کراچی فش ہاربر پر لاک ڈاوَن کی مسلسل خلاف ورزی پر حکومت سندھ حرکت میں آگئی۔ فوری طور پر ہر طرح کی سی فوڈ کی نیلامی پر پابندی لگا دی

کراچی فش ہاربر پر لاک ڈاوَن کی مسلسل خلاف ورزی پر حکومت سندھ حرکت میں آگئی۔  فوری طور پر ہر طرح کی سی فوڈ کی نیلامی پر پابندی لگا دی۔                            عبدالبر اور ان کے حواری اپنی نگرانی میں رات کے اندھیرے میں سی فوڈ کی غیر قانونی نیلامی کروا رہے تھے جس سے کرونا پھیلنے کا خدشہ تھا۔مسلسل شکایات پر حکومت سندھ حرکت میں آگئی۔ کراچی(نیوز ڈسک)کراچی فش ہاربر پر لاک ڈاون کے باوجود روزآنہ سی فوڈ کی نیلامی جاری تھی جس کی مسلسل شکایت پر حکومت سندھ حرکت میں آگئی اور فوری طور پر ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی۔تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ نے کرونا کے پیش نظر لاک ڈاون کا اعلان کیا ہے اور ہر قسم کے اجتماع پر پابندی لگائی ہے کیونکہ اس بیماری سے بچاؤ کا صرف یہی ایک طریقہ ہے جو چین نے بڑی کامیابی سے استعمال کر کے اپنے یہاں اس بیماری پر قابو پایا۔اس وائرس پر قابو پانے کے لیئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے سے فاصلہ رکھیں۔اسی لیئے مسجدوں میں جمعہ کی نماز پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے،لیکن کراچی فش ہاربر پر کمیشن کے لالچ میں دن کے بجائے رات کو سی فوڈ نیلام کیا جا رہا تھا تاکہ قانون نافذ کرنے والوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کمیشن کا سارا پیسہ ہڑپ کر لیا جائے۔ پیسہ کمانے کے چکر میں فشر مینز کوآپریٹیو سوسائٹی کے غیر قانونی چیئرمین عبدالبر اور ان کے حواریوں نے نہ صرف ماہی گیروں کی بلکہ اپنے ملازمین کی زندگیوں کو بھی دائوں پر لگا دیا تھا کیونکہ نیلامی میں کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔وہاں پیدا ہونے والی خطرناک صورتحال کے پیش نظر ایم ڈی فش ہاربر اور حکومت سندھ کو مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں جس پر عبدالبر اور ان کے حواریوں کو کروناوائرس کے پھیلنے کے شدید خطرات سے آگاہ بھی کیا گیا تھا لیکن کمیشن کے لالچ میں ان کی آنکھوں پر پٹی پڑ گئی تھی اور انہوں نے رات کے اندھیرے میں قانون نافذ کرنے والوں کی نظروں سے اوجھل ہو کر اپنے غیر قانونی دھندوں کو جاری رکھا ہوا تھا۔   مسلسل شکایت پر کل ایم ڈی فش ہاربر اتھارٹی حاجی احمد نے حکومت سندھ کو تحریری طور پر آگاہ کیا،جس پر سیکریٹری فشریز نے آج کراچی فش ہاربر پر ہر قسم کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی ہے،ساتھ میں ایم ڈی فش ہاربر اتھارٹی حاجی احمد نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے دفعہ 144 لگا دی ہے۔اس سلسلے میں فشر مینز کوآپریٹیو سوسائٹی کے چیئرمین عبدالبر جن کی عہدے کی معیاد پوری ہو چکی ہے اور اب وہ غیر قانونی طور پر عہدے پر براجمان ہیں انہوں نے سوسائٹی کو بند کرنے کے تحریری احکامات دیئے ہیں لیکن سوسائٹی کے مارکیٹ کے ملازمین کو کام جاری رکھنے کے زبانی احکامات جاری کیئے ہیں۔جس کی وجہ سے سرکاری طور پر آنے والا کمیشن چیئرمین اور ان کے حواریوں کی جیبوں میں جا رہا تھااور سرکاری طور پر ایک پیسہ بھی جمع نہیں ہو رہا تھا۔آخر میں تو یہ صورتحال پیدا ہو گئی تھی کہ سوسائٹی کے غیر قانونی چیئرمین عبدالبر اکثر خود رات کی مارکیٹ میں آ جاتے ہیں اور اپنی نگرانی میں نیلام ہونے والے مال کا سرکاری کمیشن کاٹنے کے بجائے پورا کمیشن وہ اور ان کےحواری اپنی جیبوں میں ڈال کر چلے جاتے ہیں اور یوں کرونا کی آڑ میں فش ہاربر میں کرپشن اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا۔ایک طرف جب مسجدوں کو کرونا کے خوف سے بند کر دیا گیا ہے وہاں فش ہاربر غیر قانونی دھندے جاری تھے۔جس سے کسی بھی وقت فش ہاربر پر کرونا پھیلنے کے شدید خطرات پیدا ہو گئے تھے جس کی وجہ سے حکومت سندھ کو سخت ایکشن لینا پڑا اور فنشنگ پر پابندی کا ہنگامی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