بھارت میں ڈاکٹر نے آئسو لیشن وارڈ میں موجود لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا

بھارت میں ڈاکٹر نے آئسو لیشن وارڈ میں موجود لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا۔تفصیلات کے مطابق یوں تو بھارت میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات پیش آنا عام بات سمجھی جاتی ہے،لیکن ایسے وقت میں جب پوری دنیا کورونا وائرس کی وبا کی لپیٹ میں ہے،ایسے میں بھارت میں درندہ صفت لوگ خواتین پر یہ ظلم کرنے سے باز نہیں آئے،بھارت کے ضلع گایا میں آئسو لیشن وارڈ میں 25 سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔
متاثرہ لڑکی کو کورونا وائرس کے شبے میں آئسو لیشن وارڈ میں رکھا گیا تھا،کچھ دن قیام اور مزید ٹیسٹوں کے بعد اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ لڑکی کورونا وائرس سے متاثرہ نہیں ہے۔تاہم افسوسناک طور پر لڑکی کا انتقال ہو گیا کیونکہ اسے اسقاط حمل کے عمل سے گزرنے کے بعد اسپتال لایا گیا تھا اور وہ مزید تکلیف نہیں سہہ پائی تھی۔

لڑکی کی ساس نے یہ شبہ ظاہر کیا تھا کہ اس کے ساتھ آئسو وارڈ میں زیادتی کی گئی کیونکہ وہ اسپتال سے باہر آنے کے بعد صدمے کی حالت میں تھی اور اپنی آخری سانسوں میں اس نے بتایا کہ مجھے ایک ڈاکٹر نے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔

پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج قبضہ میں لے لی ہے جس کی مدد سے دو ڈاکٹرز کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔خیال رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے باعث اب تک 239 ہلاکتیں اور 7 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارت وزارت صحت حکام نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مہلک وباء کا شکار مزید 33 افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد ملک میں مجموعی اموات کی تعداد 239 ہو گئی ہے جبکہ 686 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 7447 ہو گئی ہے، 643 افراد ڈسچارج ہو کر گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ بھارت میں مسلسل 18 روز سے لاک ڈائون نافذ ہے