مافیا خود ایک ’’سیاسی جماعت ‘‘ ہوتی ہے جس کے پیش نظر اپنے مفادات ہوتے ہیں

وزیر اعظم عمران خان نے آٹا اور چینی بحران کے حوالے سے ایف آئی اے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی ہے تاہم اس بارے میں 25اپریل 2020 ء تک آنے والی انکوائری کمیشن کا انتظا ر ہے جس کے بعد ملکی سیاست کے ’’تانے بانے ‘‘ بنیں جائیں گے وزیر اعظم نے آٹا اور چینی بحران کے اصل حقائق جاننے کے لئے تحقیقات کو پبلک کر کے ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے ایک طرف وزیر اعظم نے ’’شوگر مافیا‘‘ سے ٹکر لے لی ہے دوسری طرف اپوزیشن میدان میں اتر آئی ہے ’’ شوگر مافیا‘‘ کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہوتا ہے لیکن یہ مافیا خود ایک ’’سیاسی جماعت ‘‘ ہوتی ہے جس کے پیش نظر اپنے مفادات ہوتے ہیں جو چینی کی پیدوار پر مراعات حاصل کرنے کے لئے حکومت سے سودے بازی کرتا ہے یہی مافیا مختلف سیاسی جماعتوں میں ’’سرمایہ کاری‘‘ اس کے بعد حکومتوں سے اپنی مرضی کے فیصلے کراتا ہے اس مافیا کے سامنے اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی کیا پبلک کر دی کچھ عرصہ قبل وفاقی وزیر ریلویز شیخ رشید احمد نے چینی مافیا کے خلاف ’’زبان درازی‘‘ کی تو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی موصول ہونے پر ’’خاموشی ‘‘ اختیار کر لی تھی شنید ہے اب تو انکوائری کمشن کو بھی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں جس کی بازگشت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں میں بھی سنی گئی ۔ وزیر اعظم نے ان دھمکیوں پر ’’برہمی ‘‘ کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر دھمکیوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو سخت کارروائی کی جائے گی بہر حال وزیر اعظم کے خصوصی معاون شہزاد اکبر نے دعوی کیا ہے کہ ’’شوگر مافیا‘‘ کے خلاف کارروائی نہ روکنے پر وزیر اعظم کو چینی مہنگی کئے جانے کی دھمکی ضرور دی گئی ہے اگلے روز ہی جہانگیر ترین نے شہزاد اکبر کی جانب کئے گئے دعویٰ کی تردید کر دی بہرحال ایف آئی اے کی آٹا اور چینی پر جاری کردہ رپورٹ سیاسی حلقوں میں آگ لگا دی ہے معلوم نہیں اس آگ میں کون جھلس کر نشان عبرت بنتا ہے فی الحال کچھ کہنا قبل ازوقت ہے بظاہر وفاقی حکومت ایف آئی اے کی تحقیقاتی رپورٹ کو پبلک کرنے کا کریڈٹ حاصل کرنے کی کوشش کر ہی ہے اس پرطرفہ تماشا یہ کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے بھی لاہور میں ’’ڈیرے ‘‘ ڈال کر رکھے ہیں اوروہ غیر محسوس انداز میں جہاں اپوزیشن جماعتوں سے رابطے میں ہیں وہاں وہ ’’کپتان‘‘ کے ’’ناراض ‘‘ ساتھیوں کو قریب تر کر نے کے لئے کوشاں ہیں ۔تحریک انصاف کی کامیابی کے لئے وسائل بروئے کار لانے والوں کو ’’اے ٹی ایم ‘‘ کا طعنہ سننا پڑا تھا۔ انکوائری کمشن کی حتمی رپورٹ آنے سے قبل حکومت اور اپوزیشن ایف آئی اے کی ابتدائی رپورٹ سے اپنے اپنے مطالب نکال رہی ہیں بہر حال دونوںطرف سے ایک دوسرے کے خلاف سیاسی کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
معلوم نہیں وزیر اعظم کو تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے کتنے آگ کے دریا عبور کرنا پڑیں گے نامور خطیب ،صحافی و ادیب کہا کرتے تھے کہ سیاست دان کے ہاتھ میں رحم کی لکیر نہیں ہوا کرتی وہ اپنے ذاتی دشمن کو تو معاف کر دیتا ہے لیکن اپنے سیاسی دشمن کو کبھی معاف نہیں کرتے ماضی میں ایسے کئی واقعات دیکھنے میں آئے جب کسی حکمران کو اقتدار میں لانے والے عناصر سے اس کے اقتدار کو کوئی خطرہ لاحق ہو گیا تو انہوں نے نہ صرف ان عناصر کا بوجھ ہی اتار دیا بلکہ ان کو نشان عبرت بنا دیا ہمارے سامنے کل کی بات ہے میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان ایک دوسرے کے لئے کس قدر لازم ملزوم تھے کسی کو اندازہ نہیں میاں نواز شریف کا اقتدار ختم ہونے کی کیا وجوہات تھیں ان پر کوئی بحث نہیں کرنا چاہتا لیکن آج تک دونوں کے درمیان دوستی ختم ہونے کی وجہ نہ جان سکا لیکن اندازہ ہے اس کے پیچھے بھی ساری کارستانی سیاست کی ہے جس نے دودوستوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ جہانگیر ترین ’’ نا اہلی‘‘ کی سزا پانے کے باوجود تحریک انصاف کی حکومت میں اثر رسوخ رکھتے تھے ۔ بیورو کریسی کو نکیل ڈالتے ڈالتے اس کے ’’غیض و غضب ‘‘ کا شکار ہو گئے انہوں نے اپنے دل کی کھل بات بھی کہہ دی کہ ان کے خلاف جو سکینڈل بنایا گیا ہے اس کے پیچھے ایک طاقت ور بیوروکریٹ کا ہاتھ ہے۔ جہانگیر ترین نے اپنا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے عمران خان کے ساتھ پہلے جیسے تعلقات نہیں رہے تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ اب بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ کوئی سیاسی نجومی کسی سیاست دان کے بارے میں پیش گوئی نہیں کر سکتا لیکن قرائن بتاتے ہیں سیاست دان کے دل میں ایک بار بال آجائے تو پھر اسے نکالا نہیں جا سکتا لہذا اس کا منطقی نتیجہ کسی ایک کے سیاسی زوال کی صورت میں نکلتا ہے بظاہر جہانگیر ترین دھیمے مزاج کے سیاست دان ہیں لیکن سیاسی قبیلہ میں غیر معمولی اہمیت رکھنے والے لوگوں سے ان کا گہرا تعلق ہے وفاق اور پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت سازی میں ان کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں وہ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی سے اپنا جہاز بھر لاتے اور انکے گلے میں ’’کپتان ‘‘ کے ہاتھوں تحریک ا انصاف کے پرچم میں مشتمل رومال ڈال اپنی تعداد بڑھاتے رہے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی اکثریت تھی لیکن جہانگیر ترین کے جہاز کے سامنے مسلم لیگ (ن) کی قیادت ہتھیا ڈال دئیے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں 70، 80شوگر ملیں سیاسی خانوادوںکی ملکیت ہیں۔ اس لئے جب وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں چینی کے بحران کی تہہ تک پہنچنے کے لئے تحقیقات کرانے کا فیصلہ کیا تو بڑے بڑے ’’پردہ نشینوں ‘‘ کے نام سامنے آئے جنہوں نے اپنے اثرو رسوخ سے جہاں اقتصادی رابطہ کمیٹی سے چینی کی برآمد کی اجازت حاصل کی وہاں پنجاب حکومت سے تین ارب روپے کی سبسڈی حاصل کر لی جس کی باز گشت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بھی سنی گئی وفاقی وزیر مراد سعید نے کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ چینی کی برآمد کی اجازت اس وقت اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دی جب اسد عمر وزیر خزانہ کے منصب پر فائز تھے اب اپوزیشن وزیر اعظم کی طرف انگلیاں اٹھا رہی ہے جب کہ ان کا کوئی قصور نہیں یہ فیصلہ جس فورم پر ہوا اس کے سربراہ کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے جس پراسد عمر بول پڑے یہ میرا ذاتی فیصلہ نہیں تھا اقتصادی رابطہ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے یہ اجتماعی ذمہ داری کے زمرے میں آتا ہے ممکن ہے دونوں کے درمیان ہونے والی نوک جھونک گرما گرمی کی شکل اختیار کر لیتی وزیر اعظم نے دونوں کو اس موضوع پر مزید بات کرنے سے روک دیا ایسا دکھائی دیتا ہے چینی کی برآمد کی اجازت دینے کی دھول سے اسد عمر بھی بچ نہیں پائیں گے سر دست وفاقی وزراء شیخ ر شید احمد ، غلام سرور خان کہہ رہے ہیں عمران خان اور جہانگیر ترین کے درمیان فاصلے نہیںبڑھیں گے لیکن قرائن یہ بتاتے ہیں کہ ان کے بیانات محض ’’کپتان‘‘ کو خوش کرنے کے لئے ہیں جہانگیر ترین ان کے مشوروں کو کوئی اہمیت نہیں دیں گے بات بہت آگے تک جا پہنچی ہے فی الحال پی ٹی آئی میں راجہ ریاض واحد رکن قومی اسمبلی ہیں جنہوں نے کھل کر جہانگیر ترین کے حق میں آواز بلند کی ہے اور ان کا دفاع کیا ہے وزیر اعظم عمران خان کی شخصیت کے بارے میں کوئی شخص پریڈکٹ (pridict) نہیں کر سکتا اس لئے کوئی شخص حتمی طور نہیں کہہ سکتا کہ موجودہ سیاسی صورت حال میں وہ کس طرح کے رد عمل کا اظہار کریں گے وہ’’ پرایوں ‘‘سے نمٹنے کا طریقہ تو جانتے ہیں لیکن ان کے لئے ’’ اپنوں ‘‘سے نمٹنا قدرے مشکل کا م ہو گا ۔ بہر حال آنے والے دنوں میں سیاسی محاذ پر نئی صف بندی ہونے کا امکان ہے پارلیمانی نظام میں اتحادی جماعتوں کی بیساکھیوں پر قائم حکومتیں خاصی کمزور ہوا کرتی ہیں وہ ہوا کے ایک تھپیڑے سے ہی زمین بوس ہو جایا کرتی ہیں اصل سوال یہ کہ کپتان ’’سبسڈی ‘‘کے نام بہتی گنگا میں اشنان کرنے والے ’’شوگر فافیا ‘‘ پر ہاتھ ڈال سکیں گے ؟M-Nawaz-Raza-Nawaiwaqt