مہاجر قیادت کی بزدلی ۔سندھی حکمرانوں کے ارادے ۔اسٹیبلشمنٹ کی لاک ڈاؤن سے پریشانی ۔صنعتکار تباہ ۔مزدوروں کی فاقہ کشی

کسی کی چڑیا کسی کی چڑیل خبر لاتی ہے لیکن کراچی کی فضاؤں میں یہ بازگشت سنائی دے رہی ہے کہ آج اسٹیبلشمنٹ نے مجبوراْ اپنے دو مہرے واڈا اور علی زیدی کو پی پی کے سندھی حکمرانوں کے خلاف میڈیا کے میدان میں اتاردیا۔ بات کچھ یوں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پچھلے کیْ دنوں سے سندھ کہ حکمرانوں کو کراچی کا لاک ڈاون ختم کرنے کیلےؓ پریشر دے رہی ہے اسٹبلشمنٹ کے مطابق کراچی کی بندش سے پورے پاکستان کی پہلے سے ہی تباہ حال معیشت اب مکمل منہ کے بل گرنے جارہی ہے لہذا کراچی کے لاک ڈاون کا فوری خاتمہ ملک اور ملکی معیشت کیلےؑ ناگزیر ہے لاک ڈاون کے خاتمے سے چند ہزار یا چند لاکھ افراد مرتے ہیں تو مریں کراچی کے شہری ابتر صورتحال کا شکار ہوتے ہیں تو ہوں یہ سودا معیشت کی تباہ حالی سے مہنگا نہیں ہے چاہے اس کیلےؑ سندھ میں گورنر راج لگانا پڑھے یا کوی اور انتہای قدم آٹھانا پڑھے اسٹیبلشمنٹ نے واضح پیغام سندھ کے حکمرانوں کو دے دیا ہے اور جس کیلےؑ گراونڈ بنانے کا کام اپنے دو مہرے آج میڈیا کے میدان میں بھی اتار کر شروع کردیا ۔
دوسری طرف سندھ کے حکمرانوں نے لاک ڈاون ختم کرنے کی شرط آصف زرداری اور پی پی پی رہنماوں کے نیب کیس ختم کرنے اور پنجاب میں پی پی کی ختم ہوچکی ساکھ کو دوبارہ زندہ کرنے کی شرط رکھی ہے سندھ حکومت نے دو ٹوک الفاظ میں اپنا مطالبہ اسٹیبلشمنٹ کے سامنے رکھ دیا ہے کہ سندھ گورنمنٹ اس مطالبے سے کس طور بھی پیچھے نہیں ہٹنے والی چاہے پاکستان منہ کے بل گرے یا معیشت منہ کے بل گرے ۔
ایک طرف سندھی حکمراں کمال چلاکی اور شاطرانہ طریقے سے اسٹیبشمنٹ کو دباو میں لا کر اپنا الو سیدھا کرنا چاہ رہی ہے دوسری طرف زرداری اینڈ کمپنی کراچی میں لاک ڈاون کے نتیجے میں اپنا لرزتا وجود برقرار رکھنے کی کوشش کرنے والے مہاجر ضنعت کاروں اور بزنس مینوں کی انڈسٹریز اور کاروبار کو خریدنے کیلے تجوری کے منہ کھول کر گھوم رہے ہیں اس سلسلے میں چند دن پہلے شرمیلا فاروقی کے شوہر نے ایک انڈسٹریلزٹ کو اپنا کاروبار بیچنے کی رقم آفر کی انکار کی صورت میں اس صنتکار کو جیل کی ہوا بھی کھانی پڑھی اور اپنی فیکٹری بھی سیل کروانا پڑھی سندھی حکمراں ذھن بنا چکے ہیں کہ اسٹبشمنٹ چاہے کچھ بھی کرے اس صورتحال میں جھکنا نہیں ہے سندھو دیش کا آپشن ہمارے پاس موجود ہے یہ تو ہے ان دو مفاد پرست اور ظالم کرداروں کی رسہ کشی ۔
لیکن تیسرا فریق کراچی کی عوام جس کے مفاد اور تحفظ کا کوی سوچ ہی نہیں رہا ہے جس کی زندگیوں کی کسی کو پرواہ ہی نہیں پنجابی اسٹبلشمنٹ چاہتی ہے کراچی کھولو کیوں کہ کراچی سے پورے پاکستان کی معیشت کا پہیہ چل رہا ہے ۔ سندھی حکمراں کی مکرانہ سوچ یہ ہے کہ لاک ڈاون برقرار رکھ کر اردو بولنے والوں کے بزنس کو تباہ برباد کرکے اونے پونے داموں خرید کر مہاجر کو بلکل اس ہی طرح کاروبار سے بھی بے دخل کردیں جیسے انھیں سرکاری نوکریوں سے بے دخل کرکے بلکل ساہیڈ لاںؑن کردیا ہے اور اسٹبلشمنٹ کو بھی پہلی دفعہ گردن سے پکڑ کر اپنے اوپر لٹکنے والی کرپشن کی سزا کی تلوار کو کو ہٹانا ہے۔
اب دیکھیں کون کس کو زیر کرتا ہے لیکن یہ بات طے ہے کہ دونوں صورتوں میں کراچی کے مہاجر کا نقصان اور موت ہے یہ موت اور یہ بہیانک سزا اردو بولنے والوں کو اپنے اتحاد کو اپنے ہاتھوں سے پارہ پارہ کرنے اور اپنے حقوق کے حصول کی جدوجہد سے بےگانگی اور بزدلی کی مل رہی ہے اور یہ سزا ابھی تو شروع ہوی ہے اسکا انجام کتنا بھیانک ہوگا یہ سوچ کر روح تک کانپ جاتی ہے ۔