وفاقی حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لئے سندھ حکومت پرتنقید کررہے ہیں

     
       صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات سید ناصرحسین شاہ نے  کہا ہے وفاقی حکومت اپنی نااہلیچھپانے کے لئے سندھ حکومت پرتنقید کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے تیرہ مارچکو پہلا ٹوئیٹ کیا ۔یہ بات انہوں نے آج صوبائی وزیر تعلیم و محنت سعید غنی کےہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ سید  ناصر حسین شاہ نے کہا کہ لاہور کی یوسیز سیل ہوتوتعریفیں ہوتی ہیں اور کراچی کی یوسی سیل ہوں توتنقید ہوتی ہے  صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ڈیفنس میں بیٹھ کرباتیں کرنا آسان ہے جبکہ حلقوں میں کام کرنا مشکل ہوتا ہے  وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ احساس پروگرام۔بے نِظیرپروگرامتھا جسکا نام بدلا گیا انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام میں بھیڑ سے زیادہ کرونا پھیلرہا ہے۔  صوبائی وزیر تعلیم و محنت سعید غنینے کہا کہ ہمیں احساس پروگرام کے طریقہ کار پراعتراض ہے ہونا یہ چاہئے تھا کہ احساسپروگرام میں رش کے بجائے لوگوں کو گھروں تک پیسے پہنچائے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظمنے کچھ لوگوں کو کہا کہ سندھ میں جاکر الزام تراشی کرو انہوں نے کہا کہ اگر صوبے میںکام ہوریا ہےتوکرنے دو۔ سعید غنی نے کہا کہ یہ غائب وزیر حلقوں میں جانے کے بجائے لوگوںکو گھروں سے باہر نکلنے کا کہ رہے ہیں ۔ سعید غنی بتایا کہ فیصل ایدھی سمیت تین سماجیرہنما فنڈ کی نگرانی کررہے ہیں ۔ ہم شوکت خانم کے پیسوں سے دھندے کرنے والے نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ہاتھ بٹانے کے بجائے تنقید اور رکاوٹیں کی جارہی ہیں اور یہسب کچھ وزیراعظم کے اشاروں پر ہو رہا ہےسعید غنی نے کہا کہ گورنرراج والی کہانی ختمہوگئی ہے  اب اسکا تذکرہ کرنا ضروری نہیں  ہے ۔ سندھ حکومت اپنے اقدامات روزمرہ کے اعداد وشمار کی بنیاد پر کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کچھ یوسیز میں بیماری کوروکنے کے لیئےعلاقے سیل کردیئے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہممثبت تنقید کے لئے حاضر ہیں لیکن جو بھی خبر میڈیا پر چلے اس کا تصدیق شدہ ہوناضروری ہے جلدی بریک کرنے کی وجہ سے غیر تصدیق شدہ خبریں چل جاتی ہیں سندھ حکومت  کے متعلق ایکسپائر راشن دینے والی خبر غلط اوربے بنیاد تھی ۔ انہوں نے کہا کہ مثبت تنقید کےلئے حاضر ہیں۔  اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم و محنت سعید غنینے  کہا کہ لاک ڈاؤن کے معاملے پرہرسیاسی جماعتکو ایک پلیٹ فارم پرجمع ہونا ہوگا۔ ہم لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لئے اقدامات کررہے ہیں اگر زندگی ہوگی تو روزگاربھی مل جائے گا۔ سعید غنی نے  کہا کہ راشن کا جو سسٹم ہم نے بنایا ہے وہ ابھیتک کسی صوبے میں نہیں ہے ہم چھ لاکھ سے اوپر خاندانوں تک راشن پہنچا چکے ہیں ۔ ًفلاحیادارے بھی دو سے تین لاکھ خاندان تک پہنچ چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ غلط خبر کو وفاقیوزیر بتائیں گے تو ماتم ہی کر سکتے ہیں۔

ہینڈ آئوٹ نمبر 339