سندھ حکومت سست پڑ گئی: کیا ”انیل کپُور“ کو کسی ”امریش پُوری“ نے ڈرایا ہے؟

22 مارچ 2020 والے وزیر اعلیٰ سندھ کہاں گئے؟ وہ جوش، جذبہ، وِیژن، وبا سے لڑنے کا عزم، عقل اور دُوراندیشی والی حکمتِ عملی کہاں غائب ہو گئی؟ اور ہفتے ڈیڑھ سے ایک عجیب سکُوت سا کیوں طاری ہے؟ لاک ڈاؤن سے لے کر ٹیسٹنگ تک ڈھکوسلا سا کیوں نظر آ رہا ہے؟ جو فرق ملک کا ہر عام سے عام فرد بھی محسوس کر سکتا ہے۔ ہماری سندھ، جو ہر فیصلے میں بروقت حفاظتی و احتیاطی اقدامات کر کے، باقی صوبوں کو ”لیڈ“ کر رہی تھی اور وفاق کی واضح مخالفت کے باوجود یکے بعد دیگرے تمام صوبے اگلے 24، 48 گھنٹوں کے اندر اندر ہماری تقلید کر رہے تھے، وہ صُوبہ اچانک ”بَیک فُٹ“ پر کیوں چلا گیا؟
ایسا کیسا اور کہاں کا دباؤ پڑا؟ کہ اچانک سے بولتی ہی بند ہو گئی؟ وہ مراد علی شاھ، جس کے انقلابی اقدامات نے، پی پی پی اور سندھ حکومت کی گزشتہ 12 برس کی نا اہلی، کرپشن، بدعنوانیوں اور عوام کے ساتھ کی گئی زیادتیوں کا کسی حد تک منّہ دھونے کا کچھ نہ کچھ اہتمام کیا تھا اور کسی بھی طرح حالات نے پیپلز پارٹی کو ایسا موقعہ دے دیا تھا، کہ وہ عوام کی نظر میں اپنی ختم شدہ ساکھ کسی حد تک بحال کر سکے، تو اچانک حکومتِ سندھ نے گاڑی کو ”ڈبل ٹاپ“ گیئر سے دوسرے گیئر میں کیوں ڈال دیا؟ ہمارے جذباتی لوگ تو شاہ صاحب کی تصویریں اپنی فیس بُک ”ڈی پیز“ پر سجا کر انہیں کھیر اور گندم کے دانَ چڑھا رہے تھے اور ہمارے سادہ لوح عوام نے تو انہیں دیوتا سمجھ کر پُوجنے کے اہتمام پورے کر لیے تھے، کہ یہ اچانک بساط نے پلٹا کیسے کھایا؟
روزانہ شام 5 بجے وزیرِاعلیٰ ہائُوس میں کورونا سے متعلق خاص میٹنگ ہوتی ہے۔ ذرائع کے مطابق مارچ کے اواخر میں کسی شام چلنے والی معمول کی اسی میٹنگ کے دوران وزیرِاعلیٰ کو کوئی ”غیر معمولی“ ہدایات موصول ہوئیں، جو بظاہر تو پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری صاحب کی جانب سے تھیں، مگر ان میں (شاید) اسلام آباد یا اس کے گردونواح سے کوئی ایسی ”ہدایات“ شامل تھیں، جن کے تحت ”گاڑی احتیاط سے چلائیں۔ آگے روڈ زیرِ تعمیر ہے۔

“ جیسا کوئی پیغام ارسال کر کے خبردار کیا گیا تھا، کیونکہ حکومتِ سندھ کی تب تک کی ”دھواں دار رفتار“ سے زیرِتعمیر کئی روڈوں کے قابلِ پردہ راز افشا ہو رہے تھے۔ اس حوالے سے ”کورونا ٹیسٹنگ کٹس“ کے چین سے بذریعہ کارگو جہاز کراچی پہنچنے والی ”شپمینٹ“ کو حکومتِ سندھ کی جانب سے وصول کرنے والے معاملے پر وفاق اور ”این ڈی ایم اے“ کے ناراضی والی بات میں چاہے جزوی صداقت ہو بھی، مگر ایک خیال یہ بھی ہے کہ ملک کے ”اہم اداروں“ نے اس بحران کو جب سے خود ”ریگیولیٹ“ کرنے کے لیے کَمر کِس لی ہے، تب سے سب کی ”حدود“ کا تعیّن کیا گیا ہے اور ہر کسی کو فقط ”ایک ہی چینل“ سے ملنے والی ہدایات پر عمل کرنے اور اپنی جانب سے کوئی بھی پیش رفت نہ کرنے کی سختی سے ہدایات دی گئی ہیں، تاکہ صوبے سیاسی ”عدم توازن“ کا شکار نہ ہوں
