اسٹیٹ بینک نے پاکستانی معیشت کی کیفیت پر دوسری سہ ماہی رپورٹ برائے مالی سال 20ء جاری کردی

اسٹیٹ بینک نے پاکستانی معیشت کی کیفیت پر دوسری سہ ماہی رپورٹ برائے مالی سال 20ء جاری کردی

بینک دولت پاکستان نے پاکستانی معیشت کی کیفیت پر اپنی دوسری سہ ماہی رپورٹ برائے مالی سال 20ء آج جاری کردی۔ رپورٹ کے مطابق استحکام کی کوششوں اور ضوابطی اقدامات کے نتیجے میں مالی سال 20ء کی پہلی ششماہی کے دوران نمایاں بہتری آئی۔ جاری کھاتے کا خسارہ چھ سال کی پست ترین سطح پر پہنچ گیا، زر مبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے، بنیادی بجٹ میں فاضل ریکارڈ کیا گیا اور قوزی (core) مہنگائی کم ہوگئی۔ اہم بات یہ ہے کہ برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ میں تیزی کے آثار دکھائی دیے اور تعمیرات کی سرگرمیاں بڑھ گئیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معیشت بحالی کی راہ پر گامزن ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پیش رفت صحیح راستے پر چلتی رہی اور کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے زیر جائزہ مدت کے دوران پاکستان کا مستحکم منظر نامہ برقرار رکھا۔ مزید بہتری کے لیے معیشت کو پائیدار نمو کی راہ پر مضبوطی سے گامزن کرنے کے لیے گہری ساختی اصلاحات درکار ہوں گی۔

جہاں تک توازن ادائیگی کا تعلق ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جاری کھاتے میں بہتری زیادہ تر درآمدی بل میں کمی کے باعث سے آئی جبکہ برآمدی آمدنی کا کچھ حصہ رہا ۔ مسابقتی ایکسچینج ریٹ کی بنا پر برآمدی حجم میں ہونے والا فائدہ اجناس کی پست عالمی قیمتوں کے سبب جزوی طور پر زائل ہوگیا۔ ٹیلی مواصلات کے شعبے کو چھوڑ کر بیرونی براہ راہ راست سرمایہ کاری (FDI) کی آنے والی رقوم تقریباً گذشتہ سال کی سطح پر تھیں۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ملک میں مزید بیرونی براہ راست سرمایہ کاری کی مزید رقوم لانے اور اس بہاؤ کو قائم رکھنے کے لیے اصلاحاتی کوششوں کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔

مالیاتی شعبے کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا کہ بنیادی بجٹ میں فاضل ریکارڈ کیا گیا جبکہ مالیاتی خسارہ مالی سال 20ء کی پہلی ششماہی میں پچھلے سال کی اسی مدت کی نسبت قابو میں رہا۔ اس کا سبب معیشت میں سست روی اور درآمدات کے سکڑاؤ کے باوجود محاصل کی نمایاں نمو تھی۔ قبل ازیں دی گئی ٹیکس رعایات کے خاتمے اور نئی لیویز کے نفاذ سے محاصل کی وصولی میں اضافہ کرنے میں مدد ملی۔ تاہم مجموعی محاصل کا ہدف حاصل نہ ہوسکا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس بیس میں اضافہ کرنے اور معیشت میں دستاویزیت کو بڑھانے کے لیے کوششوں کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں شعبہ زراعت سے متعلق مسائل کو مزید اجاگر کیا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ شعبہ پانی کی محدود دستیابی اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل سے نمٹنے کی کم صلاحیت رکھتا ہے۔ خاص طور پر کپاس کی فصل ناسازگار موسم، وبائی حملوں اور پانی کی کم دستیابی سے متاثر ہوئی۔ اگرچہ گندم کی فصل اور گلہ بانی کے امکانات حوصلہ افزا ہیں تاہم کپاس کی پیداوار میں کمی سے مالی سال 20ء کی شعبہ زراعت کی کارکردگی کو سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

