کیا سندھ کے گورنر عمران اسماعیل اور آئی جی مشتاق مہر اصل امتحان میں سرخرو ہوسکیں گے ؟

نئے پاکستان میں سندھ کے گورنر عمران اسماعیل اور زبردست کشمکش کے بعد آئی جی سندھ کا عہدہ سنبھالنے میں کامیاب ہونے والے مشتاق مہر کہ دیگر فرائض اپنی جگہ اہم ہیں لیکن ایک بڑا اور اصل امتحان محراب پور میں بیمانہ انداز سے قتل کیے گئے صحافی عزیز میمن کے قاتلوں کی گرفتاری کا ہے ۔
کے ٹی این اور کاوش کا رپورٹر عزیزم ہم نے قتل سے پہلے دھمکیاں ملنے کی ویڈیو جاری کردی تھی اور جن سے دھمکیاں مل رہی تھیں ان کے بارے میں نشاندہی بھی کردی تھی ۔
وفاقی وزیر فواد چوہدری سمیت بڑے بڑے صحافیوں نے عزیز میمن کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے یاد کیا تھا کہا اس نے خود کہہ دیا تھا کہ
بلاول کے دن مارچ کے دوران محراب پور میں کرائے کے لوگ لانے کی رپورٹ دینے پر اس کو دھمکیاں ملی تھیں ۔مقامی سیاسی لوگ اور پولیس اس کے خلاف ہو چکی تھی ۔عزیزم من تحفظ مانگنے کے لیے ان سب جگہوں پر گیا جہاں سے اسے تحفظ ملنے کی امید تھی پھر اس نے اسلام آباد کروں کیا وفاقی حکومت کی اہم شخصیات اور وزیروں سے ملا صحافی تنظیموں کے رہنماؤں اور عہدیداروں سے بھی ملا وفاقی وزیر فواد چوہدری اور سینیئر صحافی مظہر عباس نے اس کے قتل کے بعد سخت دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ یہ قتل بغیر نوٹس کے نہیں جائے گا فواد چوہدری نے تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے نوٹس لینے کی اپیل بھی کی تھی عالمی تنظیموں نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا تھا اس وقت یونیسکو کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2019 میں پاکستان میں پانچ صحافی مارے گئے تھے جبکہ دی نیشن اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2014 سے لے کر 2018 کے دوران 26 صحافی پاکستان میں مارے گئے ۔
وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے رپورٹ مانگی تھی اور پھر تحقیقات کرنے کے لیے جے آئی ٹی بنائی گئی ۔

جے آئی ٹی ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے گزشتہ دنوں سابق صدر آصف علی زرداری کے آبائی علاقے نوابشاہ جواب شہید بے نظیر آباد بن چکا ہے وہاں جی آئی ٹی کے اہم اجلاس کی صدارت کی اور پھر صحافیوں کو بتایا کہ صحافی عزیز میں امن کا قتل ایک بلائنڈ کیس ہے ۔ڈی این اے رپورٹ کے مطابق صحافی کے ناخن میں کسی دوسرے آدمی کے جز ملے ہیں ۔ڈی این اے رپورٹ کے مطابق عزیز میمن کو قتل کیا گیا اب مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں ورثا اور صحافی برادری پولیس پر اعتماد کرے ۔عزیز میمن نے اپنی ویڈیو میں جن فراد پر شک کا اظہار کیا تھا ان کو شامل تفتیش کرلیا گیا ہے ہم چاہتے ہیں شہید صحافی کے ساتھ انصاف ہو ۔جے آئی ٹی رپورٹ جلد مکمل کر کے حکومت سندھ کو ارسال کریں گے ۔یاد رہے کہ قتل کے 56 روز بات جے آئی ٹی کا یہ اہم اجلاس نوابشاہ میں منعقد ہوا جس کی صدارت کرنے کے بعد جے آئی ٹی ٹیم کے سربراہ میڈیا سے بات کر رہے تھے ۔
صحافی عزیز میمن کے قاتلوں تک پہنچنا اور اس کیس میں انصاف فراہم کرنا حکومت وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتوں کا کام ہے ۔
سندھ کے گورنر عمران اسماعیل اور آئی جی سندھ پولیس مشتاق مہر کے لیے یہ کیسے چیلنج ہے ۔
خود پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کے لیے بھی اس کے اس کا حل ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ اس کے اس کا حل نہ ہونا ان کے لیے بھی سیاسی نقصان کا باعث بن سکتا ہے آنے والے دنوں کی سیاست میں یہ کیس پاکستان پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی دونوں کی حکومتوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے ۔صحافی تنظیموں کی سنجیدگی اور طاقت کا اندازہ بھی اس کیس کے انجام سے لگایا جائے گا ۔