اُن دو چھوٹے صوبوں کی تو خیر ہے، مگر خاص طور پر ”بڑے بھائی“ (صوبے ) کی عزت پر اس بات سے کافی حرف آ رہا تھا کہ وہ سندھ کے اقدامات کی تقلید کرے۔ صرف حکومتِ سندھ ہی نہیں، بلکہ اگر آپ ہمہ جہت نظر پھیریں تو وزیرِاعظم کے بیانیے نے بھی ”یُوٹرن“ کھایا ہے۔ وہ ”پَردھان منتری“، جن کے کورونا کے حوالے سے قوم سے کے گئے چاروں خطابات کا لُبِّ لباب یہی تھا کہ ”لاک ڈاؤن نہیں ہوگا۔ نہیں ہوگا۔ نہیں ہوگا۔ “، ان کی جانب سے اس مسلسل انکار کے باوجود جب ایک کے بعد دوسرے، دوسرے کے بعد تیسرے اور تیسرے کے بعد چوتھے، سب صوبے لاک ڈاؤن کی طرف چلے گئے اور اسلام آباد بھی عملاً تالابند ہو گیا، تو پھر اس وفاقی حکومت کی جانب سے ”این۔
سی۔ سی“ (نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی) کے کندھے پر بندوق رکھ کر، اپریل کے آغاز میں دو ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان کرایا گیا۔ وہ وزیرِاعظم، جو ”گھبرانا نہیں ہے۔ “ کا گِھسا پِٹا راگ آلاپتے نہیں تھکتے تھے، اور ناں ہونے کے برابر ٹیسٹ کٹس کے بل پر فرما رہے تھے کہ ”اللہ کا ہمارے ملک پر خاص کرم ہے، کہ ہمارے یہاں کورونا کے کیسز اتنی تعداد میں ظاہر نہیں ہوئے! “، انہوں نے بالآخر کچھ دن قبل یہ کہا کہ ”یہ وبا خطرناک ہے اور اپریل کے آخر تک ملک کے ہسپتالوں میں ہمارے پاس مریضوں کے رکھنے کی گنجائش تک نہیں ہوگی۔

“ بدلتے ہوئے آسمان کے یہ رنگ بھی بڑے ہی دلچسپ ہیں، کہ اچانک کسی کونے کھدرے میں پڑے مُہرے (اسد عُمر) کی دُھول صاف کر کے، اسے قلئی کر کے، کورونا کے معاملات کا شملا بندھوا کے ہر اعلان کے لیے اسے آگے کر دیا گیا ہے، کہ تم وفاق کے ”بھونپُو“ بنو اور یہ بھی کہ ”لاک ڈاؤن“ کا لفظ استعمال نہیں کرنا! ”بندش“ وغیرہ کہہ دینا! کیونکہ ہم شروع ہی سے ”لاک ڈاؤن“ کی براہِ راست مخالفت کر رہی ہیں اور اچانک سے اس کے حق میں کھڑے ہو کر ہمارا اعلان کرنا اچھا نہیں لگے گا! اور لوگ پھر اس بات پر بھی ”یو ٹرن“ کا لعن طعن کریں گے۔ ویسے بھی آج کل وزیرِاعظم کے ہواریوں میں سے اُسی ”کیمپ“ کی سبقت کے دن ہیں، جس سے اسد عمر کا تعلق ہے اور اِس کی مخالف کیمپ والے دوستوں کا ستارہ ان دنوں کچھ گردش میں ہے۔
یہ بات مقامی میڈیا کا ہر فرد جانتا ہے کہ سندھ کے وزیرِاعلیٰ کا اپنے میڈیا اسٹاف کو رات 8 بجے نشر ہونے والے دو عدد، 10 بجے چلنے والے فقط ایک اور 11 بجے نشر ہونے والے ایک ٹی وی نیوز شو (جس کی میزبانی بقول ان کے، ان کے ”ذاتی دوست“ کرتے ہیں ) کے علاوہ دوسرے کسی بھی ٹی وی شو میں فون پر آن ایئر بات کرنے کے لیے ذاتی طور پر آنے سے منع کیا ہوا ہے۔ منگل، 7 اپریل کو جب وزیرِاعلیٰ کو رات 10 بجے والے مشہور ٹی وی نیوز پروگرام میں فون لائن پر آن ایئر لیا گیا، تو ان کے ہر سوال کا جواب نہ صرف دو ہفتے قبل والے اعتماد سے خالی تھا، بلکہ وہ مکمّل طور ”بے سَمت“ (ڈائریکشن لیس) بھی نظر آئے اور ان کے اختیارات جیسے بندھے ہوئے سے محسوس ہوئے۔ کچھ دیر کے لیے تو یہ گمان ہوا کہ کہیں میں پنجاب یا خیبر پختونخواہ کے وزرائے اعلیٰ میں سے تو کسی کی بات چیت نہیں سن رہا؟ مثال کے طور پر سوال کیا گیا کہ: ہم لاک ڈاؤن ختم ہونے کی طرف جا رہے ہیں۔ کیا آپ لاک ڈاؤن میں توسیع کریں گے؟
اُن دو چھوٹے صوبوں کی تو خیر ہے، مگر خاص طور پر ”بڑے بھائی“ (صوبے ) کی عزت پر اس بات سے کافی حرف آ رہا تھا کہ وہ سندھ کے اقدامات کی تقلید کرے۔ صرف حکومتِ سندھ ہی نہیں، بلکہ اگر آپ ہمہ جہت نظر پھیریں تو وزیرِاعظم کے بیانیے نے بھی ”یُوٹرن“ کھایا ہے۔ وہ ”پَردھان منتری“، جن کے کورونا کے حوالے سے قوم سے کے گئے چاروں خطابات کا لُبِّ لباب یہی تھا کہ ”لاک ڈاؤن نہیں ہوگا۔ نہیں ہوگا۔ نہیں ہوگا۔ “، ان کی جانب سے اس مسلسل انکار کے باوجود جب ایک کے بعد دوسرے، دوسرے کے بعد تیسرے اور تیسرے کے بعد چوتھے، سب صوبے لاک ڈاؤن کی طرف چلے گئے اور اسلام آباد بھی عملاً تالابند ہو گیا، تو پھر اس وفاقی حکومت کی جانب سے ”این۔

سی۔ سی“ (نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی) کے کندھے پر بندوق رکھ کر، اپریل کے آغاز میں دو ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان کرایا گیا۔ وہ وزیرِاعظم، جو ”گھبرانا نہیں ہے۔ “ کا گِھسا پِٹا راگ آلاپتے نہیں تھکتے تھے، اور ناں ہونے کے برابر ٹیسٹ کٹس کے بل پر فرما رہے تھے کہ ”اللہ کا ہمارے ملک پر خاص کرم ہے، کہ ہمارے یہاں کورونا کے کیسز اتنی تعداد میں ظاہر نہیں ہوئے! “، انہوں نے بالآخر کچھ دن قبل یہ کہا کہ ”یہ وبا خطرناک ہے اور اپریل کے آخر تک ملک کے ہسپتالوں میں ہمارے پاس مریضوں کے رکھنے کی گنجائش تک نہیں ہوگی۔
“ بدلتے ہوئے آسمان کے یہ رنگ بھی بڑے ہی دلچسپ ہیں، کہ اچانک کسی کونے کھدرے میں پڑے مُہرے (اسد عُمر) کی دُھول صاف کر کے، اسے قلئی کر کے، کورونا کے معاملات کا شملا بندھوا کے ہر اعلان کے لیے اسے آگے کر دیا گیا ہے، کہ تم وفاق کے ”بھونپُو“ بنو اور یہ بھی کہ ”لاک ڈاؤن“ کا لفظ استعمال نہیں کرنا! ”بندش“ وغیرہ کہہ دینا! کیونکہ ہم شروع ہی سے ”لاک ڈاؤن“ کی براہِ راست مخالفت کر رہی ہیں اور اچانک سے اس کے حق میں کھڑے ہو کر ہمارا اعلان کرنا اچھا نہیں لگے گا! اور لوگ پھر اس بات پر بھی ”یو ٹرن“ کا لعن طعن کریں گے۔ ویسے بھی آج کل وزیرِاعظم کے ہواریوں میں سے اُسی ”کیمپ“ کی سبقت کے دن ہیں، جس سے اسد عمر کا تعلق ہے اور اِس کی مخالف کیمپ والے دوستوں کا ستارہ ان دنوں کچھ گردش میں ہے۔
یہ بات مقامی میڈیا کا ہر فرد جانتا ہے کہ سندھ کے وزیرِاعلیٰ کا اپنے میڈیا اسٹاف کو رات 8 بجے نشر ہونے والے دو عدد، 10 بجے چلنے والے فقط ایک اور 11 بجے نشر ہونے والے ایک ٹی وی نیوز شو (جس کی میزبانی بقول ان کے، ان کے ”ذاتی دوست“ کرتے ہیں ) کے علاوہ دوسرے کسی بھی ٹی وی شو میں فون پر آن ایئر بات کرنے کے لیے ذاتی طور پر آنے سے منع کیا ہوا ہے۔ منگل، 7 اپریل کو جب وزیرِاعلیٰ کو رات 10 بجے والے مشہور ٹی وی نیوز پروگرام میں فون لائن پر آن ایئر لیا گیا، تو ان کے ہر سوال کا جواب نہ صرف دو ہفتے قبل والے اعتماد سے خالی تھا، بلکہ وہ مکمّل طور ”بے سَمت“ (ڈائریکشن لیس) بھی نظر آئے اور ان کے اختیارات جیسے بندھے ہوئے سے محسوس ہوئے۔ کچھ دیر کے لیے تو یہ گمان ہوا کہ کہیں میں پنجاب یا خیبر پختونخواہ کے وزرائے اعلیٰ میں سے تو کسی کی بات چیت نہیں سن رہا؟ مثال کے طور پر سوال کیا گیا کہ: ہم لاک ڈاؤن ختم ہونے کی طرف جا رہے ہیں۔ کیا آپ لاک ڈاؤن میں توسیع کریں گے؟

وزیرِاعلیٰ کی ہر بات میں وفاق کے لیے اتنی توقیر و تعظیم گزشتہ ڈیڑھ برس میں پہلے کبھی بھی محسوس نہیں کی گئی۔ اس بات چیت کے بعد حکومتِ سندھ کے ہفتے ڈیڑھ کے اس عدم تحرّک کی کچھ نہ کچھ وجوہات تو عوام کے باشعور حلقوں کو بھی سمجھ میں آ گئی ہوں گی ، اور اگر آئی نہیں ہوں گی تو عوام جاننا ضرور چاہیں گے۔ اس بات کو بھی مدِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی طرح سندھ کی وزیرِصحت، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، اس خالصتاً صحت کے معاملے میں اس قدر غیر متحرک کیوں نظر آ رہی ہیں؟ اور کورونا کے حوالے سے ضروری اعداد و شمار وغیرہ واضح کرنے کے لیے سندھ کے وزیرِاعلیٰ مراد علی شاھ، مرتضیٰ وہاب، ناصر شاہ اور سعید غنی کے علاوہ کوئی پانچواں چہرہ منظرنامے پر نمُودار کیوں نہیں ہو رہا؟
اس لیے حکمرانوں کو اس حقیقت کا ادراک ہونا بیحد ضروری ہے کہ یہ ”کورونا“ ہے، ایک جان لیوا ”وبا“ ہے، یہ انیل کپور کی طرح، ایک دن کے ”مکھیہ منتری“ کا جلوہ دکھا کر، جمشید روڈ جا کر چاٹ چھولے کھا کر نوجوانوں کے ساتھ سیلفیاں کھنچوانے یا ساحلِ سمندر پر مکئی کا ”بُھٹا“ کھا کر ”موٹر شٹل“ پر چڑھ کر چکر کھانے جتنا آسان معاملہ نہیں ہے، یہ قوم کے افراد کی جانیں بچانے کا معاملہ ہے، جس میں جتنی سست روی سے کام لیا جائے گا، اتنے ہی زیادہ لوگ ہسپتالوں میں پہنچیں گے اور لقمہء اجل بنیں گے۔
آپ ہر مثبت قدم اٹھانے کے حوالے سے جو پہل دو ہفتے قبل کر رہے تھے، آج بھی ہر تنقید کو نظر انداز کر کے، اپنا ہر قدم اسی سُبک رفتاری کے ساتھ اٹھانے کی ضرورت ہے، نہیں تو پھر سندھ کے غریب عوام کو بیگناہ موت کھا جائے گی اور آپ کے بچانے سے بات بھاری ہو جائے گی۔ اس لیے سندھ کو ”انیل کپور“ کی نہیں مگر ”اصل نایک“ کے ضرورت ہے، جس کو کوئی بھی ”امریش پُوری“ (فرد یا ادارہ) ڈرا یا دھمکا نہ سکے اور اس کے عزم کو للکار نہ سکے۔
Yasir Kazi humsub