چیئرمین فشرمین کوآپریٹیو سوسائٹی عبدالبر اپنی نااہلی تسلیم کرنے کی بجائے وزیراعلی مراد علی شاہ کی منصوبہ بندی پر اعتراضات اٹھانے لگے ۔ساتھی حیران پارٹی پریشان-چیرمین عبد البر بھی پیپلز پارٹی کے وزیر اعلی کے خلاف پی ٹی آئی کی زبان بولنے لگے

چیرمین عبد البر نے لاک ڈاؤن کے حوالے سے صوبائی حکومت کی پالیسی پر عملدرآمد نہیں کیا بلکہ اس کی دھجیاں بکھیر دیں اور جب ان کی شکایت ہوئی اور یہ معاملہ صوبائی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کلو میں لایا گیا اور چیئرمین عبدالبر کو اپنے خلاف ایکشن ہوتا ہوا نظر آنے لگا تو انہوں نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے صورتحال کی ذمہ داری خود قبول کرنے کی بجائے یے حکومت پر عائد کردی اور موقف اختیار کیا ہے کہ سندھ حکومت نے لاگ ان کا فیصلہ تو سہی وقت پر کیا لیکن یہ فیصلہ اچانک کیا گیا اور لاکھ ڈاؤن منصوبہ بندی کے تحت نہیں کیا گیا اس لیے مسائل پیدا ہوگئے اور اب جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کی وجہ بھی اچانک لاکھ ڈاؤن کا اعلان ہے

چیرمن عبدالبر کے اس اعلان پر ساتھی پریشان ہوگئے اور پارٹی عہدے دار ہکابکا ہیں کہ چیئرمین کو کیا ہوگیا ہے وہ ساری ذمہ داری اپنی ہی پارٹی کی حکومت اور وزیراعلی برائے کر رہے ہیں چیئرمین پرشیا کیا جانے لگا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ وفاداری نبھارہے ہیں یا پی ٹی آئی کے ساتھ چلے گئے ہیں کیونکہ صوبہ سندھ میں اپوزیشن کرنے والی پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کا یہ موقف رہا ہے کہ لاؤنچ انک کیا گیا اور منصوبہ بندی نہیں کی گئی اب چیرمین عبد البر بھی پیپلز پارٹی کے وزیر اعلی کے خلاف پی ٹی آئی کی زبان بولنے لگے ہیں

چیئرمین فشر مین کوآپریٹو سوسائٹی عبدالبر نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ ماہی گیروں کو درپیش مسائل کے حوالے سے اچانک لاک ڈاؤن منصوبہ بندی کے تحت نہیں کیا گیا،سندھ حکومت نے لاک ڈاؤن کا فیصلہ صحیح وقت پر کیابصورت دیگر ہم بھی ان حالات کا سامنا کر رہے ہوتے جس سے دنیا دوبار ہے ابھی مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس لاک ڈاؤن سے کنفیوژن پیدا ہوئی انہوں نے کہاکہ کراچی ہاربر کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ یہ کھلا رہے گاکراچی ہاربر کو چلانے کیلئے محدود وسائل ہیںلوگ نہیں آپاتے لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہم سوشل ڈسٹینس اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل کر رہے ہیںسوشل میڈیا پر چلنے والی وڈیو ابتدائی دنوں کی ہے انہوںنے وفاقی اور سندھ حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ کراچی ہاربر کے علاوہ پوری ساحلی پٹی پر پابندی تھی لیکن وہاں کام چل رہا ہے ماہی گیروں کا مطالبہ ہے کہ راشن نہیں دیا جا رہا تو شکار کی اجازت دی جائے،چینل پر جگہ نہیں ہے کہ شکار کر کے واپس آنے والے اپنا مال اتار سکیںان کا کام بند ہے تو ان کی بستیوں میں رش لگا ہوا نظر آئے گا اوریہ رش بھی خطرناک ہے انہیں پانی میں جانے کی اجازت دی جائے سمندر سے اچھا قرنطینہ ان کے لیے نہیں ہو سکتاانہوںنے کہاکہ دو راستے ہیں یا تو فش ہاربر کو بند کر دیںاتنا عملہ نہیں ہے کہ پانچ سے دس ہزار لوگوں کو ڈیل کر سکیںیا ان کو شکار پر جانے کی اجازت دے دی جائے یہاں ہزاروں لوگ ہیں اگر کوئی ایک بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوا تو اس سے کیا صورتحال پیش آئے گی سب جان سکتے

ہیں؎اگر ہمیں وسائل مل جائیں تو ہم پندرہ روز میں پوری ساحلی پٹی کی اسکریننگ کر سکتے ہیںمیڈیاسے گفتگوکے دوران ان کاکہناتھاکہ اس وقت سندھ میں یومیہ اسکریننگ کی مجموعی استعداد دو ہزار ہے پول ٹیسٹ کے ذریعے یہ استعداد بیس ہزار ہو سکتی ہے ،پولیو ڈراپس کے طریقہ کار پر اسکریننگ کی جائے،سندھ حکومت کے پاس وسائل ہیں لیکن کام کرنے والے اور اچھے مشورے دینے والے نہیں ہیںعبدالبرنے کہاکہ سندھ حکومت نے شکار پر پابندی نہیں لگائی وفاق نے پابندی لگائی وفاق نے نا پابندی لگاتے ہوئے ہم سے مشورہ کیا اور نہ ہی اب پابندی ختم کرنے کا بتایا ہے لاک ڈاؤن میں توسیع اور خاتمے کا اختیار حکومت کے پاس ہے وفاقی یا صوبائی حکومت ہمیں واضح پالیسی دیں کہ ہم کس طرح کام کریں فشنگ تو بند ہیں لیکن لانچوں کے مالکان اور عملے کو یہاں جمع ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں،بیس لاکھ ماہی گیر ہیں سندھ بھر میں انہیں سو لوگ کیسے روک سکتے ہیں،محکمہ فشریز سندھ کے کہنے پر ماہی گیروں نے شکار پر جانے کے لیے لاکھوں روپے کا راشن لانچوں میں تیار کر لیا تھا یہ ہماری قسمت کے فیصلے ہماری مشاورت کے بغیر کر رہے ہیںانہوں نے کہاکہ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ زیادہ ٹیسٹ کرنے سے زیادہ مریض سامنے آئیں گے تو آخر کب تک حقیقت عوام سے چھپائی جا سکتی ہے حقیقت چھپانے سے کورونا تو ختم نہیں ہو گا۔