں نے اپنی اس کمزوری پر فوری قابو پایا اور پھر بڑے پُرمغز الفاظ کے ساتھ مجھے پیشۂ صحافت پر لیکچر دے ڈالا۔ میں اس وقت پنجاب یونیورسٹی لاء کالج میں ایل ایل بی کا طالب علم تھا اور ساتھ ہی روزنامہ وفاق میں جزوقتی سب ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کر رہا تھا۔ رحمت علی رازی وہاں بھی بطور فیچر رائٹر ہی کام کرتے تھے جن کے ساتھ میری دوستی کی ابتدا بھی وہیں سے ہوئی چنانچہ وہ ’’گیت‘‘ کے آفس میں جاتے تو مجھے بھی ہمراہ لے جاتے۔ اس طرح سعید اظہر صاحب سے بھی میرا نیازمندی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ وہ مجھے اکثر کہا کرتے کہ میںآپ کو مستقبل کے ایک بڑے صحافی کے طور پر دیکھ رہا ہوں۔ ان کی اس بات پرمیری آنکھیں تعظیماً جھک جاتیں۔
فروری 1977ء میںمیرا لاء گریجویشن کا رزلٹ آ گیا مگر میرا دل پیشۂ وکالت اختیار کرنے کی جانب مائل نہ ہوا اس لئے میں وفاق کے ساتھ ہی وابستہ رہا جس کے مالک و ایڈیٹر مصطفی صادق صاحب بہت دبنگ شخصیت کے مالک تھے۔ قاضی جمیل اطہر صاحب وفاق کے ایگزیکٹو ایڈیٹر تھے اور سنجیدہ شخصیت ہونے کے باوجود بذلہ سنجی ان میںکوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ پیشۂ صحافت میں ان کی حیثیت میرے پہلے استاد کی ہے جبکہ صحافی کارکنوں میںرحمت علی رازی میرے ابتدائی دوستوں میں شامل ہیں۔ انہی کے ناطے سعید اظہر صاحب سے تعلق خاطر قائم ہوا جو ان کے انتقال تک نیاز مندی کی حد میں رہتے ہوئے برقرار رہا۔
میں جولائی 1977ء میں روزنامہ آزاد کے ساتھ وابستہ ہو گیا جو تحریک استقلال کا ترجمان اخبار تھا۔ اس وقت پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) کی تحریک نظام مصطفی ؐعروج پر تھی جس کے دوران میں-23 مارچ 1977ء کو چوک لاہور ہائیکورٹ سے شروع ہونے والے ائر مارشل اصغر خاں کے جلوس میں پولیس کے ہتھے چڑھ کر خود بھی گرفتار ہو گیا۔ اصغر خاں پی این اے کے بڑے لیڈروں میں شمار ہوتے تھے اور میری پی این اے کے ساتھ اس وقت نظریاتی اور جذباتی ہم آہنگی تھی۔ اس وقت روزنامہ وفاق پی این اے کا واحد ترجمان اخبار تھا جس کی اشاعت عملاً لاکھوں تک پہنچ گئی تھی۔ جب اصغر خاں نے اپنے پارٹی کے ترجمان اخبار کے طور پر روزنامہ آزادکے حقوق حاصل کر کے اس کا ازسرنو اجراء کیا تو اصغر خاں سے ذہنی ہم آہنگی ہونے کے ناطے میرے ذہن میں اس اخبار کو جوائین کرنے کا جنون پیدا ہو گیا۔ عباس اطہر صاحب اس کے ایڈیٹر تھے جن کی وفاق میں میرے سینئر کولیگ قربان انجم صاحب کے ساتھ گاڑھی چھنتی تھی چنانچہ میں ان سے عباس اطہر صاحب کے نام سفارشی مراسلہ لے کر آزاد کے دفتر آ گیا اور عباس اطہر صاحب نے اسی وقت میرے بطور ہائیکورٹ رپورٹر تقرر کے آرڈر جاری کرا دئیے۔ ضیاء الحق کے مارشل لاء کے آغاز کا وہ دور مارشل لاء مخالف سیاسی کارکنوںکے علاہ وہ پیشۂ صحافت کے لئے بھی بہت کٹھن دور تھا۔ بھٹو کے خلاف لاہور ہائیکورٹ کے پانچ رکنی فل بنچ میں نواب محمد احمد خاں کے قتل کے مقدمہ کی سماعت کا آغاز ہوا تو روزنامہ آزاد میں اس کی کوریج کی ذمہ داری بھی مجھ پر آن پڑی۔ اس کے ساتھ ساتھ عباس اطہر صاحب نے ادارتی صفحہ پر روزانہ کی بنیاد پر میرا کالم ’’سرگوشیاں‘‘ بھی شروع کرا دیا جس کا ’’لوگو‘‘ بطور خاص انہوں نے آزاد کے کارٹونسٹ خالد سعید بٹ سے تیار کرایا۔ یہ اخبار درحقیقت بھٹو مخالف جذبات کا ترجمان اخبار تھا اس لئے اس میں بھٹو کیس کی خبریں اور جھلکیاں بھی بھٹو کی کردارکشی کے تاثر پر مبنی ہوتیں جن کے ساتھ بھٹو کا چہرہ بگاڑ کر تیار کیا گیا بھٹو کا خاکہ شائع کیا جاتا جو خالد سعید بٹ بڑی مہارت کے ساتھ تیار کیا کرتے تھے۔
یہ دلچسپ صورت حال تھی کہ آزاد کے ایڈیٹر عباس اطہر ، نیوز ایڈیٹر مظفر الحسن ، شفٹ انچارج اظہر زمان، صادق جعفر ی اور ایڈیٹوریل انچارج سہیل ظفر ذہناً ذوالفقار علی بھٹو اور پیپلز پارٹی کے حامی تھے مگر ’’آزاد‘‘ کی پالیسی کے مطابق وہ اس اخبار کے پلیٹ فارم پر بھٹو کی کردار کشی کی مہم چلا رہے تھے۔ بھٹو مرحوم نے کوٹ لکھپت جیل سے اپنے پرآشوب دور کے حوالے سے ایک کتابچہ IF I AM ASSESINATED (اگر مجھے قتل کیا گیا) لکھ کر کسی طریقے سے عباس اطہر کو بھجوا دیا۔ انہوں نے مظفر الحسن کے پرنٹنگ پریس سے اس کی اشاعت کا اہتمام کیا جس کی تقسیم کے دوران مارشل لاء انتظامیہ کو اسکی بھنک پڑ گئی چنانچہ پرنٹنگ پریس پر مارشل لاء ٹیم کا چھاپہ پڑ گیا۔ شائع کئے گئے کتابچہ کی کاپیوں سمیت پرنٹنگ پریس ضبط کر لیا گیا اور عباس اطہر اور مظفر الحسن گرفتار کر لئے گئے جن کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کر کے فوجی عدالت منتقل کر دیا گیا۔ عباس اطہر کی گرفتاری کے کوئی ایک ہفتے بعد سعیداظہر صاحب اخبار کے نئے ایڈیٹر مقرر ہو گئے چنانچہ میرا ان کے ساتھ تعلق خاطر اور بھی بڑھ گیا ۔ کرنل مظفر اخبار کے مینجنگ ڈائریکٹر تھے جو انڈس ہوٹل کے عقب میں موجود آبادی وکٹوریہ پارک کے ایک حویلی نما گھرمیں مقیم تھے۔ سعیداظہر صاحب ایک قابل اعتماد ساتھی کی حیثیت میںمجھے ایڈیٹوریل میٹنگ کے لئے اپنے ساتھ ان کے گھر لے جایا کرتے۔ ہم دونوں آفتاب چیمبر میں ’’آزاد‘‘ کے دفتر سے نکلتے اور پیدل چلتے ہوئے کرنل مظفر کے گھر جاتے۔ سعیداظہر صاحب اکثر مجھے کہا کرتے کہ آپ کا اصل مقام نوائے وقت ہے۔ آپ وہاں جانے کی کوشش کریں۔ اس دوران وہ نوائے وقت کی صحافت کے حوالے سے اپنے تجربات بھی میرے ساتھ شیئر کرتے۔ بھٹو مرحوم کے ساتھ ان کی ذہنی اور جذباتی ہم آہنگی عباس اطہر سے بھی زیادہ تھی چنانچہ انہوں نے اپنی ادارت میں بھٹو کی کردار کشی والے کارٹون شائع نہ ہونے دئیے۔ اسرار بخاری اس وقت نیوز ایڈیٹر تھے جنہوں نے عباس اطہر کی بنائی گئی اچھوتی ہیڈلائنز کی طرح ضیاء حکومت کی مخالفت کا تاثر دینے والی ہیڈلائنز لگانا شروع کر دیں جیسے ’’اندھیرا پھیل گیا‘‘ ’’تاریکی چھا گئی ‘‘ عباس اطہر کا تو یہ کمال تھا کہ انہوں نے جسٹس کے ایم اے صمدانی کی عدالت سے بھٹو مرحوم کی ضمانت پر رہائی کی خبر پر صرف یک لفظی سرخی ’’جا‘‘ نکالی اور صحافتی حلقوںمیں دادسمیٹی۔ اس کے برعکس اسرار بخاری صاحب کی نکالی گئی سرخیوں سے اخبار کا زوال شروع ہو گیا اور آصف فصیح الدین وردگ ’’آزاد‘‘ کے مینجنگ ڈائریکٹر کا چارج سنبھالنے کے کچھ عرصہ بعدہی ضیاء حکومت کے دبائو پر اخبار وائینڈ اپ کرنے پر مجبور ہو گئے۔ سعیداظہر صاحب نے مجھے قائل کرکے نوائے وقت بھجوایا مجید نظامی صاحب نے میری درخواست پر مجھے ٹیسٹ کے لئے نیوز ایڈیٹر وحید قیصر کے پاس بھیج دیا جنہوں نے مجھے دیکھتے ہی ماتھے پر تیوڑیاں ڈالتے ہوئے یہ فقرہ چست کیا کہ آپ کبھی صحافی نہیں بن سکتے پھر انہوں نے اپنے اسی مائینڈ سیٹ کے باعث مجھے ٹیسٹ میں بھی فیل قرار دے دیامیں نے سعید اظہر صاحب کو رودادسنائی تو انہوں نے وحید قیصر صاحب کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ان پر تبرہ کسا اور مجھے ہمت نہ ہارنے کا درس دیا۔ میں نے آزاد کے بعد روزنامہ صداقت جوائن کر لیا اور وہاں سے پھر وفاق میں آ گیا۔ 1981ء میں روزنامہ جنگ کا لاہور سے اجراء ہوا تو وفاق کا پورا نیوز ڈیسک نیوز ایڈیٹر ایم ارشد ، منصور حیدر اور میرے سمیت جنگ میں آ گیا اور اس اخبار کی پہلی ڈمی ہم نے ہی تیار کی۔ جنگ جوائین کرنے کے دس پندرہ روز بعد ہی مجھے نوائے وقت سے ٹیسٹ کے لئے بلاوا آ گیا۔ میں نے سعیداظہر صاحب کو آگاہ کیا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ میں نے جنگ کو خیربادکہا اور ٹیسٹ دینے نوائے وقت آ گیا۔ اس بار محترم مجید نظامی نے نیویارک ٹائمز کا ایک مضمون مجھے ترجمہ کرنے کے لئے دیا اور اور توصیف احمد خاں صاحب کے پاس بھجوا دیا جنہوں نے میرے ترجمے کی بنیاد پر میرے بطور سب ایڈیٹر تقرر کی سفارش کی اور اس طرح نوائے وقت کے ساتھ وابستگی کا میرا خواب پورا ہو گیا جس کی مجھ سے بھی زیادہ سعید اظہر صاحب کو خوشی ہوئی۔ وہ جس کے ساتھ تعلق خاطر رکھتے ،بے پناہ رکھتے تھے اور اپنے سے زیادہ ان کے مستقبل کے لئے فکر مند ہوتے تھے۔ کافی عرصے سے کینسر کے موذی مرض کا سامنا کر رہے تھے اور بالآخر انہوں نے اس موذی مرض کا مقابلہ کرتے کرتے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ وہ بلاشبہ بہت بلند پایہ صحافی تھے مگر اپنی سادہ مزاجی کے باعث تنگدستی کی زندگی گزاری اور اسی پر قناعت کئے رکھی۔ انہوں نے کٹھن سے کٹھن حالات میں بھی اپنے نظریۂ انسانیت کو کبھی کمزور نہ ہونے دیا ’’ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ‘‘۔ واہ سعیداظہر واہ:
جاتے ہوئے کہتے ہو، قیامت کوملیں گے
کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور-Saeed-AAsi-Nawaiwaqt