نیویارک میں کورونا وائرس کا شکار ہونے والے پاکستانی ڈاکٹر کی کہانی

میں پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر اور نیویارک میں مقیم ہوں۔ آج کل دنیا بھر میں کورونا وائرس تو ہر گفتگو کا موضوع بنا ہوا ہی ہے، لیکن اس حوالے سے سب سے مشکل میں نیویارک شہر ہے، جہاں مرنے والوں کی تعداد کسی بھی شہر کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہوچکی ہے۔

یہ بات جب کہی جاتی ہے کہ ڈاکٹرز اس مرض کے خلاف سب سے آگے جاکر مقابلہ کررہے ہیں تو یہ بالکل ٹھیک ہے، کیونکہ بطور ڈاکٹر مریض کا علاج کرتے ہوئے میں خود بھی اس مرض میں مبتلا ہوا، لیکن اب میرا علاج مکمل ہوچکا ہے اور میں مکمل طور پر صحتیاب ہوں۔

اس لیے آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں کہ صحت بحالی کا کٹھن مرحلہ کیسے گزرا؟ امریکا بالخصوص نیویارک کے حالات کیسے ہیں؟ اور متاثرین کو کس طرح مدد فراہم کی جا رہی ہے؟

ہسپتال میں گزرے دن
ابتدائی 2 ہفتے بڑے ہی کٹھن گزرے، کھانسی، بخار اور سانس میں تکلیف نے طبعیت کو نڈھال کردیا تھا۔ ایک ہفتہ تو گھر پر ہی گزارا، کوشش تھی کہ معمول کے علاج سے ان مسائل سے نمٹا جائے لہٰذا عام دوائیں کھائیں، بھاپ لی، وٹامن سی لیا۔ ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ پانی پیا کیونکہ اس مرض میں جسم کمزور ہوتا جاتا ہے اور بھوک مرتی جاتی ہے۔ اس لیے کوشش کی کہ مناسب مقدار میں غذا جسم میں داخل کی جاتی رہے۔

تحریر جاری ہے‎

نیویارک میں ایک مریض کو ہسپتال لایا جا رہا ہے—اے ایف پی
لیکن اگلے ہفتے جب میری طبعیت زیادہ بگڑنے لگی تو ایمبولینس کو بلانے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ بذریعہ ایمبولینس ہسپتال پہنچے جہاں مجھے داخل کردیا گیا۔ ہسپتال میں مریض کی جن چیزوں کا جائزہ لیا جاتا ہے ان میں سے ایک مریض کی Oxygen Saturation کے پوائنٹس ہیں۔ اس کے ذریعے یہ پتا کیا جاتا ہے کہ کہیں مریض کی آکسیجن سیچوریشن کم تو نہیں ہو رہی ہے؟

ایک عام شخص کی آکسیجن سیچوریشن 98 یا 99 ہونی چاہیے۔ آکسیجن سیچوریشن کے جائزے کا تعلق اس مرض سے اس لیے بنتا ہے کہ یہ وائرس پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور انہیں نقصان پہنچاتا رہتا ہے، اس وجہ سے چونکہ پھپھڑوں کو آکیسجن کم ملتی ہے اس لیے جسم کو بھی آکسیجن کم ملتی ہے یوں مریض کی حالت تیزی سے بگڑتی جاتی ہے۔

میری آکسیجن سیچوریشن چیک کی گئی تو وہ بھی خاصی کم تھی۔ میری طبعیت کی ناسازی کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہسپتال میں میری دیکھ بھال میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ خدا کے فضل سے میری طبعیت سنگینی کی دہلیر تک نہیں پہنچی تھی کیونکہ جس وقت میں ہسپتال کے بستر پر لیٹا ہوا تھا اس وقت ہسپتال میں ایسے بہت سے مریض موجود تھے جنہیں وینٹی لیٹر پر رکھا ہوا تھا۔

