تمام صوبوں میں لاک ڈاﺅن کی یکساں پالیسی بنائی جائے ۔ وزیر اطلاعات سندھ

تمام صوبوں میں لاک ڈاﺅن کی یکساں پالیسی بنائی جائے ۔ وزیر اطلاعات سندھ کراچی۔14اپریل: وزیر اطلاعات ، بلدیات، جنگلات وجنگلی حیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ ہمارے تمام اہم اسپتالوں میں وینٹیلیٹرز اور دیگر ضروری سامان سے لیس ہیں اور یہ تاثر غلط ہے کہ کراچی ، حیدر آباد اور جامشورو کے علاوہ کہیں بھی سہولیات نہیں ہیں ۔ سندھ حکومت کے خلاف یہ سب کچھ ایک منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے یہ بات انہوں نے آج اپنے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہی انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے خلاف یہ سب جاری ایک مہم کا حصہ ہے سندھ حکومت کام کرنا چاہ رہی ہے لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں اور مختلف طریقوں سے اس کے اچھے کاموں کو بھی برا کرکے پیش کیا جا رہا ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ یہ صرف اس لئے کہا جا رہا کہ مراد سعید نے اپنی مہم کا حصہ اور سیاست بنائی ہوئی ہے کہ وہ سندھ حکومت کے خلاف الزام تراشی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مراد سعید کی طرح ایک اور وزیر شہباز گل نے بھی سندھ حکومت کے خلاف بیان بازی شروع کر دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کٹس وزیر اعلیٰ سندھ اور ناصر حسین شاہ نے مسترد نہیں کیں بلکہ جو اس کام کے ماہرین ہیں جن میں آغا خان اور دیگر اسپتالوں کے ماہرین ہیں انہوں نے ان کو مسترد کیا انہوں نے کہا کہ ہم اس موقع پر اس طرح کی بات نہیں کرنا چاہ رہے تھے کہ این ڈی ایم اے سے جو کٹس ملی ہیں ان کی کیا صورتحال ہے لیکن اب یہ ہمیں ان باتو ں کے لئے مجبور کر رہے ہیں ۔ وزیر اعظم صاحب کو چاہئے کہ اپنے وزراءکو سمجھائیں ان کو کیوں سندھ حکومت کی کارکرگی ہضم نہیں ہو رہی ہے کہ جب ساری دنیا اس بات کی معترف ہے کہ سندھ حکومت نے کرونا کے سلسلے میں جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ عالمی معیار کے مطابق ہیں ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ یہ وقت مل کر کام کرنے کا ہے نہ کہ ایک دوسرے پر تنقید کرنے کا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری سے بچاﺅ کا یک ہی حل ہے کہ منظم اور مکمل لاک ڈاﺅن کیا جاناچاہئے ۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمیں سب کا احساس ہے لیکن جن لوگوں کے کاروبار بند ہیں ان کی امداد کے لئے وفاقی حکومت کو آگے آنا چاہئے اور ان کی مدد ضرور کرنی چاہئے سندھ حکومت جو کچھ کر سکتی ہے وہ کر رہی ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ انڈسٹری کھولنے کے کئے ایک ایس او پی بننا چاہئے جس پر تمام صوبوں اور وفاق کا اتفاق ہو اس کے بعد اس کو کھولنا چاہئے یہ نہ ہو کہ ایک صوبہ میں معاملات کچھ اور ہوں اور دوسرے میں طریقہ کار کچھ اور ہو۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم عوام کے مفاد میں وزیر اعظم کے ساتھ چلنے کے لئے بھی تیار ہیں اور ایک لائحہ عمل پر متفق ہونا چاہتے ہیں ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اس وقت تمام ممالک کی ایکسپورٹ بند ہے ۔ معیشت کی بحالی سے زیادہ لوگوں کا زندہ بچنا ضروری ہے ۔ ہم خوشی سے صوبے میں لاک ڈاﺅن نہیں کر رہے ۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہ اکہ سندھ حکومت کا مستحقین میں راشن تقسیم کا سلسلہ جاری ہے اور تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ دو لاکھ تیئس ہزار پانچ سو ستانوے خاندانوں کو راشن دے چکی۔انہوں نے بتایا کہ راشن صوبے کے ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے تقسیم کیا گیا ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہاکہ مخیر حضرات اور این جی اوز کے زریعے تین لاکھ سے زائد راشن بیگ تقسیم کئے گئے۔ اور این جی اوز نے تین لاکھ دو ہزار چھ سو تیرا فیمیلیز میں راشن بیگ تقسیم کئے۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مستحقین میں راشن کی تقسیم کا تمام ریکارڈ موجود ہے۔ مزید یہ کہ ان خاندانوں کا مکمل ریکارڈ سندھ حکومت کے پاس دستیاب ہے جن میں راشن تقسیم کیا گیا۔ ہینڈ آﺅٹ نمبر 339