نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہوتا ہے

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ سنکھ سیکٹر میں بھارتی کواڈ کاپٹر نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستانی فوج نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی کواڈ کاپٹر کو مار گرایا ہے۔آئی ایس پی آر نے مزید بتایا ہے کہ بھارتی فوج کی یہ حرکت پاکستان اور بھارت کے درمیان فضائی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارتی فوج کا یہ اقدام سیز فائر سے متعلق 2003ء کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی ڈرون جاسوسی کے لیے پاکستانی حدود میں 600 میٹر تک اندر آیا تھا۔
مشہور ہے کہ نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہوتا ہے ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا پالا نادان دشمن سے پڑا ہوا ہے جو اپنے تئیں شیخ چلی کے خواب دیکھتا ہے اگر بھارت کے سیاسی قائدین میں تھوڑی سی بھی عقل ہوتی تو وہ پاکستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے بجائے با اعتماد دوستانہ مراسم قائم کرتے اور پھر بھارت اور پاکستان دونوں اتنی تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتے کہ دنیا انگشت بدنداں رہ جاتی۔ اگر بھارتی سیاسی قائدین اب بھی عقل سے کام لیں اور موازنہ کریں کہ اگر پاکستان کے ساتھ تنازعات کو ہوا دینی ہے تو خطے کا کیا حال ہوگا اور اگر بھارت اور پاکستان دونوں با اعتماد دوستی کے بندھن میں بندھ جائیں تو خطے کے حالات کیا ہوں گے اصل میں بھارت کی رال مقبوضہ کشمیر پر ٹپک رہی ہے جس پر اس کا پچھتر برس سے ناجائز قبضہ ہے۔
یاد رہے کہ مسئلہ صرف کل کے کواڈ ہیلی کاپٹر کا ہی نہیں بلکہ بھارت افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشت گردی کی نت نئی سازشیں بھی کرتا رہتا ہے، حالانکہ اب پاک فوج ایسے تمام کرائے کے دہشت گردوں کو فنا فی النار کردیتی ہے جیسے چند روز قبل وزیرستان کے علاقے میں پاک فوج نے ٹارکٹڈ آپریشن کرکے بھارت کے سات دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا، صرف یہی نہیں بلکہ سرحدی علاقوں میں خاص طور پرکوئٹہ اور وزیرستان کے علاقوں میں آئے روز ہمارے فوجی جوان دہشت گردوں کو جہنم واصل کرتے رہتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ بھارتی سیاست دانوں کو سیاست کے علاوہ اور تمام چیزوں میں فوقیت حاصل ہے جیسے کمینگی، ذلالت، پیٹھ میں چھرا گھونپنا، انسانیت سوز مظالم، مظلوم کشمیریوں کے گھروں میں جبراً گھس جانا اور تمام اہل خانہ کو اکٹھا کرکے ان کو بدترین اذیت کا نشانہ بنانا، نوجوانوں کو دہشت گرد قرار دے کر گولی ماردینا، بچوں کو اغوا کرکے لے جانا، با الفاظ دیگر بھارت کی سیاسی و عسکری قیادت کو تمام منفی حرکات میں دنیا بھر میں فوقیت حاصل ہے، اور ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہم اتنے گھٹیا پن کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ بھارت کی جانب سے ایسے بدترین سلوک، دہشت گردی کی سازشوں اور سرحدی خلاف ورزیوں کو دیکھ کر بزرگوں کا یہ محاورہ ضرور ذہن میں آتا ہے کہ نادان دوست سے دانا دشمن بہتر ہے۔
زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ آج جب پوری دنیا کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں مصروف ہے اور کرونا وائرس پوری دنیا میں بلا تخصیص نہ صرف مریض بنا رہا ہے بلکہ لاشیں گرانے میں بھی مصروف ہے، اورکرونا وائرس بھارت اور پاکستان میں بھی پنجے گاڑ رہا ہے گو باقی دنیا کے مقابلے میں یہاں اس کا وہ جوبن نہیں جو مغرب میں ہے جہاں ایک دن میں ہزاروں افراد نہ صرف کرونا کا شکار بن رہے ہیں بلکہ اتنی بڑی تعداد میں زندگی کی بازی ہار رہے ہیں کہ پوری دنیا کے قائدین تشویش کا شکار ہیں۔ اصل میں پاکستان کی دشمنی بھارتی عوام سے نہیں عوام تو تمام ملکوں کے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں ہمارا اختلاف بھارت کی ہندوتوا کی حامی اور دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس سے ہے جو بے گناہ انسانوں کو پکڑ کر بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر ان سے جینے کا حق چھین لیتی ہیں۔ اصولی طور پر موجودہ حالات میں جب پوری دنیا کرونا وائرس کے خلاف حالتِ جنگ میں ہے بھارت کو بھی اچھا ہمسایہ بنتے ہوئے ہمارے ساتھ مل کر کرونا کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے تھی، لیکن اب اس کا کیا جائے کہ بھارت کے حکمرانوں کی سوچ دنیا سے نرالی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے کہا ہے کہ یہ وقت کورونا کے خلاف مل کر لڑنے کا ہے، وائرس کے خلاف رد عمل کا جائزہ بعد میں لینا چاہیے۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی امریکا اور چین سے کورونا وائرس کے خلاف مل کر جنگ لڑنے کی اپیل کردی۔ انتونیوگوتریس کے ترجمان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایک بار وبا پر قابو پالیں تو پھر پیچھے مڑ کر بھرپور جائزے کے لیے وقت ضرور ہونا چاہیے، لیکن ابھی وہ وقت نہیں ہے، یہ وقت اتحاد کا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس وائرس اور اس کی وجہ سے ہونے والے نتائج کو روکنے کے لیے یک جہتی کے ساتھ مل کر کام کرے۔ادھر عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے جنیوا میں ویڈیو بریفنگ میں کہا کہ کورونا وائرس کو سیاست زدہ نہ کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ الزام تراشی میں وقت ضائع نہ کیا جائے، یہ آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
دکھ کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس نے کہا ہے کہ یہ وقت کورونا کے خلاف مل کر لڑنے کا ہے جبکہ بھارت کا مرغ کی ایک ٹانگ والا معاملہ ہے۔ ہٹلر ثانی مودی اور نازی بھارتیوں کو انسانوں کی دکھ بھری چیخ سکون دیتی ہے بچوں اور بچیوں کی پُر درد آہیں اور سسکیاں سکون دیتی ہیں حالانکہ اچھے ہمسایوں کا اصول ہوتا ہے کہ خود بھی امن و چین کے ساتھ جیو اور ہمسایوں کو بھی امن و چین کے ساتھ زندگی گزارنے دو، دنیا اس مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہورہی ہے اور بھارتی قیادت کشمیریوں اور پاکستان کے خلاف نت نئی سازشوں میں مصروف ہے، ایسا آخر کب تک چلے گا؟Jamil-Athar-Qazi-Nawaiwaqt