سیاسی میدان میں بڑی ہلچل ۔اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری کا چرچا کیوں ؟کیا پی ٹی آئی کی حکومت کچھ عرصے کی مہمان ہے ؟

جب سے جہانگیر ترین نے وزیراعظم ہاؤس سے منہ موڑا ہے سیاسی میدان میں بڑی ہلچل مچی ہوئی ہے مرکز اور پنجاب کی حکومتوں کا مستقبل سوالیہ نشان بنا ہوا ہے ۔جہانگیر ترین کے رابطوں میں تیزی آ چکی ہے وزیراعظم عمران خان جوابی حکمت عملی میں تیزی لا رہے ہیں اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ جہانگیر ترین کے خلاف چینی اسکینڈل کی فرانسک رپورٹ 25 اپریل کو آنے سے پہلے پہلے نئے سیاسی دھماکے ہو سکتے ہیں بتایا جا رہا ہے کہ دو نئی لسٹ بالکل تیار ہیں جو دھماکا کریں گی ان میں سے ایک لسٹ قرضہ کمیشن سے متعلق ہے جس میں ان لوگوں کو بے نقاب کر دیا جائے گا جنہوں نے اربوں روپے کے قرضے لے کر معاف کرائے ۔اس طرح ایک نیا پنڈورا بکس کھل جائےگا اور جو لوگ عمران خان کی حکومت گرانے کے لیے اکٹھے ہوسکتے ہیں ان کو اپنی پڑ جائے گی ۔اس حوالے سے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں تو شور مچا ہوا ہے اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی نئی نئی خبریں آرہی ہیں جب سے چینی اسکینڈل پر ایف آئی اے کی رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس میں جہانگیرترین خسروبختیار مونس الٰہی اور شہباز شریف کے بیٹے کا نام آیا ہے تو سیاستدانوں کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ہوئے ہیں سب کو اپنی اپنی فکر لگی ہوئی ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کے خاندان اور ان کے سیاسی مستقبل کا کیا ہوگا ۔مشہور نیوز اینکر اور سابق نگران صوبائی وزیر مبشر لقمان نے اپنے ایک پروگرام میں بتایا ہے کہ شہزادہ عالمگیر کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں انہوں نے رپورٹ دی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے صدر مملکت کو ایک سمری بھجوادی ہے کہ اگر قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کی کوئی کاروائی ہونے لگے تو فوری طور پر صدر اس سمری پر دستخط کردیں اور اسمبلی تحلیل ہوجائے اس کے ساتھ ساتھ دوسری خبریں آئی کے پنجاب کے بڑے بڑے اراکین شہبازشریف سے ملے ہیں اور انہوں نے اپنے معاملات سیدھے کیے ہیں اس ملاقات میں رانا ثناءاللہ اور خواجہ حسان کے ساتھ ساتھ اور لوگ بھی تھے ۔مبشر لقمان نے اپنے پروگرام میں شہزادہ عالمگیر کو بھی آن لائن لیا جنہوں نے بتایا کہ میں نے یہ خبر دی ہے اور میرے باوثوق ذرائع نے مجھے بتایا ہے کہ اس طرح کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے میں نے یہ خبر سنسنی پھیلانے کے لئے نہیں تھی بلکہ میں جانتا ہوں کہ جب اس طرح کی سازشیں ہو رہی ہوتی ہیں تو ایسا ماحول جنم لے لیتا ہے آجکل علیم خان اور مونس الہی بہت سرگرم ہیں پی ٹی آئی کے وہ لوگ جن کو وزارتیں اور فائدے نہیں ملے وہ اب اکٹھے ہوگئے ہیں اس صورتحال میں اگر ریکوزیشن جمع کرا دی جاتی ہے تحریک عدم اعتماد کی تو پھر وزیراعظم کے پاس اسمبلی توڑنے کے لئے ایڈوائس بھیجنے یا سمری بھیجنے کا اختیار نہیں رہتا اس لیے وزیراعظم کے مشیروں نے انہیں سمجھا دیا ہے اور ریگولیشن جمع ہونے کے بعد وزیراعظم کچھ نہیں کر سکیں گے لہذا پہلے سے بندوبست کرلیا گیا ہے ۔کیونکہ بعد میں آئینی اور قانونی ماہرین 1.1 اور سیکنڈ کا حساب لگاتے ہیں کہ ریکوزیشن کتنے بجے جمع ہوئی تھی اور وزیراعظم ہاؤس سے ایڈوائز کتنے بجے جاری کی گئی یہ باتیں بعد میں عدالتوں میں مشکلات پیدا کرتی ہیں مبشر لقمان نے اپنے پروگرام میں کہا کہ میری چڑیل کی خبر ہے کہ مرکز سے پہلے پنجاب میں تبدیلی آنے والی ہے اس پر شہزادہ عالمگیر نے کہا کہ آپ خود حکومت میں رہے ہیں چار وزارتیں چلائی ہیں آپ کے پاس کافی تجربہ اور کافی معلومات ہے میرے پاس بھی یہ اطلاعات ہیں کہ پرویز الہی سرگرم ہوگئے ہیں الیمان اپنے گروپ کے ساتھ تیزی دکھا رہے ہیں پرویز الہی نے مونس الٰہی کو پنجاب میں اپنی گاڑی پانچویں گیئر میں ڈال دینے کی ہدایت دی ہے چوہدری شجاعت بھی پیچھے کھڑے ہیں اب صورتحال مٹی پاؤ جیسی نہیں ہے اور میری اطلاعات ہیں کہ پیچھے فواد چوہدری بھی سرگرم ہیں آنے والے دنوں میں ان کا کردار بھی سامنے آجائے گا مبشر لقمان نے سوال اٹھایا کہ اگر وزیراعظم عمران خان واقعی چینی اسکینڈل کے کرداروں کے خلاف ایکشن لینا چاہتے تھے تو پھر یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ انہوں نے خسرو بختیار کو اکنامک افیئرز جیسی اہم ترین یونیورسٹی کیوں دے دی اس پر شہزادہ عالمگیر کا کہنا تھا کہ یہ حکومت اور پورا نظام زیادہ دن چلنے والا نہیں ہے ایک نگران حکومت آئے گی نیشنل گورنمنٹ پہلے یہ ٹیکنوکریٹ گورنمنٹ اور پھر معاملات آگے بڑھیں گے صادق رومین لوگ ڈھونڈنے جائیں گے پاکستان کے عوام اس نظام سے جان چھوٹنے پر خوش ہوں گے ۔