دو کمروں کے گھر سے ارب پتی بننے کا سفر اور پھر وزیراعظم بننے کا سپنا ۔جہانگیر ترین کی زندگی کی مکمل کہانی ۔سنسنی خیز انکشافات

عمران خان کے گلے میں وزارت عظمی کا ہار پہنانے کے دعویدار پاکستان تحریک انصاف کے سرگرم رہنما اور سابق وفاقی وزیر جہانگیر خان ترین نے اپنی زندگی میں کیا کیا نشیب و فراز دیکھے ۔کن کن مشکلات کا سامنا کیا ۔کیا کیا خواب دیکھے اور اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے لئے کیسے دن رات ایک کر دیا ۔
جہانگیر ترین کی زندگی حیرت انگیز تجربوں اور دلچسپ واقعات سے بھری پڑی ہے ۔بیتے دنوں کی یادیں تازہ کر کے وہ خود بھی بہت خوش ہوتے ہیں اپنی مٹی سے محبت پر انہیں ناز ہے ان کا کہنا ہے کہ مٹی سے میرا رشتہ میرے ڈی این اے میں شامل ہے اگر اس مٹی سے محبت نہ ہوتی تو میں امریکہ سے واپس کیوں آتا ۔جب امریکہ میں پڑھ رہا تھا اور ایم بی اے کر لیا تھا تو ایک دن بھی وہاں رکنے کا خیال نہیں آیا سیدھا اپنے وطن پاکستان آگیا ۔یہ طے کرلیا تھا کہ وہی کام کروں گا جسے کر کے مجھے خوشی ملے گی ۔
جہانگیر ترین جب سے سیاست میں آئے ہیں ان کے بارے میں کافی کچھ لکھا اور بولا گیا ہے کچھ حقیقت ہے کچھ مبالغہ آرائی ۔
ان کے بارے میں کہا گیا کہ پنجاب یونیورسٹی کے لیکچرار سے لے کر ارب پتی بننے تک انہوں نے جہیز میں ملنے والی سیاست اور اپنی دولت سے کامیابی خریدنے کی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا ۔
ان کے والد اللہ خان ترین فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں ایک پولیس افسر تھے اور ایوب خان سے انکی دور پرے کی رشتہ داری بھی تھی جب تربیلاڈیم بنا تو اس کی عزت میں ان کی زمینیں بھی آئیں۔ اس کے بدلے جہانگیر ترین کے والد کو لودھراں میں زرعی زمین مل گئی ۔پولیس کی نوکری سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ملتان میں رہائش اور لودھراں میں زمینداری کرنے لگے لودھراں کے دو کمرے کے گھر سے جہانگیر ترین کی زندگی کا آغاز ہوا ۔لاہور سے گریجویشن اور امریکہ کی نارتھ کیرولینا سے انیس سو چوہتر1974میں بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری لی .

امریکا سے واپس آئے تو پنجاب یونیورسٹی میں لیکچرار کی ملازمت ملی 705 روپے تنخواہ تھی ۔پڑھانے کا شوق تھا نوجوانوں سے بات کرنے کا شوق تھا اس لیے ایک سال تک یہ نوکری کرتے رہے لیکن والد پروفیسری کی زندگی کے خلاف تھے لہذا پنجاب یونیورسٹی کی نوکری چھوڑ کر گرینڈ لیز بینک میں نوکری کر لی بائیس سال کی عمر میں ایم بی اے کرکے امریکہ سے واپس آئے تھے ایک سال پنجاب یونیورسٹی میں گزارہ اور پھر تین سال تک بینک کی نوکری کی بینک کا دفتر لاہور کی ایک سڑک پر بیس منٹ میں تھا جسے وہ تے خانہ ہی سمجھتے تھے صبح سے شام تک اس تہہ خانے کی نوکری سے وہ بیزار آگئے اپنے دوست سے مشورہ کیا اور اگلی صبح نوکری سے استعفیٰ دے کر ملتان اپنے والد کے پاس پہنچ گئے والد کا پہلا سوال یہ تھا بینک میں کوئی لڑائی کرکے آئے ہو ۔
والد کو بتایا کہ اب میں کاشتکاری کروں گا ۔لودھراں میں والد کی جو زمین تھی اس کے دو کلومیٹر دور ایک اراضی ایسی تھی جو محکمہ جنگلات نے فوج کو دے دیں اور وہ زمین فوجیوں میں تقسیم ہو گی وہاں پانی نہیں تھا بنجر زمین تھی فوجی وہاں آکر اپنی زمین دیکھتے تو پریشان ہوجاتے میں نے آہستہ آہستہ ان سب لوگوں سے انتہائی سستے داموں وہ زمین خرید لی وہاں باقاعدہ بنجر زمین تھی پانی زمین کے نیچے ہرایا تھا اور اوپر ریت کے ٹیلے تھے اور ایسے جنگلی پودے تھے جنہیں انگریزی کی کر کہتے ہیں میں نے ان لوگوں سے سستی زمین خریدی اور خوب محنت کرکے اسے آباد کیا بیس سال میں نے ہو محنت کرکے اس زمین پر کام کیا ٹیلے صاف کیے زمین کو ہموار کیا دو بیڈ کے اس گھر میں بھی سال گزارے مشکل وقت ہا لیکن خوشی سے گزارا آج وہاں آموں کا باغ ہے تین مرتبہ آسٹریلیا گیا کاشتکاری سیکھنے کے لئے ۔پھر امریکا سے ٹیم بلائیں ۔علاقے میں منشی کلچر کو تبدیل کیا ہمارے یہاں کاشتکار عام طور پر منشی کلچر پر بھروسا کرتے ہیں خود کام نہیں کرتے۔باہر سے آنے والے انگریز کہتے تھے تمہارے زیادہ تر کاشتکار دوست ونڈ شیلڈ فارمر ہیں وہ ونڈ شیڈ فارم اور ایسے لوگوں کو کہتے تھے جسر گاڑی کی ونڈ اسکرین سے کھیت کو دیکھتے ہیں خود زمین پر اتر کر محنت نہ کرتے ہو ں۔

جہانگیر ترین کی پورے پاکستان میں کتنی زمین ہے یہ بات وہ واضح طور پر نہیں بتاتے لیکن ان کے بارے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب سے لے کر سندھ تک ان کے پاس اندازن 45 ہزار ایکڑ زمین ہے لیکن یہ زمین ان کے نام پر ثابت کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ زمین رشتہ داروں اور ملازمین کے نام پر ہے ۔

جہانگیر ترین نے آس پاس کے علاقوں میں فوجیوں سے سستی زمین خریدنے کے بعد مقامی زمینداروں کی طرف رخ کیا اور سارا سال وہ جتنی رقم فصل لگا کر اور محنت کرکے کماتے تھے انہیں بغیر محنت کے پوری رقم دینے کی پیشکش کی اور ٹھیکا پر ان کی زمین لے لی مقامی لوگوں کی بڑی تعداد نے اپنی زمین ٹھیکے پر جہانگیر ترین کو دے دیں اس زمین کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے کہ یہ کتنی ہے ۔

جہانگیر ترین کے کنٹرول میں آنے والی زمینوں پر تنازعات بھی سامنے آئے رشتہ داروں اور مقامی لوگوں نے دھوکے سے کم قیمت پر زمین خریدنے اور قبضہ کرنے کے الزامات بھی لگائے مقدمات بنے اور آج تک مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں کچھ مقدموں کا فیصلہ ہوگیا باقی زیر سماعت ہیں ۔

جہانگیر ترین نے زمینوں سے خوب پیسہ کمانے کے بعد مختلف بزنس شروع کیے ۔پیسہ آیا تو شوگر ملیں خریدیں ۔مختلف کاروباروں کے شیئرز خریدے بینکوں میں حصہ داری کی اور ہر وہ منافع بخش کاروبار کیا جو کوئی بھی سمجھدار بزنس مین کرنا چاہے گا ۔

بتایا جاتا ہے کہ ان کی قسمت کو چار چاند اس وقت لگے جب وزیر اعلی شہباز شریف نے زرعی ٹاسک فورس کا سربراہ نہیں بنایا ان کے ناقدین الزام لگاتے ہیں کہ اسی دور میں پنجاب میں زمینوں سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لیے غیرملکی کمپنیوں کے تعاون سے بہت سے نئے زرعی تجربے کیے گئے یہ تجربے جہانگیر ترین کی زمینوں سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کا سبب بنے اور جہانگیر ترین نے دوسرے علاقوں کی نسبت اپنی زمینوں سے غیرمعمولی پیداوار حاصل کرنا شروع کر دی ۔
جہانگیر ترین کی انتخابی سیاست کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ رحیم یار خان کے مخدوموں کے دامات اور ملتان کے گیلانیوں اور سندھ کے پگاڑا خاندان کے سسرالی ہیں اس لیے ان کے لیے سیاست میں آنا مشکل کام نہیں تھا وہ اچھے وقت کا انتظار کر رہے تھے اور وہ اچھا وقت انہیں جنرل مشرف کے فوجی دور میں ملا ۔

وہ مسلم لیگ قاف کے ٹکٹ سے سال 2002 کے الیکشن میں لودھراں سے ممبر قومی اسمبلی بن گئے پہلے وفاقی وزیر بننے سے انکار کیا پھر جب انہیں پنجاب کے وزیراعلی نے پیشکش کی تو منپسند زراعت کا قلمدان مل گیا وہاں خوب نئے ذرائع تجربے کرنے لگے بعد میں وزیراعظم شوکت عزیز آئے تو ان کے دور میں وزیر صنعت و پیداوار بن گئے ۔
بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ہونے والے الیکشن میں سال 2008 میں پیر پگارہ کی مدد سے ممبر نیشنل اسمبلی بنے ۔درجن بھر ارکان اسمبلی کو جمع کرکے ایک سیاسی پریشر گروپ بنایا یہاں سے تحریک انصاف اور عمران خان کے پاس جانے کا راستہ نکالا اور ایک لمبی چھلانگ لگا کر تحریک انصاف میں شامل ہوگئے 2015 کے پارٹی الیکشن میں جسٹس وجیہ الدین نے الزام لگایا کہ دولت کی بنیاد پر جہانگیرترین نے الیکشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی لیکن جسٹس وجیہہ الدین کو عمران خان نے پارٹی سے نکال دیا ۔
جہانگیر خان ترین پر مختلف الزامات لگتے رہے مقامی زمیندار ان پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے کپاس کے کاشتکار کو گنا لگانے پر مجبور کیا جس کی وجہ سے کپاس کی کاشت کم ہوگی اور ملکی ایکسپورٹس کو بھی نقصان پہنچا اور گنے کی زیادہ فصل کی وجہ سے زمینوں پہ نقصان ہوا سارا پانی گنے کی فصل پی جاتی ہے ۔
شوگر ملوں کے ذریعے کاشتکاروں کو لوٹنے حکومت سے سبسڈی لینے اور اربوں روپے کمانے کا سلسلہ جاری ہے اور ان پر چینی چور کا ٹھپا بھی لگ گیا وزیراعظم عمران خان نے شور مچانے پر انکوائری کا حکم دیا اور اب ابتدائی رپورٹ سامنے آئی تو ہر طرف جانگیر ترین کے خلاف انگلیاں اٹھنا شروع ہوگئیں ۔
خود جہانگیرترین اپنے خلاف لگنے والے تمام الزامات کو رد کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف لگائے جانے والے الزامات محض الزامات ہیں اور سیاسی انتظامی کارروائی کے طور پر سیاسی مخالفین لگاتے آئے ہیں ۔وہ تو خود چاہتے ہیں کہ انکوائری ہو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے اور اب انہیں خود انتظار ہے 25 اپریل کو فرانزک رپورٹ آنے کا ۔
فی الوقت انہوں نے خود کو وزیراعظم ہاؤس اور پی ٹی آئی کی حکومتی سیاست سے الگ تھلگ کر لیا ہے اور اپنی زیادہ توجہ اپنی فیملی اور بزنس کو دینے لگے ہیں ۔

Salik-Majeed-for-jeeveypakistan.com