کیا کپتان کی چھٹی ہونے والی ہے؟ اگر خان صاحب نہیں تو پھر کون؟

جہانگیر ترین کے حوالے سے حتمی رپورٹ تو 25 اپریل کو آنی ہے لیکن اس سے پہلے ہی سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آچکی ہے اہم جماعتوں کے رہنماؤں کے رابطے ہو رہے ہیں جہانگیر ترین ان تمام لوگوں سے رابطہ کر رہے ہیں جنہیں وہ پی ٹی آئی میں لائے یا پی ٹی آئی قیمت پر راضی کیا ۔
سیاسی حلقوں میں یہ بحث ہورہی ہے کہ کیا کپتان کی چھٹی ہونے والی ہے کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ایک مہینہ باقی رہ گیا ہے لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ اگر خان صاحب نہیں تو پھر کون ؟
نجم سیٹھی سے بھی دنیا بھر سے لوگوں نے یہ سوال پوچھا تو انہوں نے اپنے پروگرام میں ان سوالوں کے جواب کچھ اس طرح دیے ۔
یہ باتیں تین چار مہینے سے چل رہی ہیں جب مولانا فضل الرحمان لانگ مارچ اور دھرنے کے لیے نکلے تب بھی لوگ یہ سوچ رہے تھے کہ مولانا کو کسی نے تو اشارہ دیا ہوگا لیکن لوگ یہ سوال بھی پوچھتے تھے کہ اشارہ دینے والوں نے صرف مولانا کو اشارہ کیوں دیا باقی اپوزیشن جماعتوں کو اشارہ کیوں نہیں ملا ؟
بعد میں اندازہ ہوا کہ عمران خان پر اسٹیبلشمنٹ دباؤ ڈالنا چاہتی تھی کچھ کام نکالنے ضروری تھے اور اس لیے مولانا گھر سے چل پڑے پھر مولانا واپس بھی چلے گئے ۔


اب پھر گھڑیوں کی ٹکٹ کی آوازیں اونچی ہوگی ہیں سوشل میڈیا پر شور زیادہ ہے لیکن اسٹیبلشمنٹ خاموش ہے لوگ بادشاہ خصیات کی ہونے والی ملاقاتوں سے اندازہ لگا رہے ہیں اور جو تصویریں آرہی ہیں ان پر چہروں کے نقوش پڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں اندازہ ہے کہ سیم پیج والی صورتحال نہیں ہے یا مسکراتے ختم ہوگئی ہیں ۔
باتیں ہو رہی ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ خوش نہیں ہے کیونکہ حکومت کی پرفارمنس نظر نہیں آرہی لوگ تو جانتے ہیں کہ اس حکومت کو لانے والا کون ہے اصل چیف سلیکٹر ز کون ہے ؟
دوسری طرف حقیقی پریشانی ہے کہ آپ کو لائے تھے حالات بہتر بنانے کے لئے لیکن آپ سے کام چل نہیں رہا ۔پنجاب میں بھی بہتر کام کرنے والا وزیراعلی لانا چاہئے تھا تاکہ کہہ سکتے کہ شہباز شریف کے علاوہ بھی کوئی ہے جو کام کر کے دکھا سکتا ہے لیکن ایسا بھی نہیں ہوا ۔
مرکز میں بھی وزیر خزانہ بدلہ چیئرمین ایف بی آر بدلہ گورنر اسٹیٹ بینک بدلہ لیکن نتیجہ نہیں نکلا آج بھی اس رزلٹ کا انتظار ہے جس کی توقع لگائی گئی تھی ۔
اگر پرانی باتیں یاد کریں تو یہی اسٹیبلشمنٹ جونیجوکو لائیں اور پھر جونیجو کو گھر بھی بھیجا تھا ۔
اسی ملک میں چھانگامانگا بھی لگایا گیا ۔پھر صدر اسحاق خان کے ذریعے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی چھٹی کرائی گئی ۔

اب جو حالات ہیں اگر چھٹی ہوتی ہے تو کیا نیشنل گورنمنٹ بنے گی یا بن سکتی ہے ۔
ان حالات میں جبکہ صورتحال معاشی طور پر سخت خراب ہے کوئی بھی حکومت آئے گی تو سے انتہائی سخت اور مشکل فیصلے کرنے پڑیں گے کرونا وائرس سردرد بن گیا ہے معیشت کے برے حالات ہیں کون تیار ہو گا ان حالات میں حکومت لینے کے لیے ۔
کون الیکشن کرائے گا اور کیا الیکشن ہو سکتے ہیں ۔یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب مشکل نظر آتا ہے اسٹیبلشمنٹ اپنی کشتیاں جلا چکی ہے مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی سے فاصلہ بڑھا چکی ہے اپوزیشن کے پاس امیدوار ہے کوئی نہیں ۔
شہباز شریف ضرور لندن سے واپس آ چکے ہیں لیکن ان پر نوازشریف راضی نہیں ہوتے ۔
میدان میں شاہ محمود قریشی اور دیگر لوگ تیار بیٹھے ہیں لیکن اگر خان صاحب جائیں گے تو پھر پنجاب میں تو پڑھا نون لیگ کا بھاری ہے اسٹیبلشمنٹ ابھی مریم سے الرجی کہے شہباز شریف سے نبھا کر سکتی ہے لیکن سچی بات ہے ابھی حالات ایسے نہیں ہیں کہ بڑی تبدیلی نظر آئے ایک تو معیشت اور دوسرا کرونا وائرس ۔
ویسے آپس کی بات ہے اسٹیبلشمنٹ جب چاہے گی تبدیلی لانا ۔۔۔۔تو عمران خان کی حکومت پندرہ دن فارغ ہو جائے گی سب سے پہلے فارورڈبلاک بنے گے اور جنوبی پنجاب سے بہت سے لوگ اس کام کے لیے مل جائیں گے اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے اپنی مجبوریاں ہیں اس لئے وہ چپ ہے انتظار کر رہی ہے کہ عمران خان اپنی ٹیم بدل کر کارکردگی بہتر بنائیں۔