ہسپتال میں گزرے 8 دن انتہائی کٹھن ثابت ہوئے۔ مجھے وہاں آئیسولیشن روم میں رکھا گیا تھا جہاں کسی ملاقاتی یا دوست احباب کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔ یہی نہیں بلکہ ڈاکٹر، نرس و دیگر ہسپتال کا عملہ بھی ان کمروں میں ضرورت پڑنے پر ہی وہاں آتا جس کی ایک وجہ شاید یہ ہے کہ انہیں کمرے میں داخل ہونے سے پہلے تمام احتیاطی تقاضے پورے کرنا پڑتے ہیں، یعنی حفاظتی کِٹ پہننا پڑتی ہے اور ظاہر ہے کہ کوئی بھی آئیسولیشن روم میں غیر ضروری طور پر آکر اپنی صحت و جان کو اس مہلک وائرس کے قریب کیوں لانا چاہے گا؟

میرے کمرے کے ساتھ 82 سالہ بوڑھے مریض کا کمرہ تھا۔ اس کی حالت کافی خراب تھی، جہاں مجھے 4 لیٹر بذریعہ نیزل کینولا آکسیجن فراہم کی جارہی تھی وہیں وہ ناتواں عمر رسیدہ مریض 30 لیٹر آکیسجن پر تھا اور اس کی طبعیت دن بدن بگڑتی جا رہی تھی۔

یہاں اہم بات یہ ہے کہ ہسپتال میں کھانے پینے کے حوالے سے کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ خوش قسمتی سے ان کے پاس حلال کھانا بھی دستیاب تھا اور گھر والے بھی گھر کا کھانا بھیجا کرتے تھے۔ چونکہ انہیں ملاقات کی اجازت نہیں تھی اس لیے وہ کھانا لابی میں ہسپتال والوں کے حوالے کرکے چلے جاتے جہاں سے پھر ہسپتال کا عملہ ہمارے کمروں تک پہنچایا کرتا تھا۔

اگر سیدھی بات کی جائے تو سچ یہی ہے کہ ہسپتال میں بہترین علاج اور میرے اہل وعیال اور عزیز و اقارب کی دعاؤں کی بدولت میری صحت تیزی سے بحال ہوتی گئی اور 8 روز ہسپتال میں گزارنے کے بعد میں اپنے گھر لوٹ آیا۔ اس وقت میری آکسیجن 95 سے 96 ہے، انشاء اللہ وقت کے ساتھ مزید بہتری کی امید ہے۔

یہاں یہ بھی بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ کورونا وائرس کے خلاف اس جنگ میں ہسپتال جانے سے کچھ دن پہلے تک میں جب گھر میں اس مرض سے لڑتا رہا تو اس دوران کچھ دیسی طریقہ علاج سے بھی مجھے بہت آرام ملا، میں نے روزانہ باقاعدگی سے بھاپ لی، تازہ پھل جن میں وٹامن سی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ان کا استعمال جاری رکھا، اس کے علاوہ کلونجی اور شہد سے بھی میری قوت مدافعت میں بہتری آئی۔ ان سب چیزوں کو میں نے ہسپتال سے آنے کے بعد بھی استعمال کیا۔

میں وائرس کا شکار کیسے بنا؟
جب مجھے معلوم ہوا کہ مجھے اس بیماری نے گھیر لیا ہے تو اس سوال نے مجھے ستایا کہ یہ وائرس مجھ پر کس طرح وارد ہوگیا؟ تو ذہن میں ایک مریض کا خیال تیر آیا کہ ممکن ہے مجھے اُسی مریض سے یہ وائرس لگا ہو۔

معاملہ یہ ہے کہ میں نے کچھ ہی دن پہلے اس کا طبّی معائنہ کیا تھا اور ایک بات یہ ہے کہ وہ میرا معمول کا مریض بھی نہیں ہے۔ وہ سالانہ جسمانی چیک اپ یا عام طبّی معائنے کے سلسلے میں 2 بار میرے پاس آیا تھا۔ پہلے وزٹ پر فزیکل معائنہ کیا گیا اور دوسرے وزٹ پر خون اور دیگر چیزوں کے ٹیسٹوں کے نتائج پر گفتگو ہوئی تھی۔ پھر پتا چلا کہ طبعیت کی ناسازی کے باعث انہیں ایک دوسرے ہسپتال میں داخل کردیا گیا ہے۔ ہسپتال میں ہی انہیں بخار کی شکایت ہوئی اور ٹیسٹ کرنے پر ان میں کورونا وائرس کی موجودگی ظاہر ہوگئی۔ لیکن یہ میرا اندازہ ہے، ضروری نہیں کہ یہی سچ ہو، ممکن ہے کہ باہر چلتے پھرتے، پارکنگ لاٹ میں یا کسی دوسرے شخص سے مجھے یہ وائرس لگا ہو۔

نیویارک کورونا سے اس قدر متاثر کیوں ہے؟
یہ وہ سوال ہے جو سب سے زیادہ پوچھا جارہا ہے۔ اس حوالے سے میری ذاتی رائے یہ ہے کہ نیویارک میں دیگر ریاستوں کی نسبت لوگوں کی زیادہ ٹیسٹنگ کی گئی ہے۔ یہاں وائرس کے پھیلاؤ کے پیچھے چُھپی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ ہے کہ نیویارک گنجان آبادی والا علاقہ ہے اور چین، بھارت، بنگلہ دیش سمیت دنیا کے کونے کونے سے آئے لوگ یہاں مقیم ہیں اور اگرچہ سیاح کی آمد کا سلسلہ اس وقت تھما ہوا ہے لیکن یہ دنیا کا ایک مشہور سیاحتی مرکز بھی ہے۔

دوسری وجہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں کوئینز اور مین ہیٹن جیسے علاقوں میں اکثر لوگ اپنی کام کی جگہوں پر جانے کے لیے عوامی ٹرانسپورٹ مثلاً میٹرو اور عوامی بسوں کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں جبکہ نیویارک شہر کو واکنگ سٹی بھی پکارا جاتا ہے لہٰذا پیدل چلنے والوں میں سے اگر کوئی چھینک دے یا کھانس دے تو اس سے بھی وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ رہتا ہے۔

ایک پریشانی یہ ہے کہ اس مرض کی علامات ظاہر ہی نہیں ہوتیں۔ نیویارک اس وقت کورونا وائرس کا مرکز بنتا جا رہا ہے اور اس وقت تک ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے، جبکہ ان میں سے قریباً 10 ہزار افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

میں قارئین کو یہاں یہ بتانا چاہوں گا کہ یہ مرض ان افراد کے لیے زیادہ خطرناک یا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے جو شوگر، بلڈ پریشر اور امراضِ قلب کے شکار ہیں۔ نیویارک میں مرنے والوں میں 86 فیصد ایسے لوگ شامل تھے جنہیں شوگر اور ذہنی تناؤ کے امراض لاحق تھے جبکہ 63 فیصد افراد ایسے تھے جن کی عمر 70 برس یا اس سے زائد تھی۔ صورتحال کی خرابی کا اندازہ کووڈ ٹریکنگ پراجیکٹ اینڈ سٹی ڈیٹا کے اعداد وشمار سے لگایا جاسکتا ہے جس کے مطابق ہر 6 منٹ میں کورونا وائرس سے ایک موت واقع ہو رہی ہے۔

نیویارک میں چھائی ویرانی کا ایک منظر—اے ایف پی
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موت کا شکار بننے والوں میں 61 فیصد مرد تھے اور 39 فیصد خواتین تھیں۔ ان میں سے 7 فیصد افراد ایسے تھے جن کی عمر 49 برس یا اس سے کم عمر تھے۔

نیویارک کے نظامِ صحت اور ہسپتالوں کے حالات کافی خراب ہیں۔ وائرس سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ سامان کی قلت پائی جاتی ہے۔ وینٹی لیٹرز کی تعداد بھی کم ہے، تاہم ہنگامی انتظامات کرتے ہوئے نیویارک میں 3 اہم مقامات یعنی سینٹرل پارک، جیکب جیوٹس کنوینشن سینٹر اور نیشنل ٹینس سینٹر پر عارضی ہسپتال قائم کیے گئے ہیں۔

کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد نیویارک میں حالات کی بدتری کا یہ عالم ہے کہ یہاں مردہ خانے بڑی حد تک بھر چکے ہیں۔ طبّی کارکن، عملہ، نرسیں اور ڈاکٹر مسلسل ڈیوٹی کرکے برُی طرح تھک چکے ہیں جبکہ متعدد ڈاکٹرز کورونا وائرس کی زد میں آکر جان کی بازی بھی ہار چکے ہیں۔

نیویارک میں ڈاکٹر اور ہسپتال عملہ اپنے بچھڑنے والوں کی یاد منارہے ہیں—اے ایف پی
امریکا میں کورونا وائرس کے بحران سے جڑی خبریں
یہ بات بالکل غلط ہے کہ امریکا میں کورونا وائرس کے باعث اموات کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے۔ میں نہیں جانتا کہ لوگ یہ بات کیوں کررہے ہیں کیونکہ یہاں تو کیسوں کی تعداد 5 لاکھ 60 ہزار سے تجاوز کرچکی ہیں جبکہ 22 ہزار افراد کی موت واقع ہوچکی ہے۔

امریکا میں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اگلے 2 سے 3 ہفتوں کے دوران کیسوں کی تعداد نئی بلندیوں کو چھوئے گی اور مریضوں اور اموات میں زبردست اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ میں خود نیویارک میں مقیم ہوں اور حالات میرے سامنے ہیں اور اسی لیے پورے اعتماد سے ایسی جھوٹی خبروں کی تردید کرسکتا ہوں۔

نیویارک—اے ایف پی
متاثرین کی مالی مدد
جہاں تک ملکی سطح پر مالی سپورٹ کا تعلق ہے تو سینیٹ نے امریکی تاریخ کے سب سے بڑے معاشی پیکج کا اعلان کیا ہے، معاشی پیکج سے انفرادی اور کمپنی کی سطح پر ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ جس کے تحت امدادی رقوم سالانہ 99 ہزار ڈالر سے کم آمدن رکھنے والے افراد کو ہی مل سکے گی۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ 250 ارب ڈالر براہِ راست امریکی شہریوں میں بانٹیں جائیں گے اور 250 ارب ڈالر بیروزگاروں کی امداد پر خرچ ہوں گے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ چھوٹے کاروباری افراد کو 350 ارب ڈالر جبکہ 500 ارب ڈالر کے قرضے بڑے کاروباری اداروں کو فراہم کیے جائیں گے۔ بتایا جارہا ہے کہ اس پیکج کے ذریعے سالانہ 75 ہزار ڈالر سے کم آمدن والے ٹیکس گزاروں کو 1200 اور ان کے ایک بچے کے لیے 500 ڈالر دیے جائیں گے جبکہ اس سے زیادہ رقم کمانے والوں کو اس سے کم پیسے دیے جائیں گے اور 99 ہزار ڈالر سے زیادہ کی آمدنی والے افراد کو کچھ بھی نہیں دیا جائے گا۔ رقوم کے حصول کے لیے امریکی شہریوں کے پاس سوشل سیکیورٹی نمبرز کا ہونا ضروری ہے۔

—–
ڈاکٹر مشاہد فاروقی نیو یارک میں واقع سٹی ہیلتھ ارجنٹ کیئر کے میڈیکل ڈائریکٹر ہیں اور بیسٹ میڈیکل کیئر سے بطور چیف میڈیکل افسر وابستہ ہیں جبکہ اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا (اکنا) ریلیف فری کلنک نیو یارک چیپٹر کے لیے بھی اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
Dawnnews-report