سندھ نے سب سے پہلے لاک ڈاؤن کیا بعد میں صوبوں نے تقلید کی

یاسمین طہٰ –
کرونا کے عذاب  سے نمٹنے کے لئے برسراقتدار جماعتیں کتنی سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قائد حزب اختلاف سندھ فردوس شمیم نقوی  اور دیگر رہنماؤں نے سندھ حکومت کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لئے  ایک  پریس کانفرنس کی اور کہا کہ سندھ حکومت نے اپنا ایک بھی فرض ادا نہیں کیا، غریبوں سے راشن کا وعدہ ضرور کیا مگر  راشن نہیں دیا گیا۔ لوگ بھوکے مر رہے ہیں،پیپلز پارٹی کب تک صوبے کو بند رکھے گی، لاک ڈاؤن کا لائحہ عمل سندھ حکومت 14 اپریل سے پہلے طے کرے۔ اور لاک ڈاؤن میں نرمی کی جائے۔فیکٹریوں کو کرونا کے ضابطہ اخلاق کے تحت کام کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 20 لاکھ راشن  بیگز کہاں گئے، پیپلزپارٹی ان معاملات میں بھی دو نمبری کررہی ہے، اسمبلی اراکین سمیت تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہیں کرونا کے نام پر لی گئی۔ بتایا جائے کہ وہ فنڈ کہاں گیا۔اس پریس کانفرنس کے جواب میں  سندھ کے  وزیر اطلاعات و بلدیات سید ناصر حسین شاہ  نے وفاقی حکومت پر تنقید کی غرض سے  پریس کانفرنس کا انعقاد کیا اور کہا کہ    اگر وفاقی حکومت پہلے دن سے موثر اقدامات کرتی تو صورتحال آج بہتر ہوتی  کرونا وائرس سے بچاؤکے لئے وفاقی حکومت نے اقدامات کرنے میں تاخیر کی جس کہ وجہ سے کیسوں میں اضافہ ہوا ہے۔  صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کرونا وائرس روکنے کے لئے وفاقی حکومت غیر سنجیدہ ہے،وفاقی حکومت نے نہ ائیرپورٹس بند کئے نہ سرحدیں اور سندھ حکومت کی سفارشات نہیں سنی گئیں۔انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت وقت پر اقدامات کرتی تو یہ صورتحال نہ ہوتی، لاکھوں افراد ائیرپورٹس سے بغیر اسکریننگ کے ملک میں داخل ہوئے۔ وزیر اعلی سندھ نے  سب سے پہلے لاک ڈاؤنکیا بعد میں صوبوں نے تقلید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دیا گیا کہ ہم مذہبی افراد کو نشانہ بنا رہے ہیں جو غلط ہے۔گویا کرونا کے عذاب کے باوجود   پی ٹی آئی اور پی پی پی کی الزام تراشی کی سیاست عروج پر ہے۔کراچی میں کرونا کی باعث ہونے والے لاک ڈاؤن نے ایمرجینسی سروس کی انجام دہی کے لئے جانے والوں کو ایک نئی اذیت میں مبتلا کردیا ہے اور ان کا اپنے دفاتر پہونچنا اور واپس گھر جانا دوبھر کردیا ہے۔  پولیس  نے  شہر کی اہم شاہراہوں کو ٹریفک کے لئے بند کرنا شروع کردیا ہے، جس کے بعد سڑکوں پر  شدید ٹریفک جام  اورگاڑیوں کی قطاریں عام ہیں۔پولیس کے مطابق اعلیٰ حکام کی جانب سے احکامات ملے ہیں کہ لاک ڈاؤن میں غیر ضروری نقل و حرکت بند کردی جائے۔لیکن اس وجہ سے  میڈیا سے  وابستہ تمام کارکنوں کو شدید دشواریوں کا سامنا  ہے۔غیر ضروری نقل و حرکت کے نام پر ٹریفک روکنے کی بجائے دفتر کا کارڈدیکھ کر ایک نظام کے تحت ٹریفک کو کنٹرول نہ کیا گیا تو نئے مسائل سامنے آئیں گے۔لاک داؤن سے عاجز بزنس کمیونیٹی نے 15 اپریل سے حفاظتی اقدامات کے ساتھ کاروبار کھولنے اور حکومت کی جانب سے روکے جانے کی صورت میں وزیراعلی ہاؤس کا گھیراؤ کر نے کا اعلان کردیا ہے،کاروباری و تجارتی انجمنوں نے سندھ حکومت سے اپیل کی کہ موجودہ حالات میں کاروبار کی مکمل بندش کے باعث  تمام ٹیکس ادا کرنے والے تاجروں اور امپورٹرز کو فوری طور پر آسان اقساط پر بلاسودی قرضہ فراہم کئے جائیں، ساتھ ہی ان تاجروں اور دکانداروں کواپنے ملازمین کو مارچ، اپریل اور مئی کے مہینوں کی تنخواہوں کے لیے مالی مدد فراہم کی جائے اورکاروبار میں شناختی کارڈ کی شرط کو ایک سال کے لیے موخر کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ  شہر میں لاک ڈاؤن کی باعث تاجر اپنی جمع پونجی ختم کر چکے ہیں۔ اور دہاڑی دار مزدور فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ حکومتی امداد محض بیانوں تک محدود ہے اس لیے ہم نے فیصلہ کیا کہ تمام تر پابندیوں، سوشل فاصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے مارکیٹس کھولیں گے۔اس کے برعکس  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ  کی زیرصدارت کابینہ کے اہم مشاورتی  اجلاس میں  صوبے میں لاک ڈاؤن مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،نجی اسپتالوں کے مالکان، چیف ایگزیکٹو افسران اور ملک کے سرکردہ ڈاکٹروں نے بھی14 اپریل کے بعد بھی سندھ میں لاک ڈاؤن میں توسیع کی سفارش کی ہے۔ وزیراعلیٰ سیدمرادعلی شاہ کی زیرصدارت کابینہ اجلاس میں صوبے میں کرونا وائرس کی صورتحال اوراس کاپھیلاؤ روکنے کے اقدامات پرغورکیاگیا۔ قبل ازیں تمام بڑے ہسپتالوں کے ڈاکٹرز نے کرونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر وزیراعلیٰ سندھ کو لاک ڈاؤن بڑھانے کا مشورہ دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹرز نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صوبہ سندھ میں لاک ڈاؤن نہ بڑھایا  گیا تو کرونا وائرس وبا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بہت بڑھ جائے گی جس سے پورے ملک کا ہیلتھ کیئر نظام بیٹھ جائے گا۔سندھ حکو مت کی جانب سے راشن تقسیم  کے عمل کے بارے میں متضاد خبریں سامنے آرہی ہیں۔کراچی میں لوگ راشن مبینہ طور پر دکانوں کو فروخت کرہے ہیں  ادھر بدین میں پی پی پی کے رہنماؤں پر یہ الزامات سامنے آرہے ہیں کہ وہ من پسند افراد کو راشن دے رہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ  لا ک دا ؤن سے متا ثر مزدور پیشہ افراد کی مدد کے لیئے ان کے گھرو ں تک را شن پہنچا نے کے لیئے  دو کرو ڑ روپے ڈی سی بدین ڈاکٹرحفیظ احمد سیال کو جا ری کیئے گئے  ہیں اور ڈپٹی کمشنر کی جانب سے متا ثرین کی سروے کے لیئے وارڈ سطح پر کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی تھی لیکن سروے  مکمل ہو نے کے بعد تا حال اس پر  عمل نہیں ہو سکا ہے زرائع کا کہنا ہے راشن کی تقسیم پیپلز پا رٹی کے مقا می رہنما ؤ ں کے حوالے کر دی گئی ہے جو   صرف  پا رٹی کے ووٹروں مین راشن تقسیم کر رہے ہیں۔اس اقربا پروری کے دور میں  کراچی ریلیف ٹرسٹ کی جانب سے مستحقین کو تین ماہ تک  ان کے  گھر  پر  راشن فراہم کرنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں اس طرح سفید پوش افراد کی عزت نفس مجروح کئے بغیر ان کی مدد کی اس کوشش کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔مستحقین اپنا نام اور شناختی کارڈنمبرایک مخصوص موبائل ایپ پر بھجواکر راشن حاصل کرسکتے ہیں۔  سندھ حکومت نے  بھی لاک ڈاؤن کے دوران مستحق افراد میں راشن تقسیم سے متعلق نیا فارمولا جاری کردیا۔راشن کی تقسیم کو بہتر بنانے کیلئے تمام کمشنروں ڈی آئی جیز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے،سندھ حکومت کی موبائیل ایپلیکشن پر رجسٹر کرانے والے مستحقین کو صبح چار بجے سے سات بجے تک راشن تقسیم کریں گے۔ راشن تقسیم کرتے وقت اس مستحق کی مکمل ڈیٹا بھی چیک کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔جو فلاحی ادارے راشن تقیسم کریں گے انہیں   سندھ حکومت کی موبائل ایپلیکیشن سندھ ریلیف انیشٹو میں رجسٹرڈ کرانا ہوگا۔اس نظام کے  15 سے 30دن کا راشن مستحقین کو دیا کو دیا جائے