حکومت جائے بھاڑ میں, ہم کل سے ہر حال میں مسجدیں اور مدارس وغیرہ کھول رہے ہیں

بڑی بڑی لینڈ کروزروں میں کراچی پریس کلب آئے اِن سرمایہ دارعلمائے کرام نے ایک نیامحاذ کھول دیا ہے..علمائے کرام نے کہا ہے کہ حکومت جائے بھاڑ میں, ہم کل سے ہر حال میں مسجدیں اور مدارس وغیرہ کھول رہے ہیں.. بہتر ہے کہ حکومت رکاوٹ ڈالنے کی کوشش نہ کرے, اب ہم کسی کے روکے نہیں روکیں گے..واضح رہے کہ حکومت سندھ نے صوبہ بھر میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بڑے بڑے اجتماعات کی حوصلہ شکنی کے لیے علماء کرام سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ اس حوالے سے تعاون کریں لیکن گزشتہ روز گھوٹکی میں ہندوؤں کی ایک مذہبی اجتماع کی ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ حکومت سندھ کو کیا ہندوؤں کی رسومات اور اجتماعات نظر نہیں آ رہے پابندیاں کیا صرف مسلمانوں کے لئے رہ گئی ہیں ۔ علماء کرام کے تازہ اعلان کے بعد اب صورتحال حکومت اور انتظامیہ کے لئے ایک چیلنج بن گئی ہے دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اور انتظامیہ صورتحال سے کس طرح پیش آتی ہے اور کیا حفاظتی  اقدامات کرتی ہے ۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے رمضان المبارک کی آمد پر مساجد میں اجتماعات اور نماز تراویح سے متعلق سفارشات کی تیاری کے لئے تمام صوبوں کے گورنرز اور علمائے کرام کا اجلاس 18 اپریل کو طلب کر لیا ہےسرکاری میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ منگل کو ایوان صدر میں ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز احمد شاہ، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور بین المذاہب ہم آہنگی پیر نورالحق قادری نے شرکت کی۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ صدر مملکت تمام صوبوں کے گورنرز، آزاد جموں وکشمیر کے صدر اور علمائے کرام کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کریں گے۔ کورونا وبا کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں ان سے نماز تراویح سے متعلق رہنما اصولوں اور سفارشات پر مشاورت کی جائے گی۔ علمائے کرام کی سفارشات سے حکومت کو جامع پالیسی وضع کرنے میں مدد ملے گی۔ اجلاس میں لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ سماجی فلاح وبہبود میں تعاون کے لئے زکوة اور خیرات دیں جو کہ اس مقدس مہینے مساجد اور مدارس کے ذریعے دی جاتی ہے