ملک میں پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام لانے کے لیے ریفرنڈم کرانے پر غور

ملک میں موجودہ پارلیمانی نظام پر طاقتور مافیا ز کے مکمل کنٹرول کی وجہ سے مستقبل کی پالیسی بنانے والے مقتدر حلقے ملک میں صدارتی نظام لانے کے لیے ریفرنڈم کرانے پر غور کر رہے ہیں ۔
صدارتی نظام کے حق میں ریفرینڈم کرانے کے لیے ماحول کو سازگار بنانے کے اقدامات بتدریج کیے جائیں گے ۔

پالیسی ساز دماغوں نے ملک کے مستقبل کے حوالے سے پارلیمانی نظام اور صدارتی نظام کے فوائد اور نقصانات پر تفصیلی جائزہ اور بحث کرانے کے بعد نئے صادق اور امین کھلاڑی میدان میں اتارنے پر غور کیا ہے ۔

موجودہ وزیراعظم عمران خان کے ذریعے جس حد تک ممکن ہو سکا زیادہ سے زیادہ مافیاز کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا نا پسندیدہ کرداروں کو گراؤنڈ سے باہر نکالا جائے گا اور ان کی جگہ نئے کھلاڑی ٹیم میں شامل کیے جائیں گے ۔
ایسے وہ تمام لوگ جنہیں سسلین مافیا یا ڈان کی تعریف کے زمرے میں سمجھا جاتا ہے ایک ایک کرکے سیاسی کھیل کے میدان سے باہر کردیے جائیں گے اور ان کی جگہ مخصوص خارجہ پالیسی بھارت اور افغانستان کے معاملات میں ہاں سے ہاں ملانے والے اور امریکہ اور چین کے معاملے میں جیسا کہا جائے ویسے خاموش رہنے والوں کو آگے لایا جائے گا ۔
پالیسی ساز دماغوں نے موجودہ حکومت کے انتہائی مشکل معاملات کو حل کرنے اور مخالفین کو زیر کرنے کے پلان بنا رکھے ہیں اور اگر کسی موقع پر موجودہ حکومت کا چلنا انتہائی مشکل ہوگیا تو پھر ایک نگران حکومت یا عبوری سیٹ اپ کی تیاری اور اس کے بعد جنرل الیکشن سے پہلے بلدیاتی الیکشن کرانے کی کوشش کی جائے گی بلدیاتی الیکشن کے ذریعے اختیارات کونچلی سطح تک منتقل کیا جائے گا فنڈز کے استعمال کے لیے علاقائی سطح پر نئے نمائندے ڈھونڈے جائیں گے ۔سیاسی جماعتوں پر خاندانی کنٹرول اور شخصیات کے اثر رسوخ کو مرحلہ وار کم سے کم کیا جائے گا ۔
انتہائی مناسب وقت دیکھ کر ملک میں صدارتی نظام کے لیے ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا جائے گا اور اگر سب کچھ حسب منشا طے پا گیا علاقائی اور عالمی حالات نے کوئی نیا مسئلہ کھڑا نہ کیا تو پھر عام انتخابات کی بجائے ریفرینڈم کے ذریعے صدارتی نظام کی حمایت حاصل کرنے کے بعد ملک میں براہ راست صدارتی الیکشن کرایا جائے گا جس طرح امریکا میں براہ راست صدارتی الیکشن ہوتا ہے اور پھر صدر اپنی کابینہ بنا کر حکومت چلاتا ہے کانگریس اور سینٹ کی طرح یہاں پر بھی سینیٹ اور قومی اسمبلی اپنا کام کرتی رہے گی اور ایک نیا آئینی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا ۔
یہ سب کچھ سرکردہ پالیسی ساز دماغوں کی محنت اور مشق کا نتیجہ ہوگا اور اس ٹارگٹ کے حصول میں وقت کی فی الحال کوئی قید نہیں ہے

Salik=Majeed-for-jeeveypakistan.com