jazzجاز پاکستان کورونا سے بچاؤ کیلئے وزیراعظم کے فنڈ میں ایک ارب 20 کروڑ عطیہ دے کر بدلے میں کون کون سے ٹیکسوں میں چھوٹ جاتی ہے؟

کورونا سے بچاؤ کے لیے وزیراعظم کے فنڈ میں جاز پاکستان کی جانب سے ایک ارب بیس کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا گیا ہے بظاہر یہ بہت زبردست اعلان ہے جس پر کمپنی کی ہر طرف سے تعریف کی جارہی ہے اور اس اقدام کو انتہائی قابل ستائش اور قابل تعریف قرار دیا جا رہا ہے ۔
لیکن دوسری جانب سرکاری ذرائع کا بتانا ہے کہ جاز پاکستان کمپنی کے اعلیٰ حکام پچھلے پانچ چھ مہینے سے حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کرکے انتہائی اہم ٹیکس ختم کرانے یا ان کی شرح کم کرانے کے لیے سر توڑ کوشش کر رہے تھے ۔لیکن جاز پاکستان کے اعلیٰ حکام کو اس سلسلے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی ۔
آپ کرو نا پھیلنے کے وجہ سے حکومت نے فنڈ قائم کیا جس میں مختلف کمپنیاں ادارے اور عام لوگ فنڈ جمع کروا رہے ہیں یہ موقع غنیمت جان کر جاز پاکستان کے سی ای او عامر بشیر نے ایک ارب بیس کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے ۔
عام طور پر لوگوں کا خیال ہے کہ جس رقم کا اعلان کیا جاتا ہے وہ رقم نقد حکومت پاکستان کو مل جاتی ہے یا وزیراعظم کے فنڈ میں پہنچ جاتی ہے ۔

لیکن درحقیقت ایسا نہیں ہے جاز پاکستان جو پاکستان کی سب سے بڑی سیلولر کمپنیوں میں سے ایک ہے اور جس کے پاس پاکستان کی موبائل کمپنیوں کے بزنس کا سب سے بڑا حصہ ہے اس کمپنی کی مینیجمنٹ نے ایک ارب بیس کروڑ روپے وزیراعظم کے فنڈ میں دینے کا اعلان ضرور کیا ہے لیکن یہ رقم نقد نہیں دی جائے گی ۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اعلان کردہ رقم کا 70 فیصد کمپنیاں اپنی پروڈکٹس کی سروس کے ذریعے دینا چاہتی ہے جبکہ باقی 30فیصد حصے میں کچھ کیش اور باقی طبی آلات اور راشن کے ذریعے فراہم کیا جائے گا ۔
جاز پاکستان کمپنی کے اعلیٰ حکام حکومت پاکستان سے چاہتے ہیں کہ حکومت ٹیلی کام سیکٹر پر ٹیکسوں میں چھوٹ دے اور باہر سے چیزیں منگوانے کے عمل کو آسان بنائے کس حوالے سے جاز پاکستان کمپنی کے اعلیٰ حکام کافی عرصے سے حکومتی شخصیات سے مل رہے تھے اور ان کی کوشش تھی کہ کسی طرح ٹیکسوں میں چھوٹ ملے تاکہ وہ اپنی کمپنی کے نیٹ ورک اور سروسز کو مزید بڑھا سکیں اور اپنا ریونیو مزید بڑھائیں ۔
پاکستان کے ٹیکس پالیسی سازوں نے ٹیلی کام سیکٹر کو فوکس کر کے ٹیکس بڑھائے تھے جس پر موبائل فون کمپنیاں شور مچا رہی تھی اب ان کمپنیوں کو وزیراعظم کے فنڈ میں رقم دینے کے عوض اپنی بات منوانے کا ایک نادر موقع ہاتھ لگ گیا ہے اور وزیراعظم کے فنڈ میں بڑی بڑی رقوم دینے کے بدلے حکومت سے تقاضہ کیا جا رہا ہے کہ ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے ۔
حکومت کے سیاسی مخالفین بتاتے ہیں کہ ماضی میں سگریٹ کمپنیوں کی جانب سے بھی حکومتی شخصیات کے ساتھ رابطے اور ملاقاتیں اور فنڈ دینے کی باتیں سامنے آ چکی ہیں اب ایسی ہی کوشش موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے ٹیکسوں میں چھوٹ حاصل کرنے کے لیے کی جا رہی ہے ۔