جہانگیر ترین اور عمران خان پھر ایک ہو جائیں گے، نجم سیٹھی کی چڑیا

25 اپریل کو چینی سکینڈل کے حوالے سے جو رپورٹ آئے گی اس کے ذریعے یہ معاملہ جانگیرترین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا پھیلاؤ بڑھ جائے گا اور وقتی طور پر عمران خان کچھ لوگوں کو فارغ کریں گے یا ان کو خود سے دور کر دیں گے ۔
سینئر صحافی اور مشہور تجزیہ نگار نجم سیٹھی نے اپنی چڑیا کی خبروں کے حوالے سے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سوالات پوچھے جارہے ہیں اور آنے والے دنوں میں بھی پوچھے جائیں گے کہ چینی کی ایکسپورٹ کی اجازت کس نے دی تھی اس پر جواب ملے گا کہ وزیراعظم نے اجازت دی تھی پھر پوچھا جائے گا کہ اس کا جواز کیا تھا ایکسپورٹ کا جواز بھی بتا دیا جائے گا فیصلے میں غلطی ہونے یا وفاقی حکومت کو کچھ اور بہتر لائے ملک تیار کرنے کے حوالے سے بھی بحث ہوگی پھر سوال اٹھے گا کہ سبسڈی کیوں دی گئی اور قیمت کیوں بڑی یہاں پی ٹی آئی کے کچھ لوگ پھنس جائیں گے اور ان کے گرد گھیرا تھا نہ ہوگا جن میں وزیراعلیٰ پنجاب خسروبختیار پر کچھ بیوروکریٹس بھی ملوث پائے جائیں گے اب یہ معاملہ آگے چل کر انٹیلی جنس کے لوگوں کی نظر میں رہے گا ۔اس لئے عمران خان اور ان کی پارٹی کے لیے مشکلات بھی رہیں گی ۔

تھوڑے عرصے کے لیے خسروبختیار بھی فارغ ہو سکتے ہیں اور پھر جس طرح عمران خان کی روایت رہی ہے کہ وہ لوگوں کے خلاف ایکشن لیتے ہیں اور پھر کچھ میں نے انہیں خود سے دور رکھتے ہیں پھر پہلے افوائیں عورتیں ہیں کہ اللہ ہو رہی ہے پھر کچھ ملاقات ہوتی ہیں اور پھر وہ لوگ واپس آنا شروع ہو جاتے ہیں اگر آپ ماضی پر نظر دوڑائیں تو آپ کو اسد عمر کا نام بھی نظر آئے گا تین ایم پی اے بھی ناراض نظر آئیں گے پھر اعظم سواتی بھی آتے جاتے نظر آئیں گے اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ خان صاحب اپنے لوگوں کے خلاف بہت بڑا ایکشن نہیں لیں گے آگے چل کر جہانگیرترین کا راستہ بھی کھل جائے گا ۔
اگر حالات بگڑے تو پھر فارم بلاک بننے کی بات ہوگی جہانگیر ترین کچھ عرصے کیلئے عمران خان سے دور نظر آئیں گے ملاقاتیں کریں گے سرگرم ہوں گے لیکن چند مہینے بعد جب معاملہ ٹھنڈا ہوجائے گا تو وہ پی ٹی آئی کی اہم ذمہ داریاں بھی سنبھال لیں گے فی الوقت وہ نا تو ایم این اے ہیں نہ کوئی حکومتی عہدہ رکھتے ہیں ۔انہیں اور پی ٹی آئی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا جہانگیرترین کل بھی کلیئر تھے آج بھی ہیں اور کل بھی رہیں گے ۔