اقتدار کے ایوانوں میں نئی سازشیں ۔ ۔ ۔ ۔

اقتدار کے ایوانوں میں نئی سازشیں ۔ ۔ ۔ !

تجزیہ ; علی بن رحمت

آج کل یہ افواہیں زوروں پر ہے کہ مقتدر حلقے عمران خان کی حکومت سے انتہائی مایوس ہیں کیونکہ ان کی حکومت مسلسل معاشی اور انتظامی طور پر ناکام رہی ہے ۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہیں ہٹا کر کسے اقتدار میں لایا جائے گا ۔ مقتدر حلقوں کو نواز شریف اور مریم نواز کسی طور پر بھی منظور نہیں ہیں ۔ اب اقتدار میں آنے کے لیئے دو افراد پر ان کی نظریں ہیں ۔ ایک شہباز شریف اور دوسرے بلاول بھٹو زرداری ۔ اب ہم اس حوالے سے دونوں کا تجزیہ کرتے ہیں ۔
سب سے پہلے بلاول بھٹو زرداری کی بات کرتے ہیں ۔ دیکھا جائے تو ان کی عملی جدوجہد کچھ بھی نہیں ہے ۔ اس وقت بھی عملی طور پر سندھ میں ان کے والد اور پھوپی حکومت چلا رہے ہیں جو غریبوں کو راشن کے دینے کے نام پر بھی ڈھائی ارب روپے کھا گئے ۔ کراچی میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو چھوڑ کر ایک ہزار گھروں کی بھی نشاندہی نہیں کی جا سکتی جنہیں سرکاری طور پر راشن ملا ہے۔سندھ میں صحت کا شعبہ کو ہی لے لیجیئے ۔ پہلے زرداری صاحب کے بہنوئی فضل اللہ پیچوہو سیکریٹری صحت تھے اور وہی اسے چلا رہے تھے ۔ ان کے سامنے وزیر صحت اور وزیر اعلی کی کوئی حیثیت نہیں تھی ۔ سندھ میں حکومت کے رموز جاننے والے اس بات کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں ۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد وزیر صحت زرداری صاحب کی بہن اور فضل اللہ پیچوہو کی بیوی عذرا پیچوہو کو بنایا گیا جو عملی طور پر آفس ہی نہیں آتیں بلکہ ان کے پرائیویٹ سیکریٹری فہیم چاچڑ سارے معاملات چلا رہے ہیں ۔ وہاں کرپشن کی داستانیں زبان زد عام ہے ۔ جس پر وزیر اعلی تو کیا بلاول بھی صرف نظر کیئے ہوئے ہیں ،کیونکہ وزیر صحت زرداری صاحب کی بہن ہیں جن کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی کسی کی مجال نہیں ہے ۔
بینظیر بھٹو 1978 میں بھٹو صاحب کی گرفتاری کے بعد سے عملی جدوجہد کرتی رہی تھیں ۔ وہ 10 سال کی مسلسل طویل عملی جدوجہد کے بعد 1988 میں اقتدار میں آئیں ۔ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں پیپلز پارٹی کے انتہائی مخلص کارکنان کو پیپلز پارٹی کے اہم عہدے دیئے ۔ سندھ کا سیکریٹری اطلاعات ایک مخلص کارکن کو بنایا پھر جنرل سیکرٹری بنایا ساتھ ہی کراچی کا صدر بھی بنایا جن کی جدوجہد کی وجہ سے پارٹی کراچی کی دوسری بڑی سیاسی پارٹی بن گئی تھی ۔ کیا اب پیپلز پارٹی کو کراچی میں بڑی پارٹی بنانے کے لیئے عملی طور پر کچھ کیا گیا ہے یا اب یہ پارٹی صرف لوٹ مار میں لگی ہوئی ہے اور غریبوں کا راشن بھی کھا گئی۔
شہید بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت اپنی نا تجربہ کاری کی وجہ سے ناکام ہوئی ۔ سیانے کہتے ہیں کہ اس میں بھی مسٹر 10 پرسنٹ کا عمل دخل تھا جس کا ذکر اکثر محترمہ اپنی نجی محفلوں میں کرتی تھیں ۔
پھر وہ 1993 میں دوبارہ اقتدار میں آئیں پھر ناکام رہیں ۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اس میں بھی مسٹر 10 پرسنٹ جو اس وقت تک 100 پرسنٹ ہوگئے تھے وہی اس کی وجہ بنے۔
پھر 2007 تک وہ انتہائی تجربہ کار اور بہت میچور ہو گئی تھیں ۔ وہ مسٹر 10 پرسنٹ کو ملک سے باہر رکھنے اور صرف کاروبار تک محدود رکھنے کا قطعی فیصلہ کر چکی تھیں ۔ اب اگر وہ 2008 میں اقتدار میں آتیں تو ملک اور قوم کو ترقی کی نئی منزلوں پر لے جاتیں ،لیکن سپر پاور اور ان کے گماشتوں ،مخصوص قوتوں کو یہ بات منظور نہیں تھی ۔ وہ ملک کو ترقی کے بجائے اپنے انگھوٹے تلے رکھنا چاہتے تھے اسی لیئے انہوں نے انہیں مروا کر اس چیپٹر کو ہمیشہ کے لیئے بند کر دیا ۔
اب آئیے بلاول بھٹو زرداری کی طرف جو بینظیر بھٹو کے مقابلے میں ابھی تک عملی طور پر انتہائی نا تجربہ کار ہیں ۔ اسی لیئے خدشہ ہے کہ ان کی نا تجربہ کاری کہیں عمران خان سے زیادہ ملک کے لیئے مہلک ثابت نہ ہوں اور اس کا بیڑہ غرق نہ کر دیں ۔کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ اس وقت کرپٹ ترین افراد کے گھیرے میں ہیں ۔ خدشہ ہے کہ اصل حکومت وہی کریں گے ۔ جیسا کہ گذشتہ 12 سال سے سندھ میں جاری ہے جس سے کوئی بھی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا ۔ پھر آپ پورے ملک میں کرپشن کا سوچیں ۔ ابھی تو صرف سندھ میں کرپشن ہو رہی ہے ۔ یہاں کی حالت دیکھیں ۔ پورے سندھ میں کہیں ڈھنگ کا ہسپتال اور اسکول بتا دیں۔ گذشتہ 12سال سے پیپلز پارٹی مسلسل یہاں اقتدار میں بیٹھی ہے ۔ انہوں نے سندھ میں کیا کیا؟کہنے والے کہتے ہیں کہ کراچی کا ان لوگوں سے کا کیا تعلق ۔ کراچی تو کراچی والوں نے خود بنایا ہے ۔ پرائیویٹ ہسپتال ہو یا پرائیویٹ اسکول۔ لاڑکانہ کے ترقیاتی کاموں کے لیئے 90 کروڑ روپے لگائے گئے تھے، لیکن اس کے باوجود ٹوٹیں ہوئی سڑکیں ۔ جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر ۔ کوئی ایک بھی اچھا ہسپتال اور اسکول نہیں بنایا گیا تھا جس پر اس وقت کے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے تھے کہ ڈائن بھی 100 گھر چھوڑ کر ڈستی ہے ۔
جہاں تک شہباز شریف کا تعلق ہے تو وہ انتہائی تجربہ کار اور کامیاب منتظم ہیں ۔ انہوں نے پنجاب خصوصا” لاہور کو ترقی کی معراج پر پہنچا دیا اور وہ آج پورے ملک کے لیئے ایک ماڈل بنا ہوا ہے ۔ مری کو جنت کا ٹکڑا بنا دیا ۔ میں نے خود 1984 کا لاہور و مری دیکھا تھا پھر 2016 کا مری و لاہور بھی دیکھا ۔ ترقی میں دونوں زمانوں میں زمین اور آسمان کا فرق ہے ۔ جبکہ 1984 کا کراچی ترقی کی مثال تھا ۔ 12 سال سے بلاول کے ابا اور پھوپی نے کراچی کا بیڑہ غرق کر دیا ۔ جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ۔ 12 سال تک اقتدار میں رہنے کے باوجود کراچی سے کچرے کے ڈھیر تک صاف نہیں کر سکے اب یہی کچرا کراچی کی پہچان ہے ۔ کیا مقتدر حلقے عمران خان کو ہٹا کر بلاول زرداری جیسے نا تجربہ کار کو اقتدار دے کر پورے پاکستان کو کچرے کا ڈھیر بنانا چاہتے ہیں؟یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہو گا۔ اس وقت ملک میں کورونا وائرس آسیب کی صورت میں نازل ہے۔اس کی وجہ سے ملک میں اقتدار کے ایوانوں میں کسی قسم کی تبدیلی ہوتی نظر نہیں آ رہی۔