خبر کو پکڑنا اور اس کو ہائی لائٹ کرنا‘ اس معاملے میں میر شکیل الرحمٰن کا کوئی ثانی نہیں

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں بھوک ہڑتالی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرشکیل الرحمان پر بےبنیاد پرچے بنائے گئے جو 35سال پرانے تھے‘ یہ بدنصیبی ہےکہ جن لوگوں کو ہمیں نوازنا چاہئے ان کو ہم جیلوں میں بند کر دیتے ہیں ، میرشکیل الرحمان کی غیرقانونی گرفتاری اور آزادی صحافت پر حملے کیخلاف خلاف پیر کو چوتھے روز بھی جیو کے آفس کے باہر جنگ‘ جیو اور دی نیوز جوائنٹ ورکرز ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا گیا‘ ایڈیٹر انوسٹی گیشن انصار عباسی‘ سینئر میگزین ایڈیٹر فاروق اقدس اور نیشنل پریس کلب کے جوائنٹ سیکرٹری شیراز گردیزی نے بھوک ہڑتال میں حصہ لیا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان سابق وفاقی وزیر مریم اورنگزیب نے بھوک ہڑتالی رہنمائوں کو جوس پلا کر بھوک ہڑتال ختم کرائی۔ شاہد خاقان عباسی نے بھوک ہڑتالی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قوم اس وقت کورونا وائرس جیسی وباء سے لڑ رہی ہے‘ مگر افسوس کہ ہمارے حکمران ان عوامی مشکلات سے بے خبر ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ جنگ جیو گروپ ایشیا کے بڑے میڈیا اداروں میں سے ایک ہے‘ میڈیا کو اگر چلنے نہیں دیا جائے گا تو اس سے ملک کی معاشی ترقی متاثر ہوگی۔ پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل ناصر زیدی نے کہا کہ ماضی میں صحافیوں نے جرنیلوں کو چیلنج کیا اور سرخرو ہوئے‘ نہ صرف موجودہ بلکہ مستقبل میں ہماری نسلیں بھی آمرانہ اقدامات کو چیلنج کرتی رہیں گی۔ گولی کھا لیں گے پر آزادی صحافت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین اور جنگ یونین کے صدر ناصر چشتی نے کہا کہ بھوک ہڑتالی قافلہ تحریک آزاد صحافت ہراول دستہ ہے جو میڈیا ورکرز کو مالی بحران سے نکانے تک جاری رہے گا۔ سینئر صحافی افضل بٹ نے کہا کہ ملک میں جب بھی پریس فریڈم پر حملہ ہوا تو پی ایف یو جے ہمیشہ انصاف کے لئے سڑکوں پر نکلی۔

جنگ بیورو کے چیف حافظ طاہر خلیل نے کہا کہ میڈیا عوام دشمن عناصر کو بے نقاب کرتا ہے اور اس وجہ سے جنگ گروپ پر وار ہوا ہے۔ سینئر میگزین ایڈیٹر فاروق اقدس نے کہا کہ جنگ گروپ نے ہمیشہ مزاحمتی صحافت کی ہے۔ ایڈیٹر انویسٹی گیشن انصار عباسی نے کہا کہ میں جس میر شکیل الرحمان کو جانتا ہوں وہ کاروباری شخص نہیں بلکہ صحافی ہیں۔ خبر کو پکڑنا اور اس کو ہائی لائٹ کرنا‘ اس معاملے میں میر شکیل الرحمٰن کا کوئی ثانی نہیں۔ سینئرصحافی مطیع اللہ جان نے کہا کہ صرف میڈیا ہی نہیں تمام انڈسٹری بحران کا شکار ہے۔ نیشنل پریس کلب کے جوائنٹ سیکرٹری شیراز گردیزی نے کہا کہ انسانی حقوق کے اداروں نے میرشکیل الرحمٰن کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔آر آئی یو جے کے سیکرٹری جنرل آصف علی بھٹی نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن کو ایک ناجائز طریقے سے پھنسا کر سرکاری مہمان بنایا گیا۔اس موقع پر سینئر رپورٹر نوشین یوسف ، سینئر رپورٹر آمنہ عامر ، سینئر رپورٹر آصف بشیر چوہدری ، آصف بشیر ، سینئر رپورٹر اعزاز سید ، سینئر کیمرا مین شبیر ڈار ، سینئر کیمرا مین جہانگیر چوہدری ، سینئر سپورٹس رپورٹر معید شاہ ،ڈاکٹر عبداللہ‘ ڈاکٹر غلام عباس‘ سید منیر شاہ اور ملک نصرت نے بھی خطاب کیا اور میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کی مذمت اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا-