جہانگیر ترین حکومت بنا سکتے ہیں تو گرا بھی سکتے ہیں

غالباً 2016 میں کپتان نے کے پی میں تحریک انصاف کی بری کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ اعتراف کیا تھا کہ اللہ کا شکر ہے کہ 2013 میں ہمیں پورے ملک کی حکومت نہیں ملی ورنہ نا تجربہ کاری، نالائقی اور غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے ہم پورے ملک کا بھٹہ بٹھا دیتے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کپتان کے اس اعتراف شکست کے محض دو سال بعد ہی مقتدر طاقتوں نے کیا دیکھ اور سوچ کر پورے ملک کا اقتدار ناتجربہ کار ٹیم کی جھولی میں ڈال دیا جو بلا شبہ اس وقت ایک آسیب کی طرح ملک کے ساتھ چمٹی ہوئی ہے۔
اب تو یہ ایک کھلا راز ہے کہ اس حکومت کے قیام کے لیے کس طرح ترجمان خوش بیان نے 2018 کو تبدیلی کا سال قرار دیا تھا۔ دشمن کو ووٹ کی طاقت سے شکست فاش دینے کا پیغام دیا تھا اور الیکشن جیتنے پر وتعز من تشا۔ کا نعرہٕ مستانہ بلند کیا تھا۔ معروف صحافی اور تبدیلی کے نقیب و نئے پاکستان کے لاٶڈ سپیکر رٶف کلاسرا نے تو جنوبی صوبہ محاذ کے ہراول دستے کے بارے میں صرف واقعاتی شہادت دی ہے کہ ان لوگوں نے کس کی ضمانت پر الیکشن سے قبل اپنی الگ سیاسی شناخت کو برقرار رکھنے اور حکومت ملنے کے بعد کھل کھیلنے کی شرط پر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی ورنہ یہ حقیقت تو اس وقت بھی سارا باغ جانے تھا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ نئے پاکستان کی بنیادوں میں اگر فوجی سیمنٹ، عسکری سریا، جنرل ٹائرز اور کرنل چاولوں کا مکسچر ڈالا گیا ہے تو وہاں جہانگیر ترین کے جہاز، علیم خان کی طاقت پرواز اور مقتدرہ کی ساز باز نے بھی مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ کپتان کی افتاد طبع، ہٹ دھرمی، نا لائقی، واجبی سوجھ بوجھ و برائے نام سیاسی بصیرت کو دیکھتے ہوئے کاری گروں اور بادشاہ گروں نے ایسا اہتمام کیا تھا کہ کپتان کے اقتدار کی کشتی میں اپنے ہی مسافروں کے ذریعے سوراخ کرنے کی گنجائش رکھی جائے۔ یوں بھی ہمارے ہاں یہ سیاسی روایت بڑی توانا رہی ہے کہ جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں۔
سو پی ٹی آئی کی اس حکومت کے ترازو کے ایک پلڑے میں اگر پوری حکومت کو رکھا جائے اور دوسرے میں جہانگیر ترین کو تو بلا شبہ ترین والا پلڑا زیادہ وزنی ہو گا۔ معلوم ہوا کہ جہانگیر ترین نے آہستہ آہستہ حکومتی کشتی سے اپنا بوجھ اتارنا شروع کر دیا ہے۔ وہ پہلے ہی نواز شریف کی نا اہلی کے غیر منصفانہ فیصلے کا تاوان اپنی نا اہلی کی صورت میں ادا کر رہے تھے مگر اب تو احسان فراموش کپتان نے احسان فراموشی کی حد ہی کر دی ہے۔
کپتان گدھے سے گر کر غصہ کمہار پر نکال رہا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ترین نے چینی کے معاملے میں کوئی غیر قانونی یا خلاف ضابطہ کام نہیں کیا ہے۔ یہاں فیصلے پر عملدرآمد کرنے والوں سے زیادہ فیصلہ ساز قصور وار ہیں۔ مراد سعید اور اسد عمر کی ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی اور زبان درازی بہت کچھ عیاں کر رہی ہے۔ کپتان کی شہرت کو جہانگیر ترین کی دولت نے مہمیز دی تھی۔ کپتان اور ترین ایک دوسرے کو ایک عشرے سے زائد مدت سے قریب سے جانتے ہیں۔
جہانگیر ترین ایک عرصہ تک کپتان کے کچن اور سفر و حضر کی ضروریات دل کھول کر پوری کرتے رہے۔ حکومت کے قیام اور چئیرمین سینیٹ کے الیکشن اور عدم اعتماد کے موقعوں پر ترین کا جہاز اڑتا رہا، ایم این ایز اور ایم پی ایز کی خرید و فروخت چلتی رہی، بندوں کو توڑا جاتا رہا اور درہم دینار کے انبار لٹائے جاتے رہے مگر اس وقت کپتان اور اس کے سرپرست سب کچھ دیکھتے بھالتے ہوئے بھی چشم پوشی سے کام لیتے رہے مگر آج اچانک ہی انہیں ترین میں کرپشن، چوری اور ڈاکا زنی کے کرونے دکھائی دینے لگے۔
اپنی نا اہلی سے اب تک جہانگیر ترین بھی علیم خان کی طرح چپ تھے مگر اب جب سیاسی کیرئیر کے ساتھ ان کی اخلاقی اور کاروباری ساکھ کو بھی بری طرح داٶ پر لگا دیا گیا تو وہ بول پڑے۔ انہوں نے بجا کہا کہ وہ چاہیں تو ایک دن میں حکومت گرا سکتے ہیں۔ مہنگائی، بد انتظامی، معاشی بد حالی، کرپشن، چور بازاری اور کرونا کے بوجھ تلے سسکتی محض پانچ ووٹوں پر کھڑی حکومت کے نیچے سے زمین کھینچ لینا ترین اور علیم خان جیسے لوگوں کے لیے کون سا مشکل کام ہے؟
کپتان کی یہ خام خیالی ہے کہ جہانگیر ترین ریحام خان کی طرح انہیں سیاسی حوالے سے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ مگرسب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس بنتے بگڑتے سیاسی منظر نامے میں بادشاہ گر کس طرف کھڑے ہیں؟ کیا کپتان کو لانے والوں نے تقریباً دو سال میں تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں یا ابھی کوئی ہدف باقی ہے؟ کیا کپتان اپنی بچی کھچی ساکھ کی راکھ میں سلگتی چنگاری کو بچاتے ہوئے سیاسی شہادت کا جام نوش کر پائے گا؟ کل تک آفرین، قابل صد تحسین جہانگیر ترین کا نعرہ لگانے والے آج نفرین، بد ترین جہانگیر ترین کا غلغلہ بلند کر کے بھی حکومت بچا سکیں گے؟ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جہانگیر ترین اور ان کی سپاہ دشمن کو ووٹ کی طاقت سے شکست دینے والوں کے اشارے کے منتظر ہیں یا ووٹ کو عزت دو کا نعرہ ٕ مستانہ بلند کرنے والے نواز شریف کے اذن کے؟اس سوال کا جواب آنے والے چند دن میں مل جائے گا۔ تخت گرانے اور تاج اچھالے جانے کا وقت شاید قریب آن پہنچا۔نعیم اختر، راولپنڈی