امریکہ میں کورونا کی تباہی، پاکستانی کمیونٹی خوف کا شکار

کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں میں امریکہ دنیا میں سب سے پہلے نمبر پر آچکا ہے جہاں ساڑھے 19 ہزار کے قریب افراد اس مرض کی وجہ سے موت کے منہ میں جا پہنچے ہیں۔
امریکہ میں میم پاکستانی نژاد افراد بھی اس مہلک وبا سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور بڑھتی ہوئی ہلاکتوں نے کمیونٹی میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے متعدد پاکستانی افراد کا کہنا تھا کہ کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کے بعد سب سے افسوسناک بات ان کی آخری رسومات میں شرکت نہ کر سکنا ہوتا ہے جہاں صرف محدود افراد کو رسائی ملتی ہے اور خوف کی وجہ سے بھی کئی لوگ شریک نہیں ہوتے۔
نیویارک میں پاکستانی قونصل جنرل عائشہ علی کے مطابق صرف نیویارک اور نیو جرسی میں ایک سو کے قریب پاکستانی نژاد افراد کورونا سے ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ امریکہ کے دیگر علاقوں کے اعدادوشمار دستیاب نہیں ہیں۔
عائشہ علی نے پاکستانی اخبار ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اعدادوشمار ہسپتالوں، مردہ خانوں اور مرنے والوں کے خاندان کے افراد کے ذریعے حاصل ہوئے ہیں
تاہم اس حوالے سے اردو نیوز کے رابطہ کرنے پر واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کی ترجمان زوبیہ مسعود کا کہنا تھا کہ مرنے والے پاکستانی نژاد افراد کے حوالے سے اعداد و شمار سفارت خانے کو دستیاب نہیں اس لیے غیر سرکاری ذرائع کے اعداد کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔
 ان کا کہنا تھا کہ صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ بدل رہی ہے تاہم شکاگو، لاس اینجلیس اور ہیوسٹن کے پاکستانی قونصل خانوں سے غیر سرکاری ذرائع سے بھی کوئی موت رپورٹ نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارت خانہ پاکستانی کمیونٹی کے افراد سے رابطے میں ہے اور انہیں ہر طرح کی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ 
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے واشنگٹن میں مقیم پاکستانی سافٹ ویئر انجینئر خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے ان کے ماموں نیویارک میں انتقال کر گئے مگر وائرس کے خوف اور حکومتی قواعد کی وجہ سے ان کی والدہ واشنگٹن میں موجود ہونے کے باجود اپنے سگے بھائی کے جنازے میں شریک نہ ہو سکیں۔
’اپنے خاندان کی نمائندگی کے لیے صرف میں جا سکا۔ اور صرف چند افراد ہی جنازے میں شریک ہوئے۔‘
خرم کا کہنا تھا کہ نیویارک میں ان کی متعدد پاکستانی کورونا کے مریضوں سے بات ہوئی مگر ان میں سے کوئی بھی یہ ماننے کو تیار نہیں کہ انہیں کورونا ہے۔
لوگ اس خوف کا شکار ہیں کہ کورونا سے موت کے باعث انہیں تدفین کے وقت اسلامی رسومات میسر نہیں ہوں گی حالانکہ ان کے ماموں کا باقاعدہ جنازہ پڑھا گیا اور اسلامی طریقے سے انہیں دفن کیا گیا۔
تاہم خرم کے مطابق اس خوف کئ وجہ سے کئی پاکستانی اپنا مرض چھپاتے ہیں۔
نیویارک میں مقیم اوبر ڈرائیور امجد مجید نے اردو نیوز کو بتایا کہ گذشتہ ہفتے ان کے کزن بھی کورونا کے باعث فوت ہو گئے تھے مگر ان کے جنازے میں صرف چار لوگ شریک ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکثر لوگ کورونا سے ہلاک ہونے والے افراد کے جنازوں میں خوف کے باعث شریک نہیں ہوتے۔
امجد کا کہنا تھا کہ ان کے اٹھاون سالہ کزن گذشتہ ماہ ہی پاکستان کے ضلع گجرانوالہ سے نیویارک آئے تھے۔ ’گلا خراب ہونے پر انہیں ہسپتال لے گئے لیکن ڈاکٹر نے انہیں اینٹی بائیوٹک ادویات دے کر رخصت کر دیا۔ تاہم چند دن بعد وہ گھر میں ہی وفات پا گئے۔
امجد کا کہنا تھا کہ وہ اپنے پانچ بچوں اور بیوی کے ہمراہ گھر پر لاک ڈاؤن میں ہیں اور کزن کی وفات کے بعد بہت محتاط ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ میڈیا اور خبروں سے دور رہتے ہیں تاکہ پریشانی اور خوف کا شکار نہ ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ نیویارک میں اور امریکہ کے دیگر شہروں میں متمول پاکستانی اس وقت بوڑھے اور نادار لوگوں کی مدد کے لیے انہیں راشن بھی فراہم کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکہ میں پاکستانی ڈاکٹرز کی بڑی تعداد بھی کورونا کے خلاف ’جنگ‘ میں شریک ہے اور پاکستانی سفارت خانے کے مطابق اٹھارہ ہزار پاکستانی ڈاکٹرز امریکہ بھر میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ان کے کام کو ملک میں تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے وسیم عباسی -اردو نیوز، اسلام آباد