ان کی ناک تلے پوری قوم کو دن دہاڑے لوٹ لیا گیا۔

میر صحافت میر خلیل الرحمٰن کا دایاں بازو اور ر وشن دماغ کہلانے والے میر جاوید رحمٰن خالق حقیقی سے جا ملے۔ صحافت کو مشن زیست سمجھ کر اپنانے والے میر جاوید رحمٰن کی خدمات کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی وفات پر دنیا کے کونے کونے سے ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خاص و عام کے تعزیتی پیغامات کا تانتا بندھا رہا۔ تعزیتی پیغام نہیں آیا تو ہمارے وزیراعظم کا نہیں آیا حالانکہ صرف پی آر او نے جاری کرنا تھا لیکن انہیں کیا، انہوں نے تو برسوں کے ساتھی نعیم الحق کے جنازے میں بھی شرکت کرنے کی زحمت نہ کی۔ خدا میر جاوید رحمٰن کو کروٹ کروٹ جنت اور سکون ابدی عطا فرمائے امین! ان کی بیماری اور وینٹی لیٹر پر منتقلی کی رپورٹ آنے کے باوجود وزیراعظم نے میر شکیل الرحمٰن کو اپنے بڑے بھائی سے ملنے کی اجازت نہ دے کر اپنی سنگدلی پر مہر ثبت کر دی۔ سپریم کورٹ سے ایڈیٹر انچیف جنگ، جیو ٹی وی میر شکیل الرحمٰن کی رہائی کا پروانہ جاری ہوگا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان اور نیب دونوں کو ایک بار پھر شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی تناظر میں حکومت اب کوئی نیا کیس بنانے کیلئے سازش کرنے کی تگ و دو کر رہی ہے اس کے باوجود حکومت کو ناکامی اور شرمندگی ہوگی۔
کورونا وائرس سے کیسے نمٹنا ہے، دنیا کی کیا بات کریں غریب بنگلا دیش نے ہمیں شرمندہ کر دیا ہے۔ چاول مچھلی کھانے والے بنگالیوں نے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تیرہ سو ارب روپے کا پیکیج منظور کر لیا ہے جبکہ ہمارے والے نے مدد کرنے کے بجائے اکائونٹ بناکر نہ صرف چندہ مانگ لیا بلکہ نوجوان بچوں کی خدمات بھی نام نہاد ٹائیگر فورس کیلئے مانگ لیں۔ چینی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور برآمد پر ایف آئی اے کی رپورٹ نےحکومتی ٹائی ٹینک کو بھنور میں پھنسا دیا ہے۔ آٹا اور چینی اسکینڈل سامنے آنے پر انصافین مسلسل بے حسی سے سوشل میڈیا پر کرپشن کا دفاع کر رہے ہیں۔ وہ اسکینڈل پر شرمندہ ہونے کے بجائے مبارکبادیں دے رہے ہیں کہ ہمارے لیڈر نے کچھ نہیں چھپایا۔ تلملائے ہوئے عوام کا کہنا ہے کہ اب فرانزک رپورٹ کی آڑ میں تاخیری حربے استعمال کئے جائیں گے۔ وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری سے استعفیٰ لے لیا گیا ہے، تحریری استعفیٰ میں انہوں نے کہا ہے کہ الزامات کی کلیئرنس تک کیلئے استعفیٰ دیا ہے یعنی ہمارا کو اسفید ہی ہے۔ کیا عوام وزیر خوراک پنجاب سمیع اللہ چوہدری کی یہ توضیح مان لیں گے؟ آٹا چینی بحران پر وزیراعلیٰ پنجاب کے کردار پر خاموشی چھائی ہوئی ہے، ان کے مستعفی نہ ہونے پر صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ محض ایک پیادہ ہیں اور سارے فیصلے وزیراعظم خود کرتے ہیں۔ سارا پاکستان جانتا ہے کہ جہانگیر ترین کو بغیر نوٹیفکیشن جاری کئے ٹاسک فورس کی چیئرمین شپ عطا کی گئی تھی، محکمہ زراعت سمیت دیگر اہم اجلاسوں میں شریک کروایا جاتا رہا۔ اب وہ فرما رہے ہیں کہ جس چیئرمین شپ سے ہٹایا گیا ہے، اس عہدے پر تعینات ہی نہیں کیا گیا، اگر نوٹیفکیشن ہے تو سامنے لائیں۔ یہ ہوتی ہے چوری اور سینہ زوری۔ ٹاسک فورس کی چیئرمین شپ سے جہانگیر ترین کو اور وزیر تجارت رزاق دائود سمیت دیگران کو ہٹانے کا مطلب صاف ہے کہ حکومت کے ہاتھ صاف نہیں ہیں۔ عوام خوشی سے دھمالیں ڈال رہے ہیں کہ خان نے سخت ایکشن لیتے ہوئے خسرو بختیار کو نیشنل فوڈ سیکورٹی کی وزارت سے فارغ کرکے اقتصادی امور کا وزیر بنا کر نشانِ عبرت بنا دیا۔ آٹا چینی بحران کا مطلب ہے کہ اگر یہ عمران خان کے ایما پر ہوا تو وہ صادق و امین نہیں اور اگر وہ اس سے آگاہ نہیں تھے تو وہ وزیراعظم کے عہدے کے اہل نہیں کہ ان کی ناک تلے پوری قوم کو دن دہاڑے لوٹ لیا گیا۔ آٹا چینی بحران رپورٹ میں سبسڈی کا ذکر تو کر دیا گیا لیکن قیمتوں میں اضافے پر کس نے کتنی بھاری رقوم کمائیں، اس پر سرے سے کچھ بھی روشنی نہ ڈالی گئی، جس سے اس رپورٹ کے نامکمل ہونے کا تاثر مضبوط ہوتا ہے۔
چینی بحران کےسب سے بڑے بینی فشری جہانگیر ترین مصر ہیں کہ سبسڈی لی نہیں دی گئی ہے۔ یہ کوئی نہیں بتا رہا ہے کہ 52روپے سے 85روپے فی کلو چینی کی قیمت بڑھانے پر ان سمیت دیگران نے کتنے سو ارب کمائے۔ سٹے بازوں نے کہہ دیا ہے کہ رمضان المبارک میں چینی سو روپے کلو میں ملے گی جو نہایت ہی شرمناک اور افسوسناک ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ تمام کالی بھیڑوں سے ساری دولت نکلوائی جائے اور آٹا اور چینی کی قیمتوں کو پرانی سطح پر بحال کیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو سب ایکشن ڈرامہ ہی کہلائے گا۔ عوام بھولے نہیں کہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں لاک ڈائون نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور اس کی حمایت میں لایعنی دلائل کے ڈھیر لگائے تھے لیکن اگلے روز ہی پنجاب، بعد ازاں کے پی اور بلوچستان کو لاک ڈائون کر دیا گیا۔ سندھ پہلے ہی اعلان کر چکا تھا۔ پتا پتا جان چکا ہے کہ جنہوں نے ملک بھر میں لاک ڈائون کروایا تھا، انہوں نے ہی چینی آٹا بحران رپورٹ کو نہ صرف تسلیم کروایا بلکہ اس پر فوری کارروائی بھی کروائی حالانکہ وزیراعظم نے تو فرانزک آڈٹ کے بعد کارروائی کرنا تھی۔ حکومتی حلقوں نے تو پہلے چینی آٹا بحران رپورٹ لیک ہونے پر اس کی تردید بھی کی تھی۔ انصافی سوشل میڈیا ٹیم رپورٹ کے اجرا اور کارروائی کا کریڈٹ لینے کی بھونڈی کوشش کر رہی ہے۔ اصل کرداروں سے صرف یہی عرض ہے کہ چند دن انتظار تو کر لیتے، وزیراعظم نے کہہ تو دیا تھا کہ پچیس کو فرانزک رپورٹ کے بعد کارروائی کروں گا، کیا آپ کو یقین نہیں تھا؟ سر اتنی بھی کیا جلدی تھی؟Hina-Pervez-Butt-Jang