وزیراعظم عمران خان اپنی فیلڈنگ تبدیل کر رہے ہیں اب نئے کھلاڑی جہانگیرترین کا مقابلہ کریں گے

وزیراعظم عمران خان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جہاں کی کریم کے مقابلے کے لئے پوری طرح تیار ہیں بلکہ وہ زیادہ جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ جہانگیر ترین اور ان کے ساتھیوں پر حملہ آور ہوں گے وزیراعظم عمران خان نے اپنی فیلڈنگ بھی تبدیل کرلی ہے اور نئے کھلاڑیوں کو آگے لایا جائے گا وزیراعظم عمران خان کو اپنے مخالفین اور پارٹی کے اندرونی معاملات سے پوری آگاہی ہے اور وہ سب کی کمزوریاں جانتے ہیں کسے کیسے بولڈ کرنا ہے اور کون کس طرح کی شارٹ کھیل کر آؤٹ ہو تا ہے یہ انہیں بخوبی علم ہے جب انہیں فاسٹ بولر چاہیے ہوگا تو وہ فاسٹ اٹیک سامنے لائیں گے  اور جس مخالف کے لیے انھیں گوگلی کا ہتھیار استعمال کرنا ہوگا اس کے لئے اسپنر لائیں گےآنے والے دنوں میں مقابلہ انتہائی دلچسپ ہوگا اور وزیراعظم عمران خان ذہنی طور پر سب سے طاقتور مافیہ سے لڑنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں انہیں اس بات کی قطعاً کوئی پرواہ نہیں کی اگر ان کی حکومت خطرے میں پڑتی ہے تو پڑ جائے ۔ادھر سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار صابر شاکر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر چومکھی لڑائی شروع ہوچکی ہے میری کچھ خبروں پر لوگ ناراض ہوئے ہیں اللہ کا شکر ہے میں کسی کے پیرول پر نہیں ہوں نہ عمران خان نہ جہانگیر ترین نا پیپلزپارٹی نا مسلم لیگ ۔جب کسی کے پیرول پر نہیں تو کسی کی پرواہ بھی نہیں اور خبر چھپانا میرا کام نہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر چومکھی لڑائی شروع ہوچکی ہے جہانگیر ترین ناراض ہیں غصے میں ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں رسوا کیا گیا ہے  ان کی پارٹی اور حکومت کے لیے بہت محنت ہے اور ان کا کہنا ہے کہ 60 فیصد لوگ میں لے کر آیا اور میں نے عمران خان کے گلے میں وزارت عظمیٰ کا ہار پہنایا تھا ۔آبشاریں کا کہنا ہے کہ اسی بات پر وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے لوگوں کے کان کھڑے ہوگئے تھے اور اسد عمر سمجھتے ہیں کہ جہانگیر ترین نے وزارت خزانہ سے انہیں فارغ کر آیا تھا اس لیے ایک ٹسل پارٹی کے اندر چل رہی تھی اب آٹا گندم چینی بحران پر ان کو ہی ہوئی اور جب جانگیرترین حساب اختیار اور دیگر کے نام آگئے تبذیر اعظم عمران خان کو کہا گیا کہ ان کے خلاف ایکشن لیں لیکن وہ ڈٹ گئے اور اب وہ ایک اور ہاتھ ڈالنے جا رہے ہیں 25 اپریل کو فرانزک رپورٹ آنی ہے اس دوران وزیراعظم عمران خان نے نہ تو ڈر کر فیصلے کیے ہیں نہ ہی سہم کر فیصلے کیے ہیں اب وہ قرضہ معاف کرنے والے طاقتور لوگوں کے اوپر ہاتھ ڈالنے جا رہے ہیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے دور میں دس سال کے دوران چوبیس ہزار ارب روپے کہاں گئے کس نے کھائے کس نے قرضے معاف کرائے میگاپروجیکٹس میں کیا ہوا کیا نہیں ہوا باہر سے جو فنڈنگ آیا اس کا کیا ہوا اب یہ سارے معاملات کھلیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک اور بڑا معاملہ پرائیویٹ بجلی گھروں کا ہے ہائی پی پی کمپنیوں کے معاملہ کھلنے جا رہے ہیں کہ پورٹ تیار ہوگئی ہے ان کے مالکان بھی بہت بڑے بڑے سرمایہ کار اور صنعتکار ہیں اور ان کے اربوں کھربوں روپے اسٹاک ایکسچینج میں لگے ہوئے ہیں بتایا جا رہا ہے کہ ساڑھے تین سو ارب روپے کا کپڑا ہے اور وزیراعظم عمران خان ان سب طاقتور لوگوں سے لڑنا چاہتے ہیں انہیں فکر نہیں ہیں کہ اگر حکومت کو خطرہ ہے تو کوئی پروا نہیں انہوں نے اسد عمر کو آگے کردیا ہے اپنی فنڈنگ تبدیل کر دی ہے کھلاڑیوں کو بھی تبدیل کرنے جا رہے ہیں کچھ کھلاڑی گراؤنڈ سے باہر چلے جائیں گے اور کچھ نئے کھلاڑی ان کی جگہ آجائیں گے