جنرل افضل بمقابلہ مراد علی شاہ ….. نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی کہانی

پورے ملک میں اس بات پر بحث ہورہی ہے کہ کرونا وائرس سے پیدا شدہ صورتحال میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان یکساں پالیسی کیوں نہیں بن سکی ۔خاص طور پر وفاق اور سندھ میں تناؤ کیوں ہے۔ ایک یکساں قومی پالیسی کا فقدان کیوں نظر آرہا ہے ۔کیا وزیراعظم عمران خان پورے ملک کو لیڈ نہیں کر رہے ۔کیا صوبے اپنی من مانی کر رہے ہیں کیا صوبائی حکومتوں کی تجاویز پر وفاقی حکومت کان نہیں دھر رہی ۔اہم ادارے کیا سوچ رہے ہیں کیا ملک بھرمیں لاک ڈاؤن میں مزید توسیع ہوگئی یا کاروبار کرنے کے لیے نرمی اختیار کی جائے گی ۔اس حوالے سے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی جسے قومی رابطہ کمیٹی بھی کہا جاسکتا ہے کے انتہائی اہم اجلاس میں گرما گرم بحث ہوئی ہے ایک دن کے اجلاس میں فیصلے نہیں ہوسکے تو تجاویز پر دوسرے دن بھی اجلاس بلایا گیا ۔
اس اجلاس میں تمام صوبوں سے تجاویز بھی مانگی گئی تھی اور دلائل بھی ۔
اجلاس کی اندرونی کہانی کے حوالے سے اہم انکشافات ہوئے ہیں این ڈی ایم اے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ جنرل محمد افضل اور وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کے درمیان اعدادوشمار اور زمینی حقائق پر کھل کر بات ہوئی اور جنرل محمد افضل نے وزیر اعلی سندھ کی معلومات کو ناقص اور ان کی باتوں کو جھٹلادیا ۔اجلاس کے اندرونی حالات سے واقفیت رکھنے والوں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ جنرل افضل نے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی باقاعدہ کلاس لی اور ان کولتاڑ کر رکھ دیا۔

جنرل کا کہنا تھا کہ شاہ صاحب آپ کی حکومت اور وزراء کی طرف سے بار بار جو باتیں کی جارہی ہیں ان کو درست کر لیجیے آپ کی جانب سے کہا گیا کہ ٹیسٹنگ کٹس فراہم نہیں کی گئیں حالانکہ علی بابا اور جیکما کی جانب سے جو کٹ موصول ہوئی تھیں ان میں سے 60 ہزار کٹس میں سے بیس ہزار کیٹس سندھ کو دی گئی آپ کے صوبے نے وہ کر اپنے پاس رکھیں اور پھر یہ کہہ کر واپس بھجوا دیا یہ صحیح کام نہیں کر رہی حالانکہ وہی کیٹس نیشنل ہیلتھ انسٹیٹیوٹ اسلام آباد میں اور باقی صوبوں میں ٹھیک کام کر رہی ہیں آپ کی شکایت کے بعد دوبارہ 6000 کیٹ سندھ کو بھیجی گئی پھر آپ نے دو ہفتے تک ان کو اپنے پاس رکھا اور ایک مرتبہ پھر غیر معیاری قرار دے دیا ہے یہ بات حیران کن ہے کہ وہی ٹیسٹنگ کیٹس اسلام آباد اور دیگر جگہوں پر ٹھیک کام کر رہی ہیں اور غلط کام کرتی ہیں تو صرف سندھ میں۔ یہ حیران کن بات ہے کہ پوری دنیا میں علی بابا اور جیک ما کی بھیجی ہوئی کیٹس کام کر رہی ہیں لیکن سند والے اس پر اعتبار نہیں کر رہے ۔
دو دن پہلے آپ کے وزیر نے بیان دیا تھا کہ ٹکٹ نہیں ہیں کردی جائیں حالانکہ کل 50000 کٹ جو آچکے ہیں اس لیے آپ کے پاس آیا تو اطلاق پوری نہیں ہیں یا آپ کی حکومت آپ کو صحیح باتیں بتا نہیں رہی ۔
اجلاس کے اندرونی حالات سے واقفیت رکھنے والوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران وزیر اعلی سنتوں کو نہیں کر رہے تھے کہ ان کے اوپر اس طرح تابڑتوڑ حملے ہو سکتے ہیں وزیراعلی سین اچانک کا بکا رہ گئے خاموش ہوگئے اور اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گئے ۔

سارے صوبوں سے تجاویز مانگی گئی تھی سب تجاویز دینے لگے لیکن سندھ نے اسے اپنی کابینہ سے مشاورت کے ساتھ مشروط کر کے ایک دن آگے کرنے کی تجویز دی اور ان کی تجویز پر اجلاس اگلے دن دوبارہ بلایا گیا ۔البتہ اجلاس کے دوران وزیر اعلی سندھ پر واضح کردیا گیا کہ ان کا صوبہ تعاون نہیں کر رہا ۔
اجلاس کے بعد اجلاس کے اندرونی حصے واقعہ رکھنے والوں کا کہنا تھا کہ یہ بھی بتایا گیا کہ سندھ میں احساس پروگرام کے تحت جو بارہ ہزار روپے لوگوں میں تقسیم کئے جا رہے تھے وہاں پیپلزپارٹی کے جیالے پہنچ گئے اور انہوں نے بندر پر بھٹو اور آصف زرداری کی صاحبزای کی تصویر لگا کر لوگوں کو بتایا کہ یہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو تبدیل کرکے آپ کو پیسے دیے جا رہے ہیں ۔
دوسری طرف سینئر تجزیہ نگار اس بات پر حیران ہیں کہ وفاق اور صوبے اس مشکل صورتحال میں یکساں پالیسی پر کیوں عمل پیرا نہیں ہوسکے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اچانک وفاقی وزیروں علی زیدی اور پھر فیصل واوڈا نے سندھ حکومت پر حملہ کیوں کردیا اچانک وفاقی حکومت نے سندھ کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کا فیصلہ کیوں کیا نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اس لیے نظر آرہی ہے کہ عام تاثر یہ تھا کہ سندھ حکومت نے کرو نہ میں بہتر پرفارم کیا ہے جبکہ وزیراعظم اور ان کی وفاقی حکومت اور دیگر صوبوں میں جہاں ان کی حکومت ہے ان پر بہت زیادہ تنقید ہو رہی ہے اس لیے وہ باقی حکومت نے صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے اس کا رخ سندھ کی طرف موڑا اور وفاقی وزیروں نے سندھ کی حکومت پر تنقید شروع کردی لیکن اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں بھی لوگ مطمئن نہیں ہیں۔