پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی دیگرتنظیموں کے ساتھ پریس کانفرنس

پریس کانفرنس میں پی ایم اے، پیما، ینگ ڈاکٹرز، مڈوائفری ایسوسی، سندھ ہائی کورٹ بار، کراچی بار، کالج آف فیملی میڈیسن کے نمائندگان شریک
پی ایم اے کا کورونا سے ڈاکٹرز اور دیگر صحت کارکنان کو درپیش مشکلات پر اظہار تشویش
 ہمیں ہیلتھ کئیر ورکرز کے موجودہ حالات اور کرونا صورتحال پر بہت تشویش ہے، پی ایم اے
پریس کانفرنس سے ڈاکٹر شریف ہاشمانی، ڈاکٹر عبدالغفور شورو، ڈاکٹر عاطف، عروسہ لاکھانی، رفعت جان، ہیرا لال، ایڈووکیٹس و دیگر کا مشترکہ خطاب
این ڈی ایم اے کی خریداریوں میں وینٹی لیٹر ترجیح نہیں ہونی چاہیے، ڈاکٹرز
کورونا ٹیسٹ کرنے کی گنجائش بڑھائی جائے، پی ایم اے
ہیلتھ کئیر ورکرز کے لئے مؤثر ذاتی حفاظتی سامان (پی پی ای) فوری فراہم کیا جائے، مقررین

جلد از جلد کورونا کی اسکریننگ اور ٹیسٹ کرنے کی سہولیات کو ضلعی سطح تک بڑھایا جائے، پی ایم اے
 پاکستان کے تمام داخلی راستوں پر کورونا اسکریننگ کی سہولیات، کورائنٹائن مراکز اور آئسولیشن مراکز قائم کیے جائیں، پی ایم اے
کورونا کے لئے مخصوص اسپتالوں کوفعال بنایا جائے، پی ایم اے 
کمیونٹی کلینکس کا نظام، فیملی فیزیشن اور رجسٹرڈ جنرل پریکٹیشنرزکو بحال کیا جائے اور انہیں پی پی ای سے لیس کیا جائے، پی ایم اے
گھرپر آئسولیشن  کے عمل کو فروغ دیا جائے جہاں مانیٹرنگ اور ڈیٹا کی رپورٹنگ، جنرل پریکٹیشنرز اور کمیونٹی کلینکس کے ذریعے ممکن ہو، پی ایم اے
پی پی ای کے ساتھ مخصوص شعبہ جات کے کلینکس، اسپتالوں کی او پی ڈیز اور شعبہ حادثات کی خدمات جاری رہنی چاہیے، پی ایم اے
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے کورونا وائرس کے مثبت مریضوں کی گشتی تلاش شروع کی جائے، پی ایم اے
کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے نتائج کی بنیاد پر مخصوص علاقوں کو لاک ڈاؤن کیا جائے، پی ایم اے