سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن مزید 2 ہفتے بڑھانے کا فیصلہ کرلیا

کراچی :  وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے میری ٹیم نے 2 ہفتے لاک ڈاؤن بڑھانے کا مشورہ دیا ہے، لیکن حتمی فیصلا وفاق کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد کیا جائے گا، یہ کوئی میرا مسئلہ نہیں یہ عالمی مسئلہ ہے، دنیا جڑی ہوئی ہے اور یہ ہر جگہ پھیلا جا رہا ہے، 26 فروری کو پہلا کورونا کیس آیا۔ نا تو مجھےکورونا وائرس کا پتا تھا نہ ہی کسی اور کو، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ دنیا کی غلطیاں اور تجربوں سے ہم نے سیکھا، 13 مارچ کو اسلام آباد میں ایک میٹنگ ہوئی، میں نے تجویز دی کہ وڈیو کانفرنس کے ذریعہ میٹنگ کریں، اس وقت 28 مریض تھے اور ایک جاں بحق ہو چکا تھا، وہاں اجلاس میں بتایا گیا کہ 128000 لوگ انفیکٹیڈ ہیں اور اب 18 لاکھ سے زیادہ انفیکٹیڈ ہیں، میں نے لاک ڈائوں کی تجویز دی تھی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ اگر اس دن ہم لاک ڈائوں لگاتے تو آج یہ صورتحال نہیں ہوتی، اگر لاک ڈائوں ختم نہیں کرتے ہیں تو کیا ہوتا ہے، اگر ختم کرتے ہیں تو کیا ہوگا، ہر صوبے کی کیا سوچ ہے وہ کرے یہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا، 21 مارچ کو ہم سب سیاسی میٹنگ سے ملے، ہم نے لاک ڈائوں کرنے کا فیصلہ کیا، اس وائرس سے لڑنے کا ایک حل ہے، سماجی دوری کریں، بغیر مقصد سے نہ ملیں، ہم نے 22 مارچ سے لاک ڈائون کیا، یہ کام اکیلے نہیں ہوسکتا، میں وفاقی حکومت کا شکرگزار ہوں کہ اس کے بعد وزیراعظم وڈیو کانفرنس کرتے ہیں، یکم اپریل کو وفاقی حکومت نے تجویز دی کہ لاک ڈائون کو مزید بڑھایا جائے اور سخت کیا جائے، جب میری باری آئی میں نے وزیراعظم کی تجویز کی حمایت کی، اجلاس کے بعد ایک وفاقی وزیر نے پریس کانفرنس کے ذریعے 14 اپریل تک لاک ڈائون کا اعلان کیا، افسوس تب ہوا جب یکم اپریل کو لاک ڈائون ہوا اور کسی اور صوبے نے صنعتیں کھولنے کا فیصلہ کیا، جب میں نے پوچھا تو یہ بات آئی کہ ہر صوبے کی اپنی مرضی ہے۔


وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے صوبے میںجاری اسپرے مہم کو مزید تیز اور موثر بنانے کی ہدایت دی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ میں کرونا کی وباءسے بچاﺅ کے لئے کی جانے والی جراثیم کش ادویات کے چھڑکاو مہم پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری بلدیات نے وزیر بلدیات سندھ کو بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر صوبے کے تمام اضلاع کی تمام یونین کونسلوں میں جراثیم کش ادویات کا باقاعدگی کے ساتھ اسپرے کیا جارہا ہے جس سے مہلک وبا ءکے خاتمے اور پھیلاﺅ کو روکنے میں خاطر خواہ مدد مل رہی ہے۔ اس موقع پر ناصر حسین شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ اپنے لوگوں کی جانوں کے تحفظ کے حوالے سے نہایت ہی سنجیدہ اقدامات کے انعقاد اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دے رہی ہے، مگر عوام کو بھی اس معاملے کی سنجیدگی کے پیش نظر احتیاطی تدابیر پر صدق دل سے عمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ صوبہ سندھ کو صحتمندانہ ماحول فراہم کیا جاسکے۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ملک میں کرونا کی وبا سے نپٹنے کیلئے وفاقی سطح سے کئے جانے والے اقدامات پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں، مگر اس کے باوجود حکومت سندھ کسی بھی تنازع کا شکار ہوئے بغیر انسانی جانوں کو بچانے کے لئے وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کررہی ہے۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کرونا کے خلاف جس سرعت اور عمدگی سے جامع اور مربوط پالیسی مرتب کی، اس نے سندھ کی عوام کو بڑے نقصان سے بچالیا۔

صوبائی وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ عالمی اداروں اور بیرونی دنیا میں میں حکومت سندھ کی جانب سے کرونا کے خلاف کی جانے والے اقدامات کی ستائش ہورہی ہے، اور عوام کے تعاون کی بدولت جلد ہی کرونا کی وباءسے چھٹکارا ممکن ہوجائے گا۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ کورونا وائرس کا علاج حکومتیں نہیں کرسکتیں اس وائرس کا علاج صرف ایک ہے کہ پورا ملک ایک ہو ہم تنہا فیصلے نہیں کر سکتے میں علما کرام کا بےحد شکرگزار ہوں کہ جنہوں نے نے ناقابل یقین حد تک ہمارا ساتھ دیاہے انہوں نے کہا کہ جو کل ہم پر تنقید کے لئے نمودار ہوئے وہ تین تیرہ میں بھی نہیںان سب کو میں اچھی طرح جانتاہوںیہ سب وزیراعظم کے ایک اجلاس میں بھی نہیں آئے ہیں، لاک ڈاون کی طوالت اور سختی پر اظہار خیال کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سماجی فاصلوں اور رابطوں میں احتیاط ہی کرونا کے خلاف سب سے موثر ہتھیار ہے مگر بعض لوگ حکومتی احکامات کے برعکس معمول کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں جو کہ خطرے سے خالی نہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ تمام علما کرام، ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف، سیکورٹی ادارے اور سماجی تنظیمیں اپنے اپنے دائرہ کار میں بہترین انداز سے قومی فریضہ سرانجام دے رہے ہیں، اور حکومت سندھ اس تعاون پر ان سب کی شکر گزار اور ممنون ہے۔