جہاں تک مہنگائی کا تعلق ہے، رپورٹ میں کہا گیا کہ مالی سال 20ء کی پہلی ششماہی کے تمام عرصے کے دوران مہنگائی کا دباؤ بڑھتا رہا۔ اگرچہ معیشت میں پست طلب کے باعث غیر غذائی غیر توانائی (NFNE) مہنگائی میں استحکام دکھائی دیا تاہم غذائی گرانی دونوں سہ ماہیوں میں تیزی سے بڑھی۔ چونکہ مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ زیادہ تر رسد میں تعطل کا نتیجہ تھا، جو عموماً موسمی اور عارضی ہوتا ہے، اور قوزی مہنگائی اسی مطابقت سے نہیں بڑھی اس لیے مالی سال 20ء کے لیے اوسط عمومی مہنگائی کے لیے اسٹیٹ بینک کے تخمینے میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی اور وہ 11 سے 12 فیصد کے درمیان رہا۔ یہی بڑی وجہ تھی کہ زری پالیسی کمیٹی نے مالی سال 20ء کی پہلی ششماہی کے دوران ستمبر اور نومبر میں اپنے دونوں اجلاسوں میں پالیسی ریٹ تبدیل نہیں کیا۔

اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ استحکام کے اقدامات ملک کو پائیدار نمو کی راہ پر گامزن کر سکیں، رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ جاری کوششوں کو مزید ساختی اصلاحات کے ذریعے تقویت بہم پہنچائی جانی چاہیے۔ اس ضمن میں رپورٹ کے خصوصی سیکشن میں کہا گیا ہے کہ ملکی معیشت میں مسابقت کی صورت حال پر پالیسی سازوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس سیکشن میں ملک میں مسابقت کی موجودہ کیفیت کا جائزہ لیا گیا ہے اور معاشی نمو اور قیمتوں کے استحکام کے حصول کے حوالے سے مسابقت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس سیکشن میں زور دیا گیا ہے کہ پاکستان میں مجموعی مسابقتی ماحول پیداواریت اور نمو کو بڑھانے کے لیے ناسازگار رہا ہے۔ اس تناظر میں معیشت کے ضوابطی ڈھانچے پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ سرکاری شعبے کا کردار عام طور پر ساختی اصلاحات کے ذریعے مارکیٹ کی ناکامیوں سے نمٹنے اورصرف کاروباری اداروں کو وسیع تر شعبہ جاتی تعاون کی فراہمی تک محدود ہونا چاہیے۔ مارکیٹ کی ناکامیوں کی صورت میں جہاں پر سرگرمیوں کو اعانت کی ضرورت ہو وہاں پر ہدفی اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں لیکن اس بات کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ وہ مستقل نہ ہو جائیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کے عالمی اور ملکی پھیلاؤکے باعث ملک کو غیر معمولی چیلنجوں کا سامنا ہے۔عالمی معیشت کے اثرات اور ملک میں اس وبا کی روک تھام کے حوالے سے اقدامات یقینی طور پر ملک کی معاشی سرگرمیوں اور صارفین کی طلب کمزور کرنے کا باعث بن سکتے ہیں اور رسد پر منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔ چونکہ صورت حال مسلسل بدل رہی ہے اور بے حد غیر یقینی ہے، اس لیے معاشی منظر نامہ وبا کے پھیلاؤسے پہلے کے تخمینوں کے مقابلے میں کافی کمزور دکھائی دیتاہے۔ لہٰذا اس صورت حال میں حکومت اور اسٹیٹ بینک نے معیشت پر کورونا وائرس کے منفی اثرات کو زائل کرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ان اقدامات میں بھاری مالیاتی اخراجات کے پروگرام، ٹیکسوں میں نرمی اور تعمیراتی صنعت کو دی گئی ترغیبات شامل ہیں۔ جہاں تک اسٹیٹ بینک کا تعلق ہے ، (مارچ 2020ء میں) 8دن کی مدت میں زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ میں225بیسس پوائنٹس کٹوتی کی ۔ مزید برآں، اسٹیٹ بینک نے قرض لینے والوں کو قرضوں کی اصل رقم کی واپسی میں ایک سال کی مہلت ، ملازمین کو برطرف نہ کرنے والے کاروباری اداروں کو رعایتی فنانسنگ کی پیشکش ، کورونا وائرس میں مبتلا افراد کی نگہداشت کرنے والے اسپتالوں کی استعداد بڑھانے کے لیے رعایتی فنانسنگ کی فراہمی ،عوام کی مالی خدمات تک رسائی میں سہولت ، درآمد و برآمد کنندگان کے لیے ادائیگی کے طریقوں کو آسان بنانے سمیت کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے