احفاظ الرحمٰن جبر کے ہر زمانے میں جرات کی آواز رہے، بلاول بھٹو

احفاظ الرحمٰن  نے آزادی صحافت کیلئے جدوجہد کی، مرادعلی شاہ
کے یو جے کے تعزیتی ریفرینس کیلئے پیغامات

کراچی :  کراچی یونین آف جرنلسٹس کے تحت پیر کو صدر اشرف خان کی زیر صدارت سینئر صحافی احفاظ الرحمٰن کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے تعزیتی اجلاس ہوا، جس میں سیکرٹری جنرل احمد ملک سمیت ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ کورونا وائرس سے بچائو کیلئے ایس او پیز کو مدنظر رکھتے ہوئے اجلاس کے دوران سماجی فاصلے کی پابندی کے باعث اجلاس میں محدود افراد نے شرکت کی جبکہ اجلاس کیلئے چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ، سینیٹر شیری رحمٰن ، جنرل سیکرٹری پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ناصر زیدی نے اپنے تحریری پیغامات بھیجے۔ صدر پی ایف یو جے شہزادہ ذوالفقار، سینئر صحافی، مظہر عباس، جاوید چوہدری، فہیم صدیقی، انور سن رائے، خورشید تنویر، وارث رضا، شاہد اقبال اور دیگر نے ٹیلیفونک خطاب کیا۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے اپنے پیغام میں کہا کہ احفاظ الرحمان نے آزادی اظہار رائے اور جمہوریت کے لئے جو خدمات انجام دی ہیں، وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ وہ صرف صحافیوں کی مضبوط آواز نہیں تھے بلکہ احفاظ الرحمان جبر کے ہر زمانے میں جرات کی ایک آواز رہے۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو، بیگم صاحبہ اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو سے ان کا ہمیشہ احترام کا رشتہ رہا، میں احفاظ الرحمان کے انتقال پر ان کے اہل خانہ کے ساتھ صحافی برادری سے بھی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ غم کی اس گھڑی میں بھٹو خاندان آپ کے ساتھ ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ آزاد صحافت معاشرے کی ترقی کے لئے ضروری ہے،احفاظ الرحمٰن پاکستان میں صحافت کا بڑا نام تھے، انہوں نے پوری زندگی آزادی صحافت اور صحافیوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کی، انہوں نے منہاج برنا اور نثار عثمانی دیگر صحافی لیڈروں کے ساتھ مل صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کی جدوجہد شروع کی اور اپنی تمام عمر اسی جدوجہد میں گزار دی، میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے، آمین۔ وزیر اطلاعات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے اپنے تعزیتی پیغام میں معروف صحافی اور یونین لیڈر احفاظ الرحمٰن کے انتقال پر اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ احفاظ الرحمٰن بلاشبہ بہت بڑے صحافی لیڈر، یونین رہنما اور آزادی صحافت کے علمبردار تھے،، انہوں نے یقین دلایا کہ وہ صحافیوں کے مسائل کے حل کے لئے ہمیشہ کوشاں رہیں گے، پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ وہ احفاظ الرحمان اور سید سعید اظہر کی صحافتی خدمات کو خراج پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے مشکل وقت میں بھی صحافتی اقدار کو قائم رکھا، نوجوان صحافیوں کو ان کے صحافتی اور سچائی کے اصول سے سیکھنا چاہئے۔

صدر پی ایف یو جے شہزادہ ذوالفقار نے کہا کہ احفاظ الرحمٰن ہم میں وہ آخری بندہ تھا جو مارشل لاء کے خلاف لڑا۔ میں نے انہیں بطور صدر پی ایف یو جے دیکھا ہے ہمیں آج ان کی راہ پر چلتے ہوئے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ سینئر صحافی انور سن رائے نے کہا کہ احفاظ الرحمٰن بھائی سے ان کے ذاتی مراسم تھے۔ ان سے کئی بار ڈانٹ بھی کھائی۔ آج میں بڑے بھائی سے محروم ہو گیا ہوں یہ میرے لیے دوہرا صدمہ ہے۔۔ شاہد اقبال نے کہا کہ جس طرح انہوں صحافیوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی اس کی مثال نہیں ملتی۔ وہ ہمارا اثاثہ تھے ہیں اور رہیں گے۔ جنرل سیکرٹری پی ایف یو جے ناصر زیدی نے اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن ہم سب کیلئے انتہائی غم کا دن ہے، آج ہمارا وہ رہنما، جس نے تمام زندگی پریس کی آزادی اور صحافیوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کی، آج ہم میں نہیں لیکن ان کی جدوجہد ان کے آدرشوں پر چلنے والے تمام صحافیوں کیلئے مشعل راہ رہے گی۔ انہوں نے ہمیشہ آمریت کیخلاف چلنے والی تحریکوں میں کلیدی کردار ادا کیا، انہوں نے آزادی، آئین کی بحالی، قانون کی حکمرانی کیلئے جو جدوجہد کی وہ تاریخ کا روشن باب ہے۔ صدر کے یو جے اشرف خان نے کہا کہ صحافی بہت بڑے سائے سے محروم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ سچ کا ساتھ دیا اور صحافیوں کے حقوق کے لیے جدو جہد کی۔ ہم ان کے رہنما اصولوں کو اپنا کر ہی صحافیوں کے حقوق کی جدوجہد کو جاری رکھ سکتے ہیں۔ سینئر صحافی مظہر عباس نے کہا کہ احفاظ رحمان کی کمی کئی لحاظ سے محسوس کی جائے گی۔ وہ ایک بہترین منتظم تھے۔ مثالی قائد تھے۔

تحریک آزادی صحافت کے امین تھے۔ وہ ایک ایسے لیڈر تھے جنہوں نے پی ایف یو جے کے قیام سے لیکر احفاظ الرحمٰن تک کبھی بھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا چاہے، وہ ایم اے شکور ہوں، کے جی مصطفیٰ ہوں، نثار عثمانی ہوں یا پھر منہاج برنا ہوں، آج ہمیں جیسی تیسی بھی آذادی صحافت میسر ہے، اس میں احفاظ الرحمٰن جیسے لوگوں کا کلیدی کردار ہے۔ آج میڈیا کو جس بحران اور پابندیوں کا مقابلہ کرنا ہے ایسے موقع پر احفاظ الرحمٰن جیسے لوگوں کا جدا ہونا ایک المیہ سے کم نہیں۔ خورشید تنویر نے کہا کہ احفاظ الرحمٰن نے آزادی صحافت کے لئے اپنے قلم کو وقف کردیا۔ وہ ہمیشہ حق و سچ کے ساتھ رہے۔ احفاظ الرحمٰن نے نہ صرف صحافیوں بلکہ کچلے ہوئے طبقات کے لئے جدوجہد کی۔ ہم ان کے اصولوں پر عمل کریں یہی خراج عقیدت پیش کرنے کا طریقہ ہے۔ اجلاس میں سینئر صحافی نعیم کھوکھر، رانا لیاقت، یونس آفریدی، قاضی آصف، غلام قادر ضیا اور کامران مغل سمیت دیگر صحافیوں نے شرکت کی جبکہ اساتذہ اکرام سمیت دیگر نے آن لائن احفاظ الرحمٰن کو خراج عقیدت پیش کیا